’بھارت نے فہرست نہیں دی‘

Image caption بھارت کی جیلوں میں پانچ سو پچاسی پاکستانی قید ہیں جبکہ اٹھارہ پاکستانی فوجی لاپتہ ہیں: دفتر خارجہ

پاکستان نے جمعرات کے روز اپنی جیلوں میں قید بھارتی شہریوں کی فہرست بھارتی حکام کے حوالے کی لیکن پاکستان کے حکام کا کہنا ہے کہ بھارت کی طرف سے انھیں بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی قیدیوں کی فہرست فراہم نہیں کی گئی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدے کے تحت یہ فہرست سال میں دو مرتبہ یکم جنوری اور یکم جولائی کو تبادلہ کرنا ہوتا ہے۔

پاکستان کے وزرات خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزرات خارجہ نے پاکستان میں قید بھارتی شہریوں کی فہرست اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے حوالے کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جیلوں میں چھ سو اڑتالیس بھارتی عام شہری قید ہیں جن میں پانچ سو چوراسی ماہی گیر ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ بھارت نے بھی اپنی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی فہرست آج فراہم کرنی تھی لیکن دوپہر تک انھیں بھارت کی جانب سے کوئی فہرست موصول نہیں ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے پچھلی مرتبہ بھی وہاں کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی فہرست فراہم کرنے میں تاخیر کی تھی اور یکم جنوری کے بجائے یہ فہرست فروری میں پاکستان کے حوالے کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے حال ہی میں ایک ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں بتایا تھا کہ بھارت کی مختلف جیلوں میں پانچ سو پچاسی پاکستانی قید ہیں جبکہ اٹھارہ پاکستانی فوجی لاپتہ ہیں۔

پاکستان نے اٹھارہ پاکستانی فوجیوں کی فہرست بھی بھارتی حکام کے حوالے کی ہے۔ لیکن ان فوجیوں کی بھارت میں قید ہونے کی کبھی بھی تصدیق نہیں ہوئی۔ ان لاپتہ فوجیوں کے بارے پاکستانی حکام کا خیال ہے کہ انھیں سنہ انیس سو پینسٹھ اور اکہتر کے پاک بھارت جنگوں کے دوران قیدی بنایا گیا تھا۔

واضح رہے سنہ دو ہزار تین سے اب تک پاکستان نے تین ہزار بھارتی قیدی رہا کیے ہیں جبکہ ہندوستان نے نوے پاکستانیوں کو رہا کیا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان مئی سنہ دو ہزار آٹھ کے معاہدے کے تحت ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو قیدیوں کی فہرست کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں