یہ رپورٹ ہے یا کوئی افسانہ؟

Image caption کراچی سٹیل ملز، پاکستان

سپریم کورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کی جانب سے پاکستان سٹیل ملز میں ہونے والی اربوں روپے کی بدعنوانی کی تحقیقات کے حوالے سے پیش کی جانے والی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا ہے کہ ایف آئی اے کے اہلکار ملزمان سے پوچھ گچھ کرنے کی بجائے اُن سے مُک مُکا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اس بدعنوانی کے تحت کی جانے والی بائیس ارب روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع نہیں ہو رہی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاکستان سٹیل ملز میں ہونے والی بائیس ارب روپے کی بدعنوانی کے ’ازخودنوٹس‘ کی سماعت شروع کی تو ڈائریکٹر لیگل ایف آئی اے محمد اعظم نے اس ضمن میں کی جانے والی تحقیقات سے متعلق ایک رپورٹ پیش کی۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایف آئی اے کے اہلکار پاکستان سٹیل ملز کے سابق چیئرمین معین آفتاب سمیت دیگر زیر حراست ملزمان سے تفتیش جاری ہے۔

چیف جسٹس نےایف آئی اے کے اہلکار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں پیش کی جانے والی رپورٹ سِرے سے ہی تحقیقاتی رپورٹ نہیں لگتی ایسا لگتا ہے کہ کوئی افسانہ عدالت میں پیش کیا گیا ہو۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جُرم ثابت کرنا استغاثہ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس مقدمے کی تحقیقات موثر طریقے سے نہ کی گئی تو تمام تر ذمہ درای ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی ہوگی۔

بینچ میں شامل جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کی حالت یہ ہے کہ اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے افراد ضمانتوں ہر رہا ہو رہے ہیں اور اُن کی ضمانتیں منسوخ کروانے کے لیے اعلی عدالتوں سے رابطہ نہیں کیا جارہا۔

انہوں نے کہا کہ یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ کچھ اہلکار لوگوں کو بلیک میل بھی کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ کوئی چھوٹا موٹا نہیں بائیس ارب روپے کا معامہ ہے اور عدالت اس رقم کو قومی خزانے میں جمع کرواکر ہی دم لے گی۔ عدالت نے اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم سے کہا کہ وہ تین ہفتوں کے اندر اندر اس کی تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کریں۔

اسی بارے میں