تین شدت پسند گرفتار کرنے کا دعویٰ

کراچی پولیس نے تین مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور ان کا تعلق کالعدم لشکر جھنگوی سے بتایا گیا ہے۔

ایس پی سی آئی ڈی فیاض خان کے مطابق ان ملزمان کو لیاقت آباد اور اورنگی سے فائرنگ کے تبادلے کے بعد گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے تین ٹی ٹی پستول بھی برآمد ہوئے ہیں۔

گرفتار ہونے والوں کی شناخت حافظ محمد علی عرف اندھا، طحہ عرف شان اور زاہد شامل ہیں، جن کا تعلق کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی سے ہے۔

پولیس کے مطابق حافظ محمد علی فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگز کے چھ واقعات میں مطلوب تھا، اس کے علاوہ پولیس وین پر حملہ کرکے لشکر جھنگوی کے ملزمان کو چھڑوانے کے واقعے میں بھی ملوث رہا ہے۔

دوسری جانب ملیر کے علاقے میں ندیم عرف بابو مسلحہ افراد کی فائرنگ میں زخمی ہوگیا ہے، اہلسنت و جماعت سابق کالعدم سپاہ صحابہ کے ترجمان احسان فاروقی کا کہنا ہے کہ ندیم ان کا کارکن ہے، جسے لیاقت ہپستال پہنچایا گیا ہے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق گزشتہ ہفتے تک شہر میں فرقہ وارانہ کشیدگی پائی جاتی تھی، جس دوران تشدد کے واقعات میں سولہ کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی کشیدگی کے دوران سٹی کورٹس سے عاشورہ بم دھماکے میں مبینہ طور پر ملوث تین ملزمان فرار ہوگئے تھے، جن کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے، تاہم ان کے وکیل نعمت رندھاوا کا دعویٰ ہے کہ ان کے موکلوں کے فرار ہونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا انہیں کسی خاص مقصد کے لیے فرار یا اغوا کرایا گیا ہے۔

ان کے مطابق پولیس نے عجلت میں مقدمات دائر کیے تھے اور ان کے پاس ایسے کوئی شواہد نہیں تھے جس سے ان کے موکلوں کو سزا ہوسکے۔