سرکاری ادارے اربوں روپے کے مقروض

فائل فوٹو
Image caption پاکستان گزشتہ کئی سال سے بجلی کی کمی کا بحران چل رہا ہے

حکومت پاکستان نے اعتراف کیا ہے کہ فوج، ایوان صدر، سپریم کورٹ، آئی ایس آئی سمیت مختلف انٹیلیجنس ایجنسیاں اور پولیس کے علاوہ وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کے مختلف سرکاری ادارے بجلی فراہم کرنے والے اداروں کے دو کھرب بیاسی ارب ستتر کروڑ روپے کے مقروض ہیں۔

یہ بات پانی و بجلی کے وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف نے شیرین ارشد کے پوچھ گئے سوال کے جواب میں قومی اسمبلی میں بجلی کے بل ادا نہ کرنے والے سرکاری محکموں کی پیش کردہ فہرست میں بتائی ہے۔ ان کے مطابق یہ بقایاجات فروری سنہ دو ہزار دس تک واجب الادا تھیں۔

راجہ پرویز اشرف کے مطابق وفاقی حکومت میں سب سے بڑی مقروض وزارتِ دفاع بشمول تینوں مسلح افواج ہیں۔ جن کے ذمے ایک ارب روپے سے زیادہ کے بجلی کے بقایاجات ہیں۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت کے ذمے مجموعی طور پر دو ارب چونسٹھ کروڑ پینتیس لاکھ روپے کا بجلی کا بل واجب الادا ہے۔

وزارت دفاع کے ذمے ایک ارب سے جو زیادہ رقم واجب الادا ہے اس میں جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹر کے ذمے دس کروڑ بیالیس لاکھ، ائر فورس ہیڈ کوارٹر کے ذمے پونے آٹھ کروڑ، بحریہ کے ذمے ایک کروڑ اور آئی ایس آئی کے ذمے تریپن لاکھ روپے واجب الادا ہیں۔ جبکہ باقی رقم ملٹری ڈیری فارم، بارڈر فیلڈز اور ملٹری انجینیئرنگ سروس کے ذمے ہے۔

دفاعی پیداوار، ملیشیا اور سکاؤٹس، کوسٹ گارڈ، وفاقی پولیس، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی، چیف کمشنر اور آرمڈ فورسز، انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی، لاہور، راولپنڈی، پشاور، حیدرآباد، چکلالہ، والٹن ڈیرہ اسماعیل خان کے کینٹونمینٹ بورڈ بھی ڈیفالٹرز میں شامل ہیں اور ان کے ذمے واجب الادا کروڑوں روپے کی رقم وفاقی حکومت کے کھاتے میں ظاہر کی گئی ہے۔

حکومتی فہرست کے مطابق ایوان صدر دو کروڑ روپے سے زیادہ اور چیئرمین سینیٹ (دفتر اور گھر کا بل) پونے تین کروڑ روپے کے ڈیفالٹر ہیں۔ جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ذمے تین ارب تیرہ کروڑ، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے یعنی فاٹا کے ذمے میں ساڑھے پچاسی ارب روپے کے بجلی کے بقایا جات ہیں۔

بجلی کے مقروضوں کی فہرست کے مطابق چاروں صوبوں میں سب سے زیادہ رقم صوبہ سندھ کے ذمے ہے جو اکیس ارب اڑتیس کروڑ روپے بنتی ہے۔ پنجاب کے ذمے تین ارب چونسٹھ کروڑ خیبر پختونخوا کے ذمے ایک ارب سڑسٹھ کروڑ اور بلوچستان کے ذمے میں دو ارب روپے سے زیادہ بجلی کے بقایاجات ہیں۔ جبکہ بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویل کے ذمے بارہ ارب بیس کروڑ روپے کے بقایات اس سے علیحدہ ہیں۔

پانی و بجلی کے وفاقی وزیر سے خالدہ منصور نے لاہور میں قائم سرکاری دفاتر کے ڈیفالٹرز ہونے کا پوچھا تو وزیر نے ایک اور فہرست قومی اسمبلی میں پیش کی ہے جس میں بتایا گیا ہے لاہور میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مختلف اداروں کے ذمے تین ارب روپے سے زیادہ کے بقایا جات ہیں۔

فہرست کے مطابق لاہور میں سپریم کورٹ کے نام پر تیرہ کنیکشن ہیں اور ان کے ذمے چوبیس لاکھ اکتیس ہزار روپے کا بل واجب الادا ہے۔ جبکہ لاہور میں وفاقی شرعی عدالت کے ذمے پونے دو لاکھ، الیکشن کمشنر سوا دو لاکھ، انٹیلی جنس بیورو گیارہ لاکھ، وفاقی تحقیقاتی ایجنس بیس لاکھ، آئی ایس آئی ساڑھے پانچ لاکھ، موٹر وے پولیس پونے سولہ لاکھ اور خود پانی و بجلی کی وزارت ساڑھے چھبیس ہزار روپے کی ڈیفالٹر ہے۔

واضح رہے کہ یہ معلومات پانی و بجلی کے وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف نے پیر کی شام قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران تحریری طور پر پیش کی ہے۔ وقفہ سوالات میں اضافی معلومات جو ضمیمے کی صورت میں پیش کی جاتی ہے وہ صرف سوال کنندہ رکن کو ایوان میں دی جاتی ہے جبکہ اس کی کاپی لائبریری میں رکھی جاتی ہے۔

اسی بارے میں