وفاقی بجٹ کی منظوری دے دی گئی

فائل فوٹو
Image caption حزب مخالف کے تعاون سے حکومت بجٹ کی منظوری کے لیے صبح شام قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد کر رہی ہے

یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال سنہ دو ہزار دس اور گیارہ کے لیے بتیس کھرب انسٹھ ارب روپے کا بجٹ جمعہ کو قومی اسمبلی نے منظور کرلیا ہے۔

اس بجٹ میں دفاعی اخراجات کے لیے چار کھرب بیالیس ارب بیس کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو کہ رواں سال کے بجٹ سے سو ارب روپے زیادہ ہیں۔

نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق حزب مخالف کی جماعت مسلم لیگ (ن) نے بجٹ کی مخالفت تو کی لیکن منظوری میں نہ تو کوئی رکاوٹ ڈالی اور نہ ہی روایتی ہلڑ بازی کا مظاہر کیا۔ تاہم حزب مخالف کی ایک اور جماعت مسلم لیگ (ق) نے بجٹ کی حمایت کرتے ہوئے اُسے ایک اچھا بجٹ قرار دیتے ہوئے وزیراعظم کو مبارکباد پیش کی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بجٹ پر اتنی طویل بحث ہوئی اور اتنی بڑی تعداد میں اراکین نے بحث میں حصہ لیا۔ وزیر قانون بابر اعوان کے مطابق بارہ روز صبح شام منعقد کردہ سیشنز میں انتالیس گھنٹے سینتیس منٹ تک کارروائی چلی اور ایک سو اکسٹھ اراکین نے بحث میں حصہ لیا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب مخالف چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ کیا اچھا ہوتا کہ گزشتہ برس کی طرح اپوزیشن کی تجاویز شامل کرکے اتفاق رائے سے بجٹ منظور کرایا جاتا۔ انہوں نے اپنی جماعت کے اراکین کی پیش کردہ تجاویز مسترد کیے جانے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ حکومت کے پیش کردہ بجٹ کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے۔

وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ ایوان بالا سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) سمیت تمام جماعتوں نے بجٹ میں ترامیم کے لیے متفقہ طور پر اکسٹھ سفارشات پیش کیں جو حکومت نے بجٹ میں شامل کرلی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) ایوان بالا کی اپنی جماعت کے رہنماؤں کے موقف کی نفی کر رہی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے بعض اراکین نے ریفریجریٹر پر عائد کردہ دس فیصد ٹیکس ختم کرکے سگریٹ اور سگار پر پچہتر فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز پیش کی اور کہا کہ اس سے غریب عوام پر بوجھ نہیں پڑے گا۔

جس پر وزیر خزانہ نے کہا کہ غریب عوام کو تو پینے کا پانی نہیں ہے، ریفریجریٹر تو دور کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریب کے نام پر ٹیکس دینے کی سکت رکھنے والے طبقے کا تحفظ نہ کیا جائے۔

قومی اسمبلی میں جب بجٹ کی منظوری شروع ہوئی تو مسلم لیگ (ن) کے اراکین غیر اعلانیہ طور پر ایوان سے باہر جانے لگے۔ جس پر وزیر محنت و افرادی قوت سید خورشید احمد شاہ نے انہیں روک دیا اور منا کر واپس لے آئے۔ بعد میں مسلم لیگ (ن) کے چیف وہپ شیخ آفتاب اور دیگر نے بھی بجٹ کی منظوری پر وزیراعظم کو مبارکباد دی۔

قومی اسمبلی سے نئے مالی سال کے بجٹ کی منظوری کے بعد اب تیس جون کو ختم ہونے والے رواں مالی سال میں مختص کردہ بجٹ سے زیادہ کیے گئے اخراجات ’سپلیمینٹری گرانٹس‘ کی منظوری کا عمل جاری ہے۔ مقررہ حد سے سب سے زیادہ اخراجات وزارت دفاع نے کیے ہیں جو پینتیس ارب اٹھاسی کروڑ چھپن لاکھ روپوں سے زیادہ ہیں۔

ٹیکس وصول کرنے والے ادارے ’ایف بی آر‘ نے ایک ارب سات کروڑ روپے، وزارت خارجہ نے ساڑھے سینتیس کروڑ روپوں سے زیادہ اور قومی احستاب بیورو نے منظور کردہ سالانہ بجٹ سے تینتیس کروڑ روپوں سے زیادہ کے اخراجات کیے ہیں۔

اسی بارے میں