سوات: بیس روزہ میلے کا اعلان

سوات میلہ فائل فوٹو

پاکستان کی جنت نظیر وادی سوات میں فوجی آپریشن کے بعد پہلی مرتبہ حکومت نے سیاحت اور تجارتی سرگرمیوں کی دوبارہ فروغ اور ترقی کےلیے انتیس جون سے اٹھارہ جولائی تک بیس روزہ امن میلے کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔

اس میلے کا اہتمام صوبائی ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) ، صوبائی ادارہ برائے تعمیرِ نو، بحالی و آباد کاری اور پاک فوج کی جانب سے مشترکہ طورپر کیا جارہا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ’بیس روزہ میلے کے دوران مینگورہ اور کالام میں مختلف قسم کی رنگارنگ تقریبات کا انعقاد کیا جائےگا جبکہ سیاحوں کی حوصلہ افزائی کےلیے اُن کو مختلف رعائیتں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ میلے کے دوران تمام ہوٹلوں بشمول سوات سیرینا اور پی ٹی ڈی سی کے کرایوں میں پچاس فیصد رعایت ہوگی جبکہ مقامی دستکاریوں اور سوات آنے جانے پر ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی خصوصی رعایت دی جائے گی۔

اُن کے مطابق انتیس جون سے اٹھارہ جولائی تک مینگورہ جبکہ گیارہ سے اٹھارہ جولائی تک کالام میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جارہا ہے جن میں صنعتی، ثفافتی، تصویری نمائش، کشتی رانی، مچھلی کےشکار، بسنت، سرکس، امن ریلی ، مشاعرہ اور کھیلوں کے مقابلے شامل ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ میلے کے انقعاد کےلیے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور مینگورہ سے کالام تک تمام سکیورٹی چیک پوسٹیں اور روکاوٹیں ہٹا دی گئی ہے جبکہ بحرین سے کالام تک سڑک کی مرمت کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔

کالام کے مقامی صحافی رحمت الدین صدیقی نے بتایا کہ میلے کے اعلان کے ساتھ ہی علاقے میں تمام بڑے بڑے ہوٹل کھل گئے ہیں جبکہ سیاحوں کی آمد کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے چند دنوں سے سیاحوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے اور بڑے ہوٹلوں میں تیس سے چالیس فیصد کمرے بک ہونا شروع ہوگئے ہیں۔

ان کے بقول سوات کی رونقیں ایک بار پھر بحال ہورہی ہیں اور اس سے تجارت پیشہ افراد بہت خوش نظر آتے ہیں۔

خیال رہے کہ سوات میں گزشتہ دو تین سالوں سے جاری کشیدگی اور طالبان کی طرف سے وادی کے بیشتر مقامات پر قبضہ نے جہاں ہر شعبہ زندگی کو متاثر کیا وہاں سیاحت کے شعبہ کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا گیا۔

بتایا جاتا ہے کہ سوات میں تقریباً پچاس فیصد افراد کا انحصار سیاحت پر ہے۔ تاہم مئی دوہزار نو میں ہونے والے فوجی آپریشن کے بعد وادی کے زیادہ تر مقامات پر حکومت کی عمل داری بحال کردی گئی ہے۔

اس آپریشن کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سرکاری طورپر سیاحت اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کےلیے کوششوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔

اسی بارے میں