’ کئی ویب سائٹس بند کرنے کا حکم‘

Image caption گوگل پر بھی پابندی لگانے کا حکم دیا گیا ہے

پاکستان کی وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی نےگوگل اور ہاٹ میل سمیت کئی سرچ انجنز تک رسائی پر پابندی لگانے کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ کے احکامات موصول ہونے کی تصدیق کی ہے۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس بارے میں امکانی طور پر جمعہ کے روز کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ پاکستان کی کسی عدالت نے اتنی بڑی تعداد میں سرچ انجنز بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

وفاقی وزرات انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایک افسر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں جمعرات کے روز سرچ انجنز اور ویب سائٹس پر پابندی لگانے کے بارے میں عدالتی احکامات مل چکے ہیں۔

تاہم انہوں نے کہا کہ ویب سائٹس کو نگرانی کرنے کے لئے وزرات انفارمیش ٹیکنالوجی کی کمیٹی کا اجلاس جمعہ کے روز ہورہا ہے جس میں عدالتی فیصلے کی روشنی میں کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

لاہور ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز پاکستان کے ٹیلی کیمو نیکیشن اتھارٹی یا پی ٹی اے کو حکم دیا کہ وہ نصف درجن سے زیادہ سرچ انجنز تک پاکستان میں رسائی پر پابندی عائد کرے۔

ان میں گوگل، یاہو، ہاٹ میل، ایم ایس این ، بنگ اور ایمازون شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ویڈیو شیرنگ ویب سائٹ یو ٹیوب پر بھی پابندی لگانے کا حکم دیا گیا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے بہاولپور بینچ کے جج جسٹس مظہر اقبال سوھو نے یہ حکم ایک شہری کی درخواست کی سماعت کے موقع پر دیا جس میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ ان سرچ انجنز اور ویب سائٹس پر ایسا مواد شائع کیا جارہا جس سے اسلام کے توہین کا پہلو نکلتا ہے اور یہ کہ قرآن کے بارے میں حقائق کو توڑ موڑ کر پیش کیا جارہا ہے۔

ساتھ ہی عدالت نے نے پی ٹی اے کے لیگل ڈائریکٹر کو ہدایت کی ہے کہ وہ اٹھائیس جون کو عدالت کے روبرو پیش ہوں۔

پی ٹی اے کے ترجمان خرم علی مہران نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرچ انجنز اور یو ٹیوب پر پابندی لگانے کے بارے میں عدالتی فیصلے کی نقل موصول نہیں ہوئی لیکن وزرات انفارمیشن ٹیکنالوجی جو بھی ہدایات دے گی اس پر ضرور عمل درآمد کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے انیس مئی کو حکومت پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر پابندی عائد کی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ نے یہ حکم ایک تنظیم کی درخواست پر دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ فیس بک پر پیغمبر اسلام کے خاکے بنانے کا مقابلہ ہورہا ہے لہذا اس ویب سائٹ پر پابندی لگائی جائے۔

اگلے ہی روز پی ٹی اے نے یوٹیوب کے علاوہ ویکی پیڈیا کے کچھ حصوں کے ساتھ ساتھ کوئی آٹھ سو یو آر ایلز ( یونیفارم رسورس لوکیٹر) یہ کہہ کر بلاک کردیں تھیں کہ ان پر بھی وہی مواد شائع کیا جارہا تھا جس طرح کا مواد فیس بک پر شائع ہورہا تھا۔

ایک ہفتے بعد یو ٹیوب اور دیگر ویب ساٹس تک رسائی پر پابندی ختم کردی گئی تھی جبکہ اکتیس مئی کو لاہور ہائی کورٹ نے فیس بک پر پابندی ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔

لیکن پاکستان میں بلیک بیری موبائل استعمال کرنے والوں کو اب بھی فیس بک تک رسائی پر پابندی ہے۔