افغان وزارتِ داخلہ اور کرزئی کی مجبوریاں

افغان صدر

افغان صدر حامد کرزئی کو پارلیمان سے اپنی نئی کابینہ کی منظوری لینے میں کافی مشکلات کا سامنا ہے اور بعض وزارتوں پر تقرریوں کے لیے بھی ان کے ہاتھ بندھے دکھائی دیتے ہیں۔ ان وزارتوں پر شمالی اتحاد کے علاوہ ان کے لیے کسی اور کو تعینات کرنا اب تک ناممکن ثابت ہوا ہے۔ اس اہم ترین وزارت کے لیے نئے انتخاب کی بعد اکثر لوگوں کو خدشہ لاحق ہوگیا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کی بیل اب شاید منڈھے نہ چڑھ پائے۔

اس ماہ کے اوائل میں دارالحکومت کابل میں امن جرگے پر طالبان کے راکٹ حملوں کے بعد وزیر داخلہ محمد حنیف اتمر اور افغان خفیہ ادارے کے سربراہ امر اللہ صالح مستعفی ہوگئے تھے۔ جس کے بعد صدر کرزئی نے وزارتِ داخلہ کے لیے بسم اللہ محمدی کو منتخب کیا جن کا تعلق پنجشیر سے ہے۔

سابق وزیر داخلہ محمد حنیف اتمر صوبہ لغمان کے پشتون جب کہ خفیہ ادارے کے سربراہ امر اللہ صالح پنجشیر تاجک تھے تاہم ان دونوں پر پاکستان مخالف ہونے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ امر اللہ تو کئی مرتبہ ببانگ دہل پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی پر افغانستان میں مداخلت کا الزام عائد کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس عہدے سے ہٹانے کی ایک وجہ صدر کرزئی کا طالبان کے لیے نرم گوشہ بھی تھا۔ ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ صدر کی جانب سے طالبان قیدیوں کی سزاؤں میں نرمی کے خلاف تھے۔

دوسری جانب پاکستانی حکام اور انٹیلیجنس کمیونٹی بھی ان دونوں اعلی افغان حکام سے کوئی زیادہ خوش نہیں تھی۔

بسم اللہ محمدی جنرل نہیں ہیں لیکن سال دو ہزار دو کے بعد سے نئی افغان فوج کے سربراہ کے طور پر تقرری کے بعد سے اپنے نام کے ساتھ یہ لاحقہ لگانے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ وہ سال دو ہزار ایک سے قبل شمالی اتحاد کے رہنما احمد شاہ مسعود کے قریبی رفقا میں سے تھے۔ سال دو ہزار ایک میں امریکی حملے کے بعد انہیں کی قیادت میں شمالی اتحاد کے جنگجو کابل میں داخل ہوئے تھے۔ پارلیمان میں ان کے گروپ کی حمایت کی وجہ سے ہی کہا جاتا ہے کہ ان کی توثیق باآسانی ہوئی۔

سینئر افغان صحافی سمیع یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ان پر ماضی میں لینڈ مافیا جیسے گروپوں سے قریبی تعلق کا الزام بھی لگتا رہا ہے۔ ’وہ جارحانہ رویے کے لیے مشہور ہیں اور ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ اکثر اپنے سینئر وزیر دفاع کو سلوٹ بھی نہیں کیا کرتے تھے۔ ان کے بھارت کے ساتھ تعلقات بھی بہتر بنائے جاتے ہیں تاہم سہ فریقی کمیشن کے اجلاس میں شرکت کے لیے وہ کئی مرتبہ پاکستان بھی آ چکے ہیں‘۔

Image caption اب جنگ جیتنے کی بجائے طالبان سے مذاکرات کی باتیں ہو رہی ہیں

افغان حکومت پر شمالی اتحاد کی گرفت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ وزارت داخلہ، فوج اور پولیس جیسے اہم محکمے اس کے زیر اثر ہی رہیں۔ اس بابت بظاہر صدر کرزئی اور شمالی اتحاد کے درمیان غیر تحریری معاہدہ ہے۔ کابل میں خبر رساں ادارے پژواک کے سینئر صحافی زبیر بابکرخیل کہتے ہیں یہ تاثر درست ہے۔ ’وہ جو بیانات جاری کرتے رہے ہیں اور ہم جو ان سے ملے ہیں تو بظاہر ان کی سوچ میں تبدیلی کے آثار دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کا تعلق چونکہ احمد شاہ مسعود جیسے پاکستان مخالف رہنماؤں سے رہا ہے اس لیے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ مکمل تبدیل ہوچکے ہیں‘۔

بسم اللہ کی تقرری ایک ایسے وقت کی گئی ہے جب امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی سرپرستی میں صدر کرزئی طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں میں بظاہر مصروف نظر آتے ہیں۔

تو کیا ان کے آنے سے مذاکرات کی کوششوں کو کوئی دھچکا لگ سکتا ہے؟ سمیع یوسفزئی اس سے متفق دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سابق انٹیلیجنس چیف کو ہٹانے سے صدر کرزئی نے ایک اچھا سگنل طالبان کو بھیجا لیکن اب دوبارہ شمالی اتحاد کے رہنما کی تقرری نے لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔

تو کیا جنرل بسم اللہ طالبان سے مذاکرات کی مخالفت کر کے امریکہ کی ناراضی مول لےسکتے ہیں؟ سمیع یوسفزئی مانتے ہیں کہ شمالی اتحاد کے لوگ طالبان سے مذاکرات کے لیے کبھی بھی تیار نہیں ہوں گے۔ ’امریکیوں کو صدر کرزئی کی کمزوریاں معلوم ہیں‘۔

لیکن صحافی زبیر بابکرخیل سمجھتے ہیں کہ شمالی اتحاد کے پاس مذاکرات کے لیے تیار ہونے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس تقرری سے پاک افغان تعلقات پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا کیونکہ وہ پہلے ہی کافی خراب ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’دونوں ملکوں کے رہنما تو دعویٰ کر رہے ہیں کہ تعلقات اچھے ہیں لیکن جب بھی ایسا دعویٰ لیا جاتا ہے اس کے چند روز بعد ہی تنقیدی بیان بھی سامنے آجاتا ہے‘۔

اسی بارے میں