’شدت پسند پھر منظم ہو رہےہیں‘

طالبان جنگجو فائل فوٹو

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں ایک حملے میں ایک افسر سمیت دو فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد یہ خدشہ ایک بار پھر پیدا ہورہا ہے کہ محسود قبائل کے علاقے میں عسکریت پسند بدستور موجود ہیں اور وہ دوبارہ منظم ہونے کی کوششیں بھی کر رہے ہیں۔

جمعہ کو فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز جنوبی وزیرستان میں ہونے والے ایک بم حملے میں فوج کے کیپٹن سمیت دو اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ محسود قبائل کی تحصیل تیرزہ میں بدر کے مقام پر پیش آیا۔

بدر کے بارے میں بتایا جاتا ہےکہ یہ تحریکِ طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود کا آبائی علاقہ ہے جہاں وہ اکثر اوقات گرمیوں کا موسم گزرنے آیا کرتے تھے جبکہ طالبان کمانڈر کا ایک مکان کوٹکی میں بھی ہے۔

کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان کے مرکزی ترجمان اعظم طارق نے بھی دو دن پہلے بی بی سی سے گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ جنوبی وزیرستان میں حکومت کے خلاف نیا محاذ کھولنے کےلیے وہاں پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے احسان اللہ احسان نامی ایک شخص کو اپنا نائب ترجمان مقرر کرنے کا اعلان بھی کیا۔

اُن کے بقول اُن کا نائب وزیرستان کے علاوہ دیگر قبائلی علاقوں اورکزئی، باجوڑ، خیبر اور کُرم ایجنسیوں کےلیے تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان کے طورپر فرائض سرانجام دے گا۔

طالبان کے سابق ترجمان مولوی عمر اور مسلم خان کی گرفتاری کے بعد پہلی بار ایک نائب ترجمان مقرر کیا گیا ہے۔اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ شدت پسندوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم دوبارہ فعال ہو رہا ہے اور وہ ہر محاظ پر خود کو تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

گزشتہ سال اکتوبر میں حکومت نے جنوبی وزیرستان میں بیت اللہ گروپ کے طالبان کے خلاف ’بڑے پیمانے‘ پرفوجی آپریشن کر کے سارے علاقے کو صاف کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس آپریشن کا اعلان تو مارچ دو ہزار نو میں کیا گیا تھا تاہم عملی طور پر کارروائیوں کا آغاز اکتوبر میں چھ ماہ کی تاخیر سے ہوا۔ اس دوران زیادہ تر اہم شدت پسند کمانڈر علاقہ چھوڑ کر دوسرے مقامات پر منتقل ہوچکے تھے۔

آپریشن راہِ نجات کے چند ہفتوں کے دوران ہی عسکریت پسندوں کی طاقت ختم ہوتی نظر آئی اور اس طرح سکیورٹی فورسز کو محسود قبائل کے پورے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل ہوگیا تھا۔

اِن کارروائیوں کے نتیجے میں لاکھوں افراد نے بے گھر ہوکر ڈیرہ اسمعیل خان اور دیگر قریبی علاقوں میں بدستور پناہ لی ہوئی ہے۔

یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ محسود قبائل کے بعض علاقوں میں سکیورٹی دستے پہلی مرتبہ داخل ہوئے اور انہوں نے وہاں مضبوط مورچے بھی قائم کردیے۔

مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ محسود قبائل کے علاقوں کی جانب آنے جانے والے تمام راستوں پر بھی سکیورٹی فورسز کا کڑا پہرہ ہے۔

اب جبکہ مقامی لوگ وہاں پر موجود نہیں اور سکیورٹی فورسز کو پورے علاقے پر کنٹرول بھی حاصل ہے ایسے حالات میں وہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں پرحملے اس بات کا ثبوت ہے کہ شدت پسند یا تو پہلے سے وہاں موجود تھے یا حال ہی میں وہاں پہنچے ہیں اور بظاہر اُن کی طاقت کو کوئی نقصان بھی نہیں پہنچا ہے۔

اکتوبر میں ہونے والے آپریشن کے دوران شدت پسندوں کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی اُن کا کوئی قابلِ ذکر کمانڈر مارا گیا تھا، صرف اُن سے علاقہ خالی کرایا گیا تھا ۔

اگرچہ حکومت کی طرف سے ہزار سے زائد جنگجوؤں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جاتا ہے تاہم آزاد اور مقامی ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

اکثر تجزیہ نگار یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ جب پورے محسود کے علاقے پر حکومت کا کنٹرول ہے تو پھر یہ شدت پسند کہاں سے محسود میں دوبارہ داخل ہورہے ہیں۔

اکثر اوقات طالبان کا طریقئہ واردات یہ رہا ہے کہ وہ عام آبادی کو ڈھال کے طورپر استعمال کرکے حکومت کے خلاف لڑتے ہیں۔ اب جبکہ مقامی لوگ پہلے ہی وہاں سے بے گھر ہوچکے ہیں تو ایسے میں فورسز پر حملے حکومت کےلیے ایک بہت بڑے چیلنج سے کم نہیں۔

شاید محسود قبائل کے علاقے سے نقل مکانی کرنے والے افراد حکومت کی بار بار درخواست کے باوجود اپنے اپنے علاقوں میں جانے سے اس لیے کترا رہے ہیں کہ جب عسکریت پسندوں کی طاقت برقرار ہے تو اِن حالات میں وہ وہاں جاکر چوتھی مرتبہ بے گھر نہیں ہوسکتے اور نہ ہی وہ عسکریت پسند سے لڑ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے جنوبی وزیرستان سے مختلف وقتوں میں آپریشنوں اور جھڑپوں کی وجہ سے تین مرتبہ مقامی افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔

مبصرین کے مطابق صرف ایک واقعہ سے پورے آپریشن پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا تاہم بیت اللہ گروپ کے طالبان کی جانب سے شمالی وزیرستان چھوڑ کر صدر مقام وانا جانا اور پھر وہاں سے اپنے پرانے ٹھکانوں کی جانب دوبارہ رخ کرنا اس جانب اشارہ ضرور کرتا ہے کہ آنے والے دنوں میں وہاں ایک بار پھر کشیدگی کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

اسی بارے میں