کالعدم لشکر جھنگوی کے ملوث ہونے کا دعوی

Image caption کالعدم تنظیم لشکرِ جھنگوی کے ایک ذیل گروپ کے ملوث ہونے کا دعوی

حفیہ اداروں نے دعوی کیا ہے کہ اٹھائیس مئی کو لاہور کے دو محتلف علاقوں ماڈل ٹاؤن اور گڑھی شاہو کے علاقوں میں احمدیوں کی دو عبادت گاہوں پر ہونے والے حملوں میں کلعدم تنظیم لشکر جھنگوی کا ایک ذیلی فرقہ وارانہ گروپ ملوث ہے۔

وزارت داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ خفیہ اداروں نے ان دونوں واقعات سے متعلق ایک رپورٹ وِزارت داخلہ کو بھیجی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ شدت پسند گروپ نے ان حملوں کی منصوبہ بندی حادثہ سے ایک ماہ قبل کی تھی اور اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے آٹھ سے دس افراد پر مشتمل ایک سکواڈ تشکیل دیا گیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس گروپ میں شامل افراد کو ملک کے مختلف علاقوں سے لاکر لاہور کے دوردراز علاقے میں ان حملوں سے تین سے چار روز پہلے رکھا گیا تھا جس کے بعد اُنہیں وقوعہ کے روز ان علاقوں میں روانہ کردیا گیا۔ جن علاقوں سے ان حملہ آوروں کو لایا گیا اُن میں کراچی، حیدر آباد، رحیم یار خان اور بہاولپور کے علاقے شامل ہیں۔

وِزارت داخلہ کو بھیجی جانے والی اس رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ان حملوں میں شامل افراد نے دو دن پہلے نہ صرف علاقے کی ریکی کی بلکہ جائے حادثہ کے اندر لائبریوں میں بھی گئے جہاں پر انہوں نے عمارت کے اندر سیکورٹی کا جائزہ لیا اور وہاں پر حفاظتی اقدامات کم ہونے کی وجہ سے حملہ آور اپنا اسلحہ ان عبادت گاہوں کی چھتوں پر لے گئے تھے۔

وِزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ جس طریقے سے دونوں عبادت گاہوں پر حملے ہوئے اُس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان شدت پسندوں کو کمانڈوز کی تربیت دی گئی ہوگی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے دوسری کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے ساتھ تعلقات کے بارے میں معلوم ہوا ہے تاہم ان حملوں میں ملوث ذیلی تنظیم کے تحریک طالبان سے تعلق کے بارے میں کوئی شواہد نہیں ملے۔

لاہور کے چیف سٹی پولیس افسر اسلم ترین کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں گرفتار ہونے والے دو ملزمان عبداللہ اور معاذ سے دوران تفتیش متعدد معلومات ملی ہیں جو ان حملوں کے ماسٹر مائینڈ تک پہنچنے میں مدد دے گی۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے ملزمان میں عبداللہ کا تعلق کراچی سے ہے اور اُس نے دینی تعلیم بھی وہیں سے حاصل کی تھی جبکہ دوسرے ملزم معاذ کا تعلق رحیم یار خان سے ہے۔

چیف سٹی پولیس افسر نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں ملوث افراد کا تعلق کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کی ایک ذیلی تنظیم سے ہے۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے ملزم معاذ جسے جائے حادثہ سے زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا تھا اُس کو چھڑانے کے لیے جن افراد نے ہسپتال پر حملہ کیا تھا اُن سے متعلق بھی معلومات حاصل کرلی گئی ہیں تاہم انہوں نے اس ضمن میں تفصیلات نہیں بتائیں۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان سے کی جانے والی تفتیش کی روشنی میں ان حملوں میں ملو ث دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اٹھائیس مئی کو لاہور کے دو علاقوں ماڈل ٹاون اور گڑھی شاہو میں احمدیوں کی عبادت گاہوں پر ہونے والے حملوں میں ستر سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان واقعات کے بعد عبادت گاہوں کے باہر سیکورٹی کے اقدمات سخت کردیے گئے ہیں۔