جنرل میکرسٹل کی ڈائری

جنرل میک کرسٹل

چھبیس جون دو ہزار دس

کل پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ صبح میری آنکھ دیر سے کھلی اور میں معمول کے مطابق سات میل دوڑنے سے قاصر رہا۔ دوپہر تک بہی خواہوں کی کالز اٹینڈ کرتا رہا۔ تھوڑی سی بلیک کافی اور براؤن بریڈ کا ایک سلائس لیا مگر طبیعت بوجھل ہی رہی اور جانے کس وقت میک آرتھر کی سوانح عمری پڑھتے پڑھتے میں کاؤچ پر ہی پڑے پڑے سوگیا۔ حالانکہ ایسا بہت کم ہوا ہے کہ میں دوپہر میں سویا ہوں۔ ویسے رات کو بھی میری نیند چار گھنٹے سے زیادہ کی نہیں ہوتی۔

بہرحال میں نے ایک عجیب و غریب خواب دیکھا۔ جیسے کسی پاکستانی اخبار کا کوئی رپورٹر میرا انٹرویو لینے آیا ہو اور وہ میری پروفیشنل زندگی کی پوری طرح کھوج میں ہو۔

میں نے اسے بتایا کہ چودہ اگست انیس سو چون کو میں سیالکوٹ میں پیدا ہوا۔ میرے والد ہربرٹ میک کرسٹل میجر جنرل کے عہدے پر پہنچ کر ریٹائر ہوئے۔ ہم چار بھائی اور ایک بہن ہیں۔ ہم نے یا تو فوج میں نوکری کی یا پھر ہماری شادیاں فوجی خاندانوں میں ہوئیں۔ میرا بڑا بھائی سکاٹ میک کرسٹل بھی فوج کی ایجوکیشن برانچ سے بطور کرنل ریٹائر ہوا۔

میں بھی کاکول کے لیے سلیکٹ ہوا اور اپنی خاندانی روایات کی لاج رکھتے ہوئے بہترین کیڈٹ کے طور پر سورڈ آف آنر حاصل کی۔ سنہ چھہتر میں مجھے بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ بلوچ رجمنٹ کی فرسٹ بٹالین کی سی کمپنی میں کمیشن ملا۔ انیس سو اٹھتر میں پلاٹون لیڈر بن گیا۔ پھر میرا سپیشل سروسز گروپ میں سلیکشن ہوگیا اور وہ دن میں کبھی نہیں بھولوں گا جب چراٹ میں ایک امریکی انسٹرکٹر نے دورانِ تربیت میری پرفارمنس پر یہ تبصرہ کیا تھا کہ تم تو پیدائشی جنرل ہو۔

انیس سو اسی میں فورٹ بریگ نارتھ کیرولینا میں ایڈوانس تربیتی کورس کے لیے منتخب ہونے والے میں آٹھ پاکستانی افسروں کے بیچ میں شامل تھا۔ یہ میرا پہلا بیرونِ ملک سفر تھا۔ اس دوران مجھے پاکستانی اور مغربی سماج کے تقابلی مطالعے کا موقع ملا۔ مجھے دکھ ہوتا تھا کہ ہم صلاحیتوں میں کسی سے کم نہیں پھر بھی اپنی فرسودہ سوچ کے سبب پیچھے ہیں۔

بہرحال انیس سو ترانوے میں مجھے لیفٹننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی ملی اور پنوں عاقل میں تعیناتی ہوئی۔انیس سو ننانوے میں بریگیڈیر کے عہدے پر ترقی ملی اور مجھے ففتھ کور کے کراچی ہیڈکوارٹر میں بھیج دیا گیا۔دو ہزار تین میں مجھے بطور میجر جنرل ترقی ملنے کے بعد جنرل ہیڈ کوارٹرز میں ڈائریکٹر ملٹری آپریشنز کی ذمہ داریاں دی گئیں۔ اور اس حیثیت میں تین برس تک نائن الیون کے بعد بدلے ہوئے حالات میں دفاعی حکمتِ عملی کے روایتی نظریات کو جدید حقائق سے ہم آہنگ اور موثر بنانے کے لیے دن رات ایک کیا۔

سنہ دو ہزار چھ میں مجھے الیونتھ کور کی کمان دے کر پشاور بھیج دیا گیا۔ مجھے بطور پروفیشنل فوجی سب سے زیادہ خوشی تب ہوتی ہے جب کوئی چیلنج درپیش ہو۔ الیونتھ کور کی کمان اتنا ہی بڑا چیلنج تھا۔مجھے یہ سوچ کر خوشی ہوتی ہے کہ اس عرصے میں میری کمان طالبان کے سیلاب کا زور توڑنے میں کامیاب رہی اور آج طالبان آگے ہیں اور ہم ان کے مسلسل تعاقب میں ہیں۔

دس جون دو ہزار نو کو مجھے اچانک خبر ملی کہ صدرِ مملکت نے وزیرِ اعظم کی سفارش پر چیف صاحب کے بھیجے گئے تین ناموں میں سے ایک نام اگلے چیف آف آرمی سٹاف کے لیے منظور کرلیا ہے اور یہ نام تھا جنرل سٹینلے میکرسٹل کا۔ میرے لیے یہ خوشی سے زیادہ ایک بہت بڑا پیشہ ورانہ چیلنج تھا۔

پھر وہی ہوا جو ہر چیف کے ساتھ ہوتا ہے۔ پیشہ ورانہ کاموں میں سیاسی مداخلت شروع ہوگئی۔چین آف کمانڈ کا خیال نہ رکھتے ہوئے سیاسی قیادت نے میرے ماتحتوں سے براہ راست رابطوں کو درست سمجھا۔میں نے کئی مرتبہ اشاروں کنایوں میں یہ نکتہ سمجھانے کی کوشش کی۔لیکن مس انڈرسٹینڈنگ بڑھتی چلی گئی۔

میں نے بیس جون دو ہزار دس کو چند سینئر صحافیوں اور اینکرز کو کھانے پر بلایا۔مجھے لگی لپٹی اور گھما پھرا کر بات کرنے کی کبھی بھی عادت نہیں رہی۔لہٰذا میں نے ان صحافیوں کے سامنے پوری صورتِ حال رکھ دی کہ کس طرح بے جا مداخلت کے سبب قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشنز اور جوانوں کے مورال پر اثر پڑ رہا ہے۔اگلے روز جب اخبارات اور چینلز پر اس ملاقات کا احوال سامنے آیا تو میڈیا نے اپنی عادت کے اعتبار سے نمک مرچ لگا کر رائی کا پہاڑ بنادیا۔

میرے خدشات درست ثابت ہوئے حکومتی ایوانوں میں زلزلہ آگیا۔اور مجھے تئیس جون کی شام کو ایوانِ صدر طلب کیا گیا۔میرے سامنے دو ہی راستے تھے۔یا تو برطرفی کا سامنا کروں یا پھر مغربی سرحد پر جاری آپریشن کو ناکامی سے بچانے کے لیے کوئی انتہائی جوا کھیلوں۔

میں نے ایوانِ صدر روانگی سے پہلے اپنے سینئر ساتھیوں سے مشورہ کیا اور انہوں نے مجھے کسی بھی صورتِ حال میں پورے تعاون کا یقین دلایا۔اس اعتماد کی بنیاد پر میں نے بادلِ نخواستہ کڑوی گولی نگلتے ہوئے یہ فیصلہ کیا جس کے نتیجے میں اب ملکی ذمہ داریاں اچانک میرے کاندھوں پر آ گئی ہیں۔ مگر یہ میرا اور میرے ساتھیوں کا اصولی فیصلہ ہے کہ ضرورت سے ایک دن زائد بھی اقتدار میں نہیں رہا جائے گا اور جلد ازجلد پاکستان دوبارہ جمہوریت کی پٹڑی پر آجائے گا۔۔۔۔

مجھے نہیں معلوم اینی کب واپس آئی اور میرا کاندھا جھنجوڑ کر جگایا۔یہ نیند میں تم کیا بڑبڑا رہے تھے۔ارے تمہارا تو ماتھا بھی گرم ہورہا ہے۔۔۔میں نے عینی سے کہا مجھے بلیک کافی بنادو۔۔میک آرتھر کی سوانح عمری بدستور میرے سینے پر دھری ہوئی تھی۔اور تپائی پر واشنگٹن پوسٹ کا وہی دو دن پرانا چیختا دھاڑتا اخبار پڑا ہوتا تھا۔جس میں اوباما کے ہاتھوں میری برطرفی کی سرخی تھی۔۔۔شائد میں اس عجیب و غریب خواب کے بعد دو تین دن تک ڈائری نہ لکھ سکوں گا۔۔۔

اسی بارے میں