سخت سکیورٹی میں خود کش حملے کا معمہ

Image caption زخمیوں نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ کڑے حفاظتی انتظامات کے باوجود حملہ آور اندر کیسے داخل ہوئے

داتا دربار پر ہونے والے خودکش حملوں کے زخمیوں اور عینی شاہدین نے اس بات کا تعجب کا اظہار کیا ہے کہ کڑے حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ حملہ آور انتی سخت سکیورٹی کے باوجود دربار کے اندر داخل ہونے میں کیسے کامیاب ہوگئے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے زخمیوں اور عینی شاہدین یہ وہ سوال اٹھایا کہ ہے آخر اتنی سکیورٹی کا بندوبست ہونے کے باوجود خودکش حملہ آور کس طرح دربار کے اندر داخل ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے لیے یہ بات حیران کن ہے کیونکہ دربار پر آنے والوں کی ہر شخص کی چیکنگ ہوتی ہے اور تین تین مرتبہ تلاشی کے بعد اسے دربار میں داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے اسی صورت حال میں حملے آور کیسے اندر گئے اور انہیں کیوں نہ پکڑا گیا۔

میو ہسپتال میں زیر علاج ایک زخمی محمد اسلم نے بتایا کہ پہلا دھماکہ دربار کے تہہ خانے میں ہوا جس کے بعد یہ اعلان کیا گیا کہ کوئی بم دھماکہ نہیں ہوا بلکہ جنریٹر پھٹ گیا ہے اور اسی کے پھٹنے کی آواز آئی ہے۔ ان کے بقول ٹھیک پانچ منٹ کے بعد دوسرا دھماکہ ہوا اور پھر کچھ نظر نہیں آیا اور ہر طرف دھواں ہی دھواں تھا۔

محمد اسلم کا کہنا ہے کہ وہ زخمی حالت میں دربار سے باہر آئے اور ایک موٹر سائیکل سوار سے لفٹ لے کر ہسپتال پہنچے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ کڑے حفاظتی انتظامات کے باوجود حملہ آور اندر کیسے داخل ہوئے اور وہاں معتین سکیورٹی اہلکار کیا کرتے رہے ہیں۔

رفاقت علی داتا دربار میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں زخمی ہوئے اور ان کا کہنا ہے کہ جب پہلا دھماکہ ہوا تو لوگوں نے بھاگنا شروع کردیا لیکن جو اعلان کیے گئے اس کے بعد لوگوں رک گئے لیکن اسی دوران پھر دھماکہ ہوا اور کچھ پتہ نہیں چلا۔ان کے بقول لوگ فضا میں اچھلے ہیں اور پھر لاشیں ہی لاشیں تھیں۔

رفاقت علی نے بتایا کہ دھماکہ میں ان کے ایک چھوٹا بھتیجا بھی زخمی ہوا جبکہ ان کا بھائی بھی دھماکہ کے وقت ان کے ساتھ دربار میں موجود تھا لیکن اب انہیں اپنے بھائی کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے کہ ان کا بھائی کہاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دربار پر سکیورٹی کا کڑا بندوبست کیا گیا اور ایک ہی دروازہ کھلا تھا معلوم نہیں کہ حملے کس طرح دربار کے اندر پہنچا۔

محمد ندیم کا کہنا ہے کہ وہ دھماکہ کی جگہ سے تیس سے چالیس قدم دور تھے اور جیسے ہی پہلے دھماکے کی آواز آئی تو ساتھ یہ اعلان کیا گیا کہ جنریٹر پھٹ گیا ہے جس سے لوگوں مطمن ہوگئے لیکن اس کے بعد جو دھماکے ہوئے اسے ہر طرف انسانی اعضاء بکھر گئے اور خون کی ندی بہہ گئی۔

انہوں نے بتایا کہ دربار پر اچھے خاصے حفاظتی انتظامات تھے اور تین تین مرتبہ تلاشی لی جارہی تھی لیکن ان کے بقول یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اتنی سخت چیکنگ کے باوجود حملہ آور دربار کے اندر کیسے داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

طارق نظامی جن کے جسم پر شدید زخمی آئے ہیں انہوں نے بتایاکہ پہلے دھماکے کے بعد لوگوں نے جب بھاگنا شروع کیا تو اس اعلان کے بعد لوگ مطمن ہوگئے کہ دھماکہ نہیں ہوا بلکہ جنریٹر پھٹا ہے لیکن جیسے ہی لوگ دوبارہ بیٹھے ہیں تو پھر دھماکہ ہوا اور پھر کوئی ہوش نہ رہی ۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنے موبائل فون سے گھر والوں کو دھماکے میں اپنے زخمی ہونے کی اطلاع دی جس کے بعد ان کے گھروالوں نے انہیں ہسپتال سے پہنچایا ۔طارق نظامی نے بھی اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ انتی سکیورٹی کے باوجود اس قسم کا واقعہ کیسے ہوگیا ہے۔

انیس سالہ عبدالرزاق نے بتایا کہ دربار پر دعا مانگنے کے بعد وہ وہاں پر بیٹھ گیا اور اسی دوران زور دار آواز سنائی دی اور اسے ایسا لگ کہ کوئی سلنڈر پھٹ گیا ہے لیکن پھر یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے اور ہر طرف لاشیں تھی اور زخمیوں کی چیخ و پکار کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔

اسی بارے میں