پانچ امریکی شہریوں کو دس سال قید

پاکستان کے شہر سرگودھا کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے زیر حراست پانچ امریکی شہریوں کو شدت پسندوں کے ساتھ مل کر پرتشدد کارروائیاں کرنے کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ان کو پندرہ پندرہ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

ان پانچ امریکی شہریوں کو دس دسمبر دو ہزار نو کو صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا میں گرفتار کیا گیا تھا۔

سزا پانے والے امریکی شہریوں میں دو کے اعزہ کا کہنا ہےکہ انھیں یقین تھا کہ ’بچوں کو سزا نہیں ہوگی۔ یہ بچے تو لوگوں کی مدد کیا کرتے تھے اور کیپٹل ہل کے پاس لوگوں کے لیے کھانا لے جایا کرتے تھے۔ ایک ہی محلے میں رہتے تھے اور یتیموں کی مدد کرنا چاہتے تھے۔ ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ان کو اس طرح کی سزا ہوگی۔ بہرحال ہم ہائی کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔‘

امریکی شہریوں پر مقدمے کی تفصیلات

ہمارے نامہ نگار عباد الحق کو سرکاری وکیل ندیم اکرم چیمہ نے بتایا کہ عدالت نے پانچ امریکی ملزمان کو پندرہ پندرہ سال قید اور پچھتر ہزار جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جرمانے کی عدم ادائیگی پر نو ماہ قید مزید کاٹنی ہو گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان امریکی شہریوں کو دو دفعات کے تحت سزا ہوئی ہے۔ سازش کرنے کے جرم میں ان پانچ ملزمان کو دس دس سال قید اور پچاس پچاس ہزار جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔ اور انسداد دہشت گردی ایک کی دفعہ گیارہ این کے تحت ان کو پانچ پانچ سال قید اور پچیس پچیس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی اور نتیجتاً ملزمان دس سال قید کاٹیں گے۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز پانچوں امریکی شہریوں کے خلاف مقدمے کی سماعت سرگودھا جیل کے اندر ہوئی جس کے دوران استغاثہ کے وکیل ندیم اکرم چیمہ اور وکیل صفائی بیرسٹر حسن کھچیلا نے مقدمہ پر حتمی دلائل دیے۔

عدالت نے مقدمہ پر کارروائی مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

خیال رہے کہ امریکی ریاست ورجینیا سے تعلق رکھنے والے ان پانچوں امریکی شہریوں کو نو دسمبر کو سرگودھا میں مقامی پولیس نے حراست میں لیا تھا۔ پولیس کے بقول یہ پانچوں نوجوان امریکی شہریت رکھتے ہیں لیکن ان میں سے دو کا آبائی ملک پاکستان ، ایک کا ایتھوپیا ، ایک ریٹیریا اور ایک کا مصر ہے۔

پاکستان میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ پانچوں امریکی شہری امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارہ ایف بی آئی کو مطلوب ہیں۔

اسی بارے میں