چدامبرام پاکستان پہنچ رہے ہیں

بھارت کے وزیر داخلہ پی چدامبرام جنوبی مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم سارک کے وزرائے داخلہ کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جمعہ کو اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔

اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی کے نمائندے حفیظ چاچڑ کو بتایا کہ بھارتی وزیر داخلہ پاکستان دورے کے دوران پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک سے علیحدہ ملاقات کریں گے جس میں دہشت گردی اور علاقائی سکیورٹی کے امور پر تبادلہِ خیال کیا جائِے گا۔

بھارت کے وزیر داخلہ پی چدامبرام کی ان کے ہم منصب رحمان ملک سے ہونے والی ملاقات کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔

بھارتی حکام کے مطابق اس ملاقات میں بھارت ممبئی حملوں کے مقدمے میں گرفتار لشکرِ طیبہ کے رہنما ذکی الرحمان لکھوی اور ان کے ساتھیوں تک رسائی کا مطالبہ کرے گا۔

ذکی الرحمان لکھوی اور ضرار شاہ سمیت چھ لوگوں کو انصاف کے کٹہرے تک پہنچانے اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے خلاف کارروائی کے لیے بھارت پاکستان پر دباؤ ڈالے گا۔

یاد رہے کہ پاکستان کی ایک عدالت میں ممبئی حملہ آوروں کی مدد کرنے کے الزام میں ذکی الرحمان لکھوی سمیت چھ افراد قید ہیں اور ان کے خلاف راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔

حکومتِ پاکستان نے اس مقدمے میں ملزمان پر فردِ جرم عاید کر دی ہے۔

اس سے پہلے پاکستان کے سکریٹری خارجہ سلمان بشیر نے اپنی بھارتی ہم منصب نروپما راؤ سے ملاقات کی اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی بحالی کے لیے مذاکرات کا عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس اجلاس میں بھارت نے دہشت گردی کا مسئلہ اٹھایا اور پاکستان میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی پر اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔

دونوں ممالک کے خارجہ سکریٹریوں نے اپنے مذاکرات کو مفید اور تعمیری قرار دیا اور کہا کہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے رخ اور تشویش کو سمجھنے کی کوشش کی۔

ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کی سکریٹری خارجہ نے کہا کہ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی مدد کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور وہ سمجھتی ہیں کہ دونوں کو اس سلسلے میں ایک ساتھ کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت اور پاکستان کو ایسے عناصر کا مقابلہ کرنا چاہیے جو دونوں ممالک کے تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

بعد میں پاکستان کے سکریٹری خارجہ سلمان بشیر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان نے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے سے تعاون کرنے کے لیے کئی قدم اٹھائے ہیں اور مستقبل میں اس کے مثبت نتائج برآمد ہونگے۔

دہشت گردی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دہشت گردی کے مسئلے پر بات ہوگی اور اس کے خاتمے کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھائے جائیں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ سے مارچ کے آخر میں بھوٹان میں سارک سربراہ اجلاس کے موقع پر ملاقات کی تھی اور اعتماد سازی کی بحالی پر اتفاق کیا تھا۔

بھارت اور پاکستان کے سکریٹری خارجہ کا اجلاس بھی اس کی ایک کڑی تھا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے ترجمان عبدالبسط خان نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس سے ہٹ کر بھارتی وزیرِ داخلہ کی اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔

پی چدامبرام سن دوہزار آٹھ کے ممبئی حملوں کے بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیر ہیں۔

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے پی چدامبرام کے دورے سے قبل اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیر سے وہ ان تمام معاملات پر بات چیت کریں گے جو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان تمام مسائل پر شفاف اور کھلے بندوں بات کرنا چاہیں گے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دونوں ملکوں کے نمائندوں کے درمیان ملاقاتیں اور بات چیت کا عمل جاری رہنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات دو سال تک منجمد رہنے کے بعد اب بہتری کی طرف جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کا عمل شروع ہونا ایک مثبت پیش رفت ہے اور اس عمل کو جاری رہنا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ دونوں ملک تمام حل طلب معاملات پر جن میں کشمیر، دہشت گردی، پانی کا مسئلہ، سر کریک اور سیاچن جیسے سرحدی تنازعات شامل ہیں بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے کئی تجاویر تیار کی گئیں ہیں اور اس طرح بھارت کی طرف سے بھی کئی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دونوں ملکوں میں ان تجاویز پر مثبت انداز میں غور کیا جائے گا اور پندرہ جولائی کو بھارت کے وزیر خارجہ کے پاکستان دورے کے دوران ان پر مزید بات چیت ہو گی۔

پاکستان کے وزیر خارجہ کے دورۂ بھارت کے امکان کے بارے میں انھوں نے کہا کہ پندرہ جولائی کے مذاکرات کے بعد ممکن ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ بھارت کا دورہ کریں۔

اسی بارے میں