مزاروں، گدی نشینوں پر حملے

لاہور میں داتا دربار پر ہوا خودکش حملہ پاکستان میں کسی مزار پر ہوا سب سے بڑا جان لیوا حملہ ثابت ہوا ہے۔ لاہور میں پینتیس ہلاکتوں کے مقابلے میں اس سے قبل اسلام آباد کے قریب بری امام کے مزار پر خودکش حملے میں بیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پانچ مارچ سال دو ہزار نو

صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور کے مضافات میں چمکنی کے علاقے میں نامعلوم افراد نے مزار کے ستونوں کے ساتھ دھماکہ خیز مواد رکھ کر پشتو کے مشہور صوفی شاعر رحمان بابا کے مزار کو تباہ کر دیا۔ اس مزار کے چوکیدار کے مطابق اسے تین روز قبل فون پر دھمکی ملی تھی کہ مزار پر عورتوں کے آنے جانے کو روکا جائے ورنہ۔۔۔۔

چھ مارچ سال دو ہزار نو

نوشہرہ میں واقع بہادر بابا کے مزار کو نامعلوم افراد نے بموں سے نقصان پہنچایا۔ تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

گیارہ مئی سال دو ہزار نو

خیبر ایجنسی میں لنڈی کوتل سب ڈویژن میں مقبول پشتو شاعر امیر حمزہ خان شنواری کے مزار کی بیرونی دیوار کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا۔

مارچ سال دو ہزار آٹھ

پشاور سے ملحق قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سرگرم لشکر اسلام نے صوبائی دارالحکومت کے قریب شیخان کے علاقے میں چار سو سال پرانا ابو سید بابا کا مزار تباہ کرنے کی کوشش ناکام بنانے کے دوران جھڑپ میں دس افراد ہلاک کر دئے تھے۔

اکتیس جولائی سال دوہزار سات

قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں شدت پسندوں نے اسلام آباد میں لال مسجد آپریشن کے بعد برطانوی سامراج کے خلاف لڑنے والے حریت پسند حاجی صاحب تورنگزئی کے مزار پر قبضہ کر لیا۔ صدر مقام غلنئی سے پچیس کلومیٹر شمال میں اس مزار اور اسے قریب مسجد کو شدت پسندوں نے لال مسجد کا نام دے دیا تھا۔ کئی روز تک جاری رہنے والا یہ قبضہ بعد میں شدت پسند پرامن طور پر ختم کر دیا۔

اٹھارہ دسمبر سال دو ہزار سات

عبدالشکور ملنگ بابا کے مزار کو دھماکے سے نقصان پہنچایا گیا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

دو ہزار پانچ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں معروف بری امام کے مزار پر پانچ روزہ سالانہ عرس کے اختتامی دن ایک خودکش حملے میں بیس افراد ہلاک جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ اس کے بعد سے سکیورٹی کو وجہ بتا کر آج تک مقامی انتظامیہ نے عرس کی اجازت نہیں دی ہے۔ یہ مزار سنی اور شعیہ دونوں میں مقبول ہے اور ملک بھر سے عقیدت مند یہاں آتے ہیں۔

شدت پسندوں کا ہدف گزشتہ برسوں میں محض صوفی مزار نہیں رہے بلکہ بعض کے گدی نشینوں نے بھی جان کھوئی ہے۔ تکفیری سوچ و نظریات کے حامل ان شدت پسندوں کو ان سیاسی و سماجی مقبولیت پانے والے گدی نشینوں کا بھی دشمن بنا دیا۔

خیبر ایجنسی میں منگل باغ کے لشکر اسلام نے سال دو ہزار آٹھ میں پیر سیف الرحمان کو شدید جھڑپوں کے بعد علاقہ بدر کر دیا تھا۔ ان کے علاقے سوات کے گدی نشین پیر سمیع اللہ کو دسمبر میں شدت پسندوں کے خلاف لشکر کشی کے بعد ایک جھڑپ میں ہلاک کر دیا گیا۔ ان کی لاش کو بھی بعد میں قبر سے نکال کر مینگورہ کے ایک چوراہے پر لٹکا دیا گیا تھا۔

ضلع جھل مگسی میں فتح پور کے مقام پر ایک مزار پر حملے میں تیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس وقت کے صوبائی پولیس سربراہ نے اس حملے کی ذمہ داری کالعدم سپاہ صحابہ پر ڈالی تھی اور اس کے چند مبینہ اراکین گرفتار بھی کیے۔

اسی بارے میں