’افغان زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو‘

Image caption پاکستان اور افغانستان کی تہذیب، اقدار اور روایات مشترک ہیں:وزیراعظم گیلانی

پاکستان کے وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی نے افغانستان پر زور دیا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ کوئی بھی ملک افغانستان کی سرزمین بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے استعمال نہ کرے اور یہ کہ دونوں ممالک کو کسی ممکنہ غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے مل جل کر کام کرنا چاہیے۔

سرکاری بیان کے مطابق یوسف رضا گیلانی نے ان خیالات کا اظہار افغانستان کے وزیرِ خارجہ زلمے رسول کے ساتھ بات چیت کے دوران کیا جنہوں نے جمعہ کو اپنے وفد کے ہمراہ ان سے وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔

خیال رہے کہ پاکستان یہ الزام لگاتا رہا ہے کہ بھارت بلوچستان میں مداخلت کر رہا ہے اور اس کے لیے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے اور پاکستانی وزیراعظم کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت کے وزیرِ داخلہ پاکستان کے دورے پر ہیں۔

سرکاری بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیرِاعظم پاکستان نے افغان وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات میں افغانستان کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور مکمل طور پر غیر جانبدداری کا اعادہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان نے تواتر کے ساتھ افغانستان میں مصالحت اور افغانیوں کو دوبارہ معاشرے میں شامل کرنے کے عمل کی حمایت کی ہے کیوں کہ پاکستان اور افغانستان کی تہذیب، اقدار اور روایات مشترک ہیں۔

Image caption افغان وزیرِ خارجہ نے پاکستانی وزیرِ داخلہ سے بھی ملاقات کی

انہوں نے کہا کہ ’اگر ایسی خواہش کا اظہار کیا گیا تو پاکستان افغان حکومت کو اس کے مصالحتی اور افغانیوں کو دوبارہ معاشرے میں شامل کرنے کی عمل میں مدد دینے کے لیے تیار ہے‘۔

سرکاری بیان کے مطابق افغانستان کے وزیر خارجہ زلمے رسول نے وزیراعظم پاکستان کو یقین دہانی کروائی کہ افغان حکومت کبھی بھی کسی ملک کو پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے افغانستان کے لیے پاک افغان تعلقات کو اہم قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کے قریبی تعاون کے بغیر افغان حکومت امن بحال کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کو مصالحت کے بارے میں اپنی حکمت عملی اور افغانیوں کو دوبارہ اپنے معاشرے میں شمولیت کے عمل کی تکمیل کے لیے پاکستان کی حمایت درکار ہے۔

افغانستان کے وزیر خارجہ زلمے رسول رواں سال کے اوائل میں اپنا منصب سنبھالنے کے بعد پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کی دعوت پر پہلی مرتبہ جمعرات کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تھے۔

افغان وزیر خارجہ کا دورہ اسلام آباد امریکی فوجی ہائی کمان میں تبدیلی کی وجہ سے کافی اہیمت اختیار کر گیا ہے۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے وزراء خارجہ نے جمعے کے روز ملاقات کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے بھی خطاب کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دونوں ممالک نے علاقائی سکیورٹی اور ترقی کی خاطر دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف لڑنے کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

افغانستان کے وزیر خارجہ نے اپنے اس دورے میں اپنے پاکستانی ہم منصب کے علاوہ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری، وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی علاوہ پاکستان کی فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ ملاقات کی۔ پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان کے مطابق افغانستان کے وزیر خارجہ اور پاکستان کی فوج کے سربراہ کے درمیان باہمی دلچپسی کے امور پر بات چیت ہوئی۔

اسی بارے میں