’حملےکے دوررس نتائج نکل سکتےہیں‘

Image caption بعض مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ داتا دربار پر حملہ ملک میں فرقہ ورانہ کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے

حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش اب سے کوئی ایک ہزار برس پہلے جب غزنی سے لاہور تشریف لائے تو شہر سے باہر ٹھیک اسی مقام پر اپنا ڈیرہ بنایا جہاں آج ایک خود کش حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکہ سے اڑا لیا ہے۔

وہ تبلیغ دین کے لیےہندوستان آنے والے اولین بزرگان دین میں سے تھے اور باقی جتنے بھی بڑے نام سننے کو ملتے ہیں ان میں سے بیشتر ان کے اسی مزار پر آکر عبادات کرتے اور چلے کاٹتے رہے۔

مہربان اور نرم مزاج رکھنے والے علی ہجویری کی بیٹھک کے دروازے ہر مذہب کے لوگوں کے لیے کھلے تھے اور ان کے انتقال کے ایک ہزار برس گزر جانے کے بعد بھی ہندومسلم سکھ عیسائی سمیت ہرعقیدے سے تعلق رکھنے والا ان کے مزار پر حاضری دیتا ہے۔

ہندوستان سے لالو پرشاد یادیو پہلی بار لاہور آئے تو ان کی سب سے بڑی خواہش داتا کے دربار پر متھا ٹیکنا تھا۔

علی ہجویری کے مزار کی وجہ سے لوگ لاہور کو داتا کی نگری کہتے ہیں۔عوام میں مقبولیت کو معیار بناکر مذہبی لحاظ سے پاکستان کے مقدس مقام کا تعین کرنا ہو تو شائد داتا دربار سرفہرست ہوگا۔

یہ ایک ایسا مزار ہے جس میں دن رات چوبیس گھنٹے لوگوں کا رش لگا رہتا ہے۔قوالیاں، نذرنیاز، فاتحہ و قرآن خوانی ہوتی ہے اور لوگ اپنی حاجات پوری کرنے کے لیے اس مزار پر آکر دعائیں مانگتے ہیں۔

لاہور کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ داتا کی برکت سے یہاں کوئی شخص بھوکا نہیں سوتا کیونکہ داتا دربار پر چوبیس گھنٹے لنگر کھلا رہتا ہے۔

محنت کشوں کی ایک بڑی تعداد دن بھر مزدوری کے بعد یہیں سے کھانا کھا کر زندگی کو گاڑی کو دھکا لگاتے ہیں۔

داتا دربار کو فرقہ واریت سے بالاتر ایک غیر متنازعہ مقدس مقام سمجھا جاتا تھا لیکن جب رحمان بابا کے مزار پر حملہ کیا گیا اور انہی علاقوں میں کئی مزاروں کو بلڈوز کیا گیا تو داتا دربار پر بھی حملے کے خدشہ کا اظہار کیا گیا۔

گزشتہ برس بریلوی سنیوں کے ایک بڑے عالم مولانا سرفراز نعیمی کی ایک خودکش حملے میں ہلاکت کے بعد داتا دربار کی سکیورٹی میں اضافہ کردیا گیاتھا۔

اس کے تمام چھ دروازوں پر سکیورٹی گارڈ بٹھا دیئے گئے تھے ہر کسی کو تلاشی کے بعد اندر جانے کی اجازت دی جاتی تھی۔

داتادربار پر مستقل جانے والے زائرین نے بتایا کہ یہ سکیورٹی صرف دکھاوے کی تھی اور مرکزی دروازے کے علاوہ باقی دروازوں پر لمبی ڈیوٹی دینے والے چوکیدار تلاشیوں کی بجائے سست انداز میں کرسی پر بیٹھے رہتے تھے۔

خدام کا کہنا ہے کہ ہر جمعرات ایک ایسا دن ہوتا ہے جب لوگوں کے جم غفیر ہوتا ہے اور سب کی تلاشی لینا بہت ہی مشکل کام ہے۔ نذرونیاز کی بہتات ہوتی ہے دیگوں پر دیگیں لنگر خانے میں خالی ہورہی ہوتی ہیں۔کھوے سےکھوا چھلتا ہے اور رات کو نماز عشاءکے بعد محفل اپنے عروج پر ہوتی ہے اور یہی وقت خودکش دھماکہ کرنےوالوں نے حملے کے لیا چنا تھا۔

دھماکہ حضرت علی ہجویری کے قبر کے تعویز سے صرف دس بارہ گز کے فاصلے پر ہوا جب الوداعی دعا ہونے میں صرف پانچ منٹ رہ گئے تھے۔میں جب پہنچا تو سنگ مرمر کے سفیدمزار کا احاطہ داتا کے عقیدت مندوں کے خون میں رنگا ہوا تھا۔زخمی منتقل ہوچکے تھے مبینہ حملہ آور کا آدھا دھڑ ایدھی کی چادرمیں لپیٹ کر اٹھایا گیا۔سبز ٹوپی والے سفید پوش خدام پائپ لائے اور فرش دھونے لگے۔قبر کے قریب ہونے والے دھماکے میں انسانی جانوں کا تو بہت نقصان ہوا لیکن عمارت کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔حضرت علی ہجویری کی قبر کے تعویز کے گرد جو سفید گنبد والی عمارت ہے اس کے شیشے کے ٹکڑے ٹوٹ کر تعویز پر گرے تھے جبکہ گھڑی دس بجکر پچپن منٹ پر رکی ہوئی تھی۔

بعض مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ داتا دربار پر حملہ ملک میں فرقہ ورانہ کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے اس سے پہلے اقلیتی فرقے احمدیوں کی عبادت گاہ پر بھی حملے ہوئے اور شیعہ مسلک کے مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو بھی خون میں نہلایا گیا لیکن بریلوی سنی پاکستان میں اکثریت رکھتے ہیں اور ان کے نزدیک داتا دربار مقدس ترین مقام تھا مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پر حملےکے دوررس نتائج نکل سکتےہیں۔

لاہورمیں گزشتہ چند ماہ کے دوران میں ایک کے بعد دوسرا بڑا حملہ ہوتا چلا جارہا ہے چند ہفتے پہلے احمدیوں کی عبادت گاہوں پر اسی سے زیادہ افراد کو ہلاک کردیا گیا۔اس سے پہلے مون مارکیٹ، ایف آئی اے کی بلڈنگ، آئی ایس آئی کے ہیڈکواٹر اور پولیس ٹریننگ سیٹر سمیت کئی جان لیوا حملہ ہوچکے ہیں لیکن داتا دربار پر حملے کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ اس سے سب سے زیادہ لوگوں کے دلوں کو ٹھیس پہنچے گی۔

پنجاب کی مسلم لیگ حکومت ابھی تک یہ ماننے کو تیار نہیں ہے کہ صوبے میں طالبان کے کوئی ٹھکانے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حملہ آور وزیرستان سے آتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ داتا دربار پر حملے کے بعد اب پنجاب حکومت پر طالبان سمیت شدت پسندوں گروہوں کے خلاف موثر کارروائی کرنے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہوگا۔

اسی بارے میں