داتا دربار: ہمارے نامہ نگار نے کیا دیکھا

داتا دربار

لاہور کے مصروف ترین علاقے داتا دربار کے تہہ خانے میں واقع لنگر خانے میں جس وقت پہلا دھماکہ ہوا تو اس وقت دربار میں موجود زیادہ تر افراد نے سمجھا کہ اس جگہ پر نصب کیا گیا جنریٹر پھٹ گیا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق یہ دھماکہ تقریباً دس بجکر پچپن منٹ پر ہوا۔

تاہم ابھی دربار کے احاطے میں موجود زائرین پورے طرح سنبھل بھی نہیں پائے تھے کہ ان کے درمیان موجود ایک خود کش بمبار نے پہلا دھماکے سے صرف تین منٹ بعد خود کو حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے مزار سے تیس فٹ کے فاصلے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

اس دھماکہ سے کافی جانی نقصان ہوا۔

مزار کے منتظمین کے مطابق جمعرات کے دن ہفتے بھر میں زائرین کی آمد کے سلسلے میں سب سے زیادہ مصروف دن ہوتا ہے اور جس وقت خود کش دھماکے ہوئے اس وقت ہفتہ وار دعا ہونے والی تھی اور زائرین کی سب سے زیادہ تعداد دربار کے احاطے میں موجود تھی۔

اگرچہ دھماکہ مزار سے صرف تیس فٹ کے فاصلے پر ہوا لیکن اس سے مزار کو کسی طرح کا کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ البتہ مزار کے گرد تعمیر کیے گئے گنبد کے شیشے ٹوٹ گئے۔

داتا دربار کی مسجد اور صحن سنگِ مر مر کا بنا ہوا ہے اور جس جگہ دھماکے ہوئے وہاں چھوٹے چھوٹے گڑھے پڑ گئے ہیں۔

دھماکوں میں ہلاک ہونے والے زائرین کی لاشوں کے ٹکڑے مزار کے گرد صحن میں دور دور تک پھیل گئے ہیں اور ایدھی مرکز کے کارکن اور سرکاری امدادی عملے کے لوگ ان ٹکڑوں کو اکٹھا کر رہے ہیں۔

اس وقت دربار تقریباً خالی ہو چکا ہے اور دو درجن کے قریب زائرین مزار کے قریب موجود ہیں جو مسلسل رو رہے ہیں۔

دربار کے باہر مشتعل مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے وقفے وقفے سے فائرنگ کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں