’گورنر سندھ کو تبدیل کیا جائے‘

جماعتِ اسلامی مظاہرہ فائل فوٹو

جماعتِ اسلامی نے جمعہ کو کراچی میں کارکنوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دروان گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کو ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔

جماعتِ اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی اور دیگر نے اپنے خطاب میں الزام عائد کیا کہ گورنر ٹارگٹ کلنگ کے ملوث ملزمان کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا ’جب سے ایم کیو ایم وجود میں آئی ہے کراچی میں بدامنی نے جنم لیا ہے، سنی تحریک ہو، مسلم لیگ ہو، سپاہ صحابہ ہو یا جماعتِ اسلامی ہر جماعت کے کارکنوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔‘

محمد حسین محنتی کا کہنا تھا کہ ملک میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہو، مسلم لیگ نواز یا فوجی جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی، ایم کیوایم ہر حکومت میں شامل رہی ہے کیونکہ انہیں تحفظ چاہیے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق گزشتہ روز ایم کیو ایم کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے، جس پر جمعہ کو ایم کیو ایم کے اراکین نے اسمبلی میں احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ کراچی میں لینڈ مافیا، منشیات فروشوں اور فرقہ وارانہ واقعات میں ملوث تنظیموں کے خلاف آپریشن کیا جائے۔

واضح رہے کہ شاہ فیصل ٹاؤن کے علاقے میں کاکڑ ہوٹل کے قریب جمعرات کی شب نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ایک شخص محمد وقار کو ہلاک کر دیا تھا۔

پولیس کے مطابق مقتول کا تعلق متحدہ قومی موومنٹ سے تھا اور وہ مرغیوں کی خرید و فروخت کا کام کیا کرتا تھا۔

مقتول محمد وقار کی نمازِ جنازہ کے موقع پر ہوائی فائرنگ کی گئی جس سے لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی اور کچھ مشتعل افراد نے متعدد دکانوں، ہوٹلوں، موٹر سائیکلوں اور ایک ٹرک کو نذر آتش کر دیا۔

اِس واقعے کے بعد پولیس کوایک کار میں سے ایک نوجوان کی لاش ملی ہے، جس کی شناخت ذیشان کے نام سے کی گئی۔

متحدہ قومی موومنٹ کا کہنا ہے کہ مقتول اُن کا کارکن تھا اور اُسے اغوا کرنے کے بعد گولیاں مارکر ہلاک کیا گیا ہے۔

اس سے پہلے بدھ کو شاہ فیصل کالونی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ میں جماعتِ اسلامی کا چھبیس سالہ کارکن مبین الحق ہلاک ہوگیا تھا۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کی رابط کمیٹی نے صدر آصف علی زرداری اور وزیرِاعظم یوسف رضا گیلانی سے مطالبہ کیا ہے کہ ایم کیو ایم کے کارکنان کےقتل کا نوٹس لیا جائے اور ملوث ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

متحدہ قومی موومنٹ کی رابط کمٹی کے اراکین وسیم آفتاب، واسع جلیل اور دیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں دہشت گردی اور قتل و غارت میں ڈرگ مافیا، لینڈ مافیا، اور اُن کی سرپرستی کرنے والی لسانی تنظیم، مذہب کے نام پر دہشت گردی کرنے والے اور گینگ وار کے ذمہ دار ملوث ہیں۔

ُان کا کہنا تھا کہ کراچی کا امن تباہ کرنے والے اصل دہشت گردوں اور اُن کے سرپرستوں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی اور ایم کیو ایم کے کارکنوں کے قاتلوں کو گرفتار نہ کیا گیا تو کراچی کے پرامن عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوسکتا جس کے نتائج کی ذمہ داری ایم کیو ایم پر عائد نہیں ہوگی۔