ضمنی انتخابات، کون آیا کون گیا۔۔۔

شریف برادران
Image caption شہباز شریف ضمنی انتخاب میں منتخب ہوئے لیکن نواز شریف نے نامزدگی کے باوجود ضمنی انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ کیا

پاکستان میں عام انتخابات کے بعد ضمنی چناؤ کا ہونا ناصرف ایک معمول ہے بلکہ ایک آئینی تقاضہ بھی ہے لیکن اٹھارہ فروری دو ہزار آٹھ کے انتخابات کے بعد جو ضمنی انتخابات ہوئے وہ کئی لحاظ سے منفرد ہیں۔

ضمنی انتخابات میں جہاں بڑے سیاست دانوں کے قریبی رشتہ داروں کو اسمبلی میں پہنچے کا موقع ملا ہے وہیں ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے قائد نے اپنے کاغذات جمع کرانے کے باوجود ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔

ضمنی انتخابات کے منفرد ہونے کی ایک وجہ ان انتخابات میں اُن ارکان اسمبلی کا امیدوار حصہ لینا ہے جو اسمبلی کے رکن تھے لیکن انہوں نے استعفیْ دیا۔ عام طور پر ملک میں ضمنی انتخابات ہونے کی پہلی وجہ اسمبلی کی ان نشستوں کو پر کرنا ہوتا ہے جو بیک وقت ایک ہی امیدوار کئی نشست پر منتخب ہونے کی وجہ سے خالی ہوتی ہیں کیونکہ ایک وقت میں رکن اسمبلی صرف ایک نشست رکھ سکتے ہیں اور باقی انہیں چھوڑنی پڑتی ہیں۔

لیکن اس مرتبہ صرف تین ماہ کے دوران جعلی تعلیمی اسناد کی وجہ ایک درجن کے قریبی نشستوں پر ضمنی انتخاب ہوچکے ہیں اور اسی وجہ سے مزید چار نشستوں پر ضمنی چناؤ کے لیے الیکشن شیڈول جاری کردیا گیا ہے۔ان نشستوں میں صرف تین قومی اسمبلی کی اور ایک پنجاب اسمبلی کی نشست شامل ہے۔

پنجاب میں حکمران جماعت مسلم لیگ نون کے رہنما اور صوبے کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف بھی ضمنی انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے رکن بنے۔ شہباز شریف پنجاب کے ضلع بھکر کی خالی ہونے والی نشست پر بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔

شہباز شریف سے پہلے صوبے کے وزیر اعلیٰ سردار دوست محمد کھوسہ کے والد اور سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی کھوسہ بھی ضمنی چناؤ کے ذریعے پنجاب اسمبلی پہنچے۔ انہوں نے اپنے بیٹے سردار سیف الدین کھوسہ کی طرف سے خالی کی جانے والی صوبائی نشست پر انتخاب لڑا۔ اس طرح جہاں ذوالفقار علی کھوسہ خود اسمبلی رکن ہیں وہاں ان کا ایک بیٹا دوست محمد کھوسہ صوبائی کابینہ کا حصہ ہے اور دوسرا بیٹا سیف الدین کھوسہ قومی اسمبلی کے رکن ہیں۔

وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹے عبدالقادر گیلانی بھی ضمنی انتخابات میں بلا مقابلہ رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے جبکہ وزیر اعظم کے بھائی احمد مجتبیْ گیلانی بھی ملتان کی صوبائی نشست پر ہونے والے انتخاب میں کامیاب ہوئے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں اپنے آبائی شہر ملتان سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر انتخاب لڑا اور دونوں نشستوں پر کامیاب ہوگئے تاہم انہوں نے صوبائی اسمبلی کی نشست چھوڑ دی اور خالی ہونے والی نشست پر اپنے بھائی مرید حسین قریشی کو امیدوار نامزد کیا لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے۔

سابق وزیر اعلیْ اور وفاقی وزیر میاں منظور احمد وٹو عام انتخابات میں دو نشستوں پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور ان کی خالی کی جانے والی قومی اسمبلی کی ایک نشست پر ان کے بیٹے خرم جہانگیر وٹو رکن قومی اسمبلی بنے۔ اس طرح دونوں باپ بیٹا قومی اسمبلی کے جبکہ منظور وٹو کی بیٹی روبینہ شاہین وٹو پنجاب اسمبلی کی رکن ہیں۔

راولپنڈی کے قومی اسمبلی کے حلقہ باون میں نواز شریف کے داماد کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر ضمنی انتخاب میں اسمبلی کے رکن بنے جبکہ مانسہرہ کی خالی ہونے والی نشست پر کیپٹن صفدر کے بھائی طاہر علی کو مسلم لیگ نون نے اپنا امیدوار نامزد کیا لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکے۔

لاہور کے صوبائی اسمبلی کے حلقہ ایک سو ساٹھ میں مسلم لیگ نون کے امیداور ملک سیف الملوک کھوکھر کامیاب ہوئے ہیں جو رکن قومی اسمبلی افضل کھوکھر کے بھائی ہیں۔

مسلم لیگ نون کے رہنما رانا تنویر کی طرف سے خالی کی جانے والی قومی اسمبلی کی نشست پر ان کے بھتیجے رانا افضل حسین ضمنی چناؤ میں رکن اسمبلی بنے جبکہ پنجاب کے ضلع وہاڑی سے نا اہل ہونے والے نذیر جٹ کی جگہ ان کے بھتیجے اضعر جٹ رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ اسی طرح مسلم لیگ نون کے حاجی ناصرمحمود کے نااہل ہونے کے بعد صوبائی نشست پر ان کے قریبی رشتہ دار رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔

راولپنڈی شہر کے قومی اسمبلی کا حلقہ پچپن وہ واحد انتخابی حلقہ ہے جہاں دو سال کے دوران دو مرتبہ ضمنی انتخاب ہوچکے ہیں۔ اس حلقے سے جاوید ہاشمی منتخب ہوئے اور انہوں نے اپنے مد مقابل عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو شکست دی تھی۔ تاہم انہوں نے یہ نشست چھوڑ دی جس پرضمنی چناؤ میں مسلم لیگ نون کے حاجی پرویز خان رکن اسمبلی منتخب ہوئے تاہم ان کو جعلی تعلیمی ڈگری کی وجہ سے استعفیْ دینا پڑا اور دوبارہ اس حلقے میں ضمنی انتخاب ہوا اور شکیل اعوان رکن اسمبلی بنے۔

اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہو کر دوبارہ ضمنی چناؤ میں حصہ لینے والوں میں پیپلز پارٹی کے جمشید دستی، مسلم لیگ قاف کے اعظم چیلہ اور اجمل آصف کے علاوہ مسلم لیگ نون کے سردار بادشاہ خان قیصرانی تو کامیاب ہوگئے لیکن مسلم لیگ قاف کی نغمہ مشتاق دوبارہ منتخب نہ ہوسکیں۔

اعظم چیلہ، اجمل آصف اور نغمہ مشتاق نے مسلم لیگ قاف کی جگہ مسلم لیگ نون کی ٹکٹ پر انتخاب لڑا۔

مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے بھی ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کے کاغذات جمع کرائے لیکن انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے۔ نواز شریف کے علاوہ جانے مانے قانون دان اور سابق وفاقی وزیر چودھری اعتزاز احسن نے عام انتخابات اور ضمنی چناؤ کے لیے کاغذات جمع کرائے لیکن وکلا تحریک کی وجہ سے دونوں مرتبہ اپنے کاغذات واپس لے لیے۔

ضمنی انتخابات میں شیخ رشید اور پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی صدر رانا آفتاب نے عام انتخابات میں شکست کے بعد ضمنی چناؤ میں حصہ لیا لیکن ضمنی انتخابات میں بھی وہ کامیاب نہ ہوسکے جبکہ پیپلز پارٹی کے سابق صوبائی صدر اور سابق قائد حزب مخالف قاسم ضیاء بھی عام انتخابات میں لاہور کے صوبائی حلقہ سے کامیاب نہ ہوسکے لیکن ضمنی چناؤ میں وہ ے فیصل آباد کے صوبائی حلقے سے منتخب ہوگئے۔

اسی بارے میں