افغان فوجیوں کی تربیت: ’درخواست نہیں ملی‘

افغان صدر
Image caption واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس وقت تین سو افغان فوجی بھارت اور ترکی سمیت مختلف ممالک میں پہلے سے زیر تربیت ہیں

پاکستانی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں افغان قومی فوج کے افسران کی تربیت کے لیے افغان حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ درخواست نہیں ملی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی نے قومی فوج کے افسران کو تربیت کے لیے پاکستان بھجوانے پر رضا مندی کا اظہار کر دیا ہے۔ اخبار کے مطابق یہ پاکستان کے حوالے سے افغان حکومت کی پالیسی میں یہ ایک بڑی کامیابی اور تبدیلی جو دونوں ہمسایہ ممالک کے باہمی تعلقات میں بہتری کی علامت ہے۔رپورٹ میں ایسے افغان افسروں کی تعداد نہیں بتائی گئی تاہم اتنا کہا گیا ہے کہ یہ علامتی ہوسکتی ہے۔

ہمارے نامہ نگار ہارون رشید نے اسلام آباد سے بتایا کہ پاکستانی سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں ابھی ایسے کسی فیصلے سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ایک طویل عرصے سے اپنا تجربہ اور تربیت گاہوں کو افغان فوج کی تربیت کے لیے استعمال میں لانے کی درخواست کر رہے ہیں لیکن تاحال انہیں کوئی باضابطہ درخواست نہیں ملی ہے۔

افغان صدر کے سکیورٹی امور کے مشیر اور سابق وزیر خارجہ رنگین دادفار سپانٹا نے اس حوالے سے اخبار کو بتایا کہ اس کا مقصد پاکستان پر واضح کرنا ہے کہ وہ طالبان پر سنجیدہ گفتگو کے لیے تیار ہو۔

پاکستان فوج کا یہ پرانا مطالبہ رہا ہے کہ اسے نئی افغان فوج کی تربیت کا موقع دیا جائے نہ کہ بھارت کو۔ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے بھی اس سال فروری میں غیرملکی صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں اپنی اس خواہش کا اظہار کرتے کہا تھا کہ اس سے قلیل اور طویل مدتی دونوں فائدے ہوں گے۔

صدر پاکستان آصف علی زردای اور وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے گزشتہ ہفتے نئے افغان وزیر خارجہ زلمے رسول افغان فوج، پولیس اور سول اہلکاروں کی تربیت کی پیشکش دوہرائی تھی۔

افغان حکام کو بتایا گیا تھا کہ افغان طلبہ کے لیے حکومت پاکستان نے سکالرشپس بھی دوگنی کر دی تھی۔ بعد میں پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کے ساتھ مشترکہ اخباری کانفرنس میں بھی دونوں نے فوج کی تربیت سے متعلق بات چیت کو خوش آئند قرار دیا تھا۔

ماہرین کے مطابق اس پاکستانی خواہش کا مقصد ایک تو افغانستان میں پائیدار امن کے لیے اپنی نیک نیتی ثابت کرنا اور دوسرا بھارتی اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس وقت تین سو افغان فوجی بھارت اور ترکی سمیت مختلف ممالک میں پہلے سے زیر تربیت ہیں۔

اسی بارے میں