’فرقہ واریت کو ہوا دینے کی سازش‘

حامد سعید کاظمی
Image caption وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی نے کہا کہ درباروں کی سکیورٹی صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے

پاکستان کے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی نے لاہور کے داتا دربار پر خودکش حملوں کو فرقہ واریت کو ہوا دینے کی سازش قرار دیا ہے۔

جمعرات کو رات گئے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں داتا گنج بخش کے مزار پر ہونے والے دو خودکش حملوں میں کم سے کم پینتیس زائرین ہلاک اور پونے دو سو زخمی ہو گئے تھے۔

بی بی سی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے حامد سعیدکاظمی نے کہا کہ فوج اور سکیورٹی کے دیگر اداروں پر حملوں کے باوجود دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حکومت کے قدم نہیں ڈگمگائے۔ ’دہشت گرد عناصر فرقہ واریت کو ہوا دے کر اسے گلی کوچوں میں پھیلانا چاہتے ہیں تاکہ حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں گھٹنے ٹیک دے۔‘

درباروں کی سکیورٹی کے بارے میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی نے کہا کہ یہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر صوبائی حکومتیں درباروں کو تحفظ دینے میں مسائل سے دوچار ہیں تو انہیں وفاق سے مدد مانگنے میں ہچکچانا نہیں چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جو دربار نجی طور پر چلائے جا رہے ہیں، وہاں کی انتظامیہ اپنے تئیں سکیورٹی کے مناسب انتظامات ضرور کرتی ہے تاہم جو دربار محکمۂ اوقاف کے زیرِ انتظام ہیں، وہ نجی طور پر سکیورٹی کے انتظامات کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

حامد سعید کاظمی نے مزید کہا کہ اوقاف کے محکمے مکمل طور پر صوبائی حکومتوں کی زیرِ نگرانی ہیں اور وزارتِ مذہبی امور ان سے رابطے میں ضرور رہتی ہے لیکن ان کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتی۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے کہا کہ وہ فوری طور پر صوبائی حکومتوں سے رابطہ کریں گے تاکہ درباروں کی سکیورٹی کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی ترتیب دی جا سکے۔

اسی بارے میں