امریکی شہری: سزا کے خلاف اپیل دائر

فائل فوٹو، امریکی شہری
Image caption امریکی ریاست ورجینیا سے تعلق رکھنے والے ان پانچوں امریکی شہریوں کو نو دسمبر کو سرگودھا میں مقامی پولیس نے حراست میں لیا تھا

صوبہ پنجاب کے شہر سرگودھا کی جیل میں قید پانچ امریکی شہریوں نے اپنے سزا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے۔

پیر کو امریکی شہریوں نے لاہور ہائی کورٹ میں اپنے وکیل کے توسط سے ایک مشترکہ اپیل دائر کی ہے ۔

پانچوں امریکی شہریوں کو چار روز قبل سرگودھا کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دو مختلف الزامات میں قید اور جرمانے کی سزائیں سنائیں تھیں۔

امریکی شہریوں پر مقدمے کی تفصیل

سزا پانے والے امریکی شہریوں کی طرف سے ان کے وکیل بیرسٹر حسن دستگیر کچھیلا نےجو اپیل دائر کی ہے اس میں عدالتی فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دینے کے استدعا کی گئی ہے۔

اپیل میں یہ اعتراض اٹھایا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فیصلہ سناتے وقت صفائی کی شہادتوں اور دلائل کو نظرانداز کیا ۔ وکیل صفائی کے بقول جرح کے دوران انہوں نے جو نکات اٹھائے تھے ان پر عدالت کو غور کرنا چاہیے تھا لیکن عدالت نےایسا نہیں کیا ۔

اپیل میں یہ استدعا کی گئی کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج میاں انور نذیر نے امریکی نوجوانوں کو جو سزا سنائی ہے اسے ختم کر کے انہیں بری کیا جائے۔

بیرسٹر حسن دستگیر کچھیلا نے ہمارے نامہ نگار عبادالحق کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی کے فیصلے کے خلاف ان کے موکلوں کو اپیل دائر کرنے کا قانونی حق حاصل ہے اور عدالت کے فیصلے کے بعد سات روز اپیل دائر کی جاسکتی ہے اس لیے انہوں نے قانونی مہلت ختم ہونے سے پہلے اپیل دائر کر دی ہے۔

وکیل صفائی کے بقول یہ بریت کا مقدمہ تھا اورعدالت نے پانچ میں سے دو الزامات پر ان کے موکلوں کو سزا سنائی ہے ۔

ماہرین قانون کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے جو اپیل ہائی کورٹ میں دائر کی جاتی ہے اس پر ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ سماعت کرتا ہے اس لیے اب امریکی شہریوں کی اپیل پر دو رکنی بینچ کارروائی کرے گا۔

خیال رہے کہ امریکی ریاست ورجینیا سے تعلق رکھنے والے ان پانچوں امریکی شہریوں کو نو دسمبر کو سرگودھا میں مقامی پولیس نے حراست میں لیا تھا۔

پولیس کے بقول یہ پانچوں نوجوان امریکی شہریت رکھتے ہیں لیکن ان میں سے دو کا آبائی ملک پاکستان ، ایک کا ایتھوپیا ، ایک ریٹیریا اور ایک کا مصر ہے۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سترہ مارچ کو پانچوں امریکی نوجوانوں پر فرد جرم عائد کی تھی جبکہ انسداد دہشت گردی کے عدالت نے لگ بھگ چھ ماہ تک مقدمے پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران سرکاری وکیل ندیم اکرم چیمہ نے انیس گواہوں کی بیانات ریکارڈ کرائے جبکہ وکیل صفائی بیرسٹر حسن دستگیر نے گواہ تو پیش نہیں کیے البتہ انہوں نے ایسی دستاویزات پیش کی جس وہ یہ ثابت کرسکیں کہ ان کے امریکی موکلوں پر جو الزامات لگائے گئے ان میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

اسی بارے میں