حکومت عدلیہ کو آنکھیں دکھا رہی ہے: نواز

پاکستان میں حزب مخالف کی جماعت مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت عدلیہ کے ساتھ لڑائی مول لینے کی کوشش کررہی ہے اور عدلیہ کو آنکھیں دکھا رہی ہے۔

ایوان وزیر اعلیْ میں ایک اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ملک کے حالات بہتری کی طرف نہیں جارہے اور اب وقت آگیا ہے کہ تمام معلامات پر جائزہ لینے کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے تاکہ پاکستان کی مزید تباہی کا راستہ روکا جاسکے ۔

مسلم لیگ نون کے قائد کا کہنا ہے کہ ان کو کئی معاملات پر تحفظات ہیں لیکن وہ ایسی صورت حال میں وارننگ کا لفظ استعمال نہیں کرنا چاہتے تاہم اگر حالات کو نہ سدھارا گیا تو ان کو فیصلہ لینا ہوگا۔

لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے یہ بھی الزام لگایا کہ حکومت وکلا کی وفاداریوں کو خریدنے کی کوشش کررہی ہے اور یہ سب کچھ ایک ایسے وقت میں کیا جارہا ہے جب حکومت کی طرف سے عدلیہ فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا اور حکومت عدلیہ کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی ہے۔

ان کے بقول وکلا کو تقسیم کرنے کے لیے پیسے بانٹے جارہے اور وہ ان وکلا تنظیموں کو شاباش دیتے ہیں جہنوں نے حکومتی امداد لینے سے انکار کردیا ۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پارلیمان کے بارے میں پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کا بیان مناسب نہیں ہے کیونکہ بقول ان کے قومی اسمبلی کی ایک ادارے کے طور پر مذمت نہیں کی جاسکتی ۔ان کے بقول پارلیمان کے اندر وہ لوگ بھی ہیں جہنوں نے عدلیہ کی بحالی کے لیے کردار ادا کیا اور ایک آمر کا مقابلہ کیا ۔

نواز شریف کا کہنا ہے کہ آگسٹا آبدوزوں کے سودے میں جن لوگوں نے پیسے لیے ہیں ان کو تلاش کیا جائے۔ انہوں نے اس بات حیرت کا اظہار کیا کہ دس ہزار کنٹینرز غائب ہوگئے لیکن کسی کو معلوم تک نہیں ہوا۔

انہوں نے اس بات افسوس کا اظہار کیا کہ سیکرٹری قانون کے عہدے پر ایسے شخص کا تقرر کیا گیا ہے جو وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان کے ایسوسی ایٹ رہ چکے ہیں۔