جعلی ڈگری:’جعل سازی کا مقدمہ چلایا جائے‘

پاکستان میں سیاسی امور پر کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم نے کہا ہے کہ جعلی ڈگری کی بنیاد پر نا اہل قرار دیے جانے والے بعض اراکین کو انتخاب لڑنے کی اجازت نہ دینا بلا جواز ہے۔

غیر سرکاری تنظیم پلڈاٹ نے مطالبہ کیا کہ جعلی ڈگری کی بنیاد پر دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں حصہ لینے والے اراکین کے خلاف جعل سازی کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ نے اب تک قومی اور پنچاب اسمبلی کے کوئی ایک درجن اراکین کو جعلی ڈگری کی بناء پر نا اہل قرار دیا ہے۔

نااہل قرار پانے والے اراکین کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور سابق حمکران جماعت مسلم لیگ ق سے ہے۔ ان میں سے پانچ قومی اسمبلی جبکہ آٹھ پنچاب اسمبلی کے اراکین ہیں۔ لیکن ان میں بعض ایسے اراکین ہیں جنھیں اعلیٰ عدالتوں نے دوبارہ انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی۔

پلڈاٹ کی جوائنٹ ڈائریکٹر آسیہ ریاض نے بی بی سی اردو کے ذوالفقار علی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’نا اہل قرار دیے جانے والے بعض اراکین کو انتخاب لڑنے سے روکنا بلا جواز ہے۔‘انہوں نے کہا کہ’جعلی ڈگریوں کے مقدمات میں عدالتوں کی طرف سے ایک ہی طرح کا اور واضح فیصلہ آنا چاہیے کیوں کہ یہ بہت مدد گار ثابت ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ’ جب بھی اور جس مرحلے پر بھی اس معاملے پر عدالتیں کوئی فیصلہ کریں تو عدالتوں کو ایک ہی اصول لاگو کرنا چاہیے۔‘

حال ہی میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق وفاقی سیکریٹری کنور دلشاد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخابات کے بعد سے الیکشن کمیشن کو دو سو پینتیس اراکین کی نا اہلی کی درخواستیں موصول ہوئیں، جس میں ستر سے زیادہ جعلی ڈگریوں سے متعلق تھیں۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ مجموعی طور جعلی ڈگریوں والے اراکین کی تعداد ایک سو چالیس سے پینتالیس تک ہے جن میں ایک درجن کے قریب اراکین اسمبلی جعلی اسناد کی بنا پر نا اہل ہوچکے ہیں جبکہ اس نوعیت کے پچاس سے زیادہ مقدمات الیکشن ٹریبونلز میں زیر سماعت ہیں۔

ایسی صورتحال کے پیش نظر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ اگر جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر بڑی تعداد میں اراکین اسمبلی نا اہل قرار دیے جاتے ہیں تو وسط مدتی انتخابات کے لیے راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

لیکن پلڈاٹ کی عہدیدار آسیہ ریاض کا کہنا ہے کہ’ چوہدری نثار نے سیاسی امکانات کی بات کی ہے اور وہ ممکنہ سیاسی بحران کی طرف اشارہ کر رے تھے لیکن قانون میں ایسی کوئی بات نہیں کہ اگر بڑی تعداد میں اراکین نا اہل ہوں تو وسط مدتی انتخابات ہوسکتے ہیں۔‘

پاکستان کی عدالتوں نے کئی اراکین اسمبلی کو جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر نا اہل قرار دیا ہے اور ان میں سے بعض دوبارہ انتخابات لڑکر اسمبلیوں میں بھی پہنچ چکے ہیں۔

جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر نا اہل قرار پانے والے اراکین کے بارے میں پلڈاٹ کی آسیہ ریاض کہتی ہیں کہ’ انھیں نا اہل قرار دینا ہی مسئلے کا حل نہیں بلکہ ان کے خلاف جعل سازی کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے کیوں کہ انہوں نے جان بوجھ کر غلط بیانی کی ہے۔‘

ساتھ ہی ساتھ ان کا کہنا ہے کہ’یہ اراکین دو سال تک لوگوں کے ٹیکسوں سے تنخواہیں اور مراعات حاصل کرتے رہے لہذا عدالتوں کو یہ حکم بھی دینا چاہیے کہ وہ یہ رقم قومی خزانے میں جمع کرائیں کیوں وہ اس کا استحقاق نہیں رکھتے تھے۔‘

سپریم کورٹ نے حال ہی میں الیکشن کمیشن کو ہدایت کی ہے کہ جعلی ڈگری رکھنے والے اراکین کے خلاف کارروائی کریں۔

آئین اور قانون کے مطابق الیکشن کمیشن کسی رکن پارلیمان کے خلاف اس وقت تک کارروائی کا اختیار نہیں رکھتا جب تک انہیں سپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کوئی ریفرنس نہ بھیجیں۔

یاد رہے کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے اراکین پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کی تعلیمی اسناد کی تصدیق کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن سے رجوع کر رکھا ہے۔

پلڈاٹ کی عہدیدار آسیہ ریاض نے کہا کہ ہائر ایجوکیش کی طرف سے اراکین اسمبلی کے ڈگریوں کی جانچ پڑتال میں نہ صرف مہینوں لگ سکتے ہیں بلکہ اس میں قوم اور ملک کا پیسہ ضائع ہوگا۔

لہذا ان کا کہنا ہے کہ’ہمارا جعلی ڈگری کی بنیاد پر انتخابات میں حصہ لینے والے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین سے یہ مطالبہ ہے کہ وہ خود ہی مستعفی ہوجائیں اور وہ قوم سے معافی مانگیں۔‘

واضح رہے کہ پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی طرف سے متعارف کردہ اصلاحات میں گریجویشن کی شرط عائد کی تھی جو اب ختم ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں