بریلوی دیوبندی تاریخ اور اختلافات

ڈاکٹر مبارک علی
Image caption ڈاکٹر مبارک علی کی رائے ہے کہ سعودی عرب کا دیوبند مسلک کے فروغ میں اہم کردار رہا ہے۔

برصغیر میں بریلوی اور دیوبند مسالک میں اختلافات کا سلسلہ تو کئی دہائی پرانا ہے مگر ان میں شدت پاکستان کے قیام کے بعد دیکھی گئی ہے۔

دونوں مسالک کی بنیاد ہندوستان میں پڑی یعنی دیوبند اور رائے بریلی میں۔

تاریخی مطالعے کے مطابق بریلوی مسلک کے لوگوں نے انگریز حکومت کے خلاف جہاد سے انکار کیا اور آج بھی اس کو جاری رکھا ہوا ہے۔

نامور تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی کا کہنا ہے کہ اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کے دس سال بعد دیوبند مدرسہ کا قیام عمل میں آیا، جس کا یہ مقصد تھا کہ چونکہ اب مغلوں کی حکومت نہیں رہی لہذا یہاں مسلمانوں کے مسائل کے حل کے لیے ایک پلیٹ فارم بنایا جائے اور اپنی علیحدہ شناخت کو برقرار رکھا جائے۔

’یہ احیائے اسلام کے حامی لوگ تھے، جن کا خیال تھا کہ اسلام میں کافی رسومات داخل ہوگئی ہیں جنہیں نکال کر خالص اسلامی رسومات اور تعلیمات پر عمل کیا جائے۔ دیوبند کے اس نظریے نے بڑی مقبولیت حاصل کی اور نہ صرف ہندوستان بلکہ دیگر مسلم ممالک سے بھی یہاں طالب علم آنے لگے تھے۔‘

ڈاکٹر مبارک علی بتاتے ہیں کہ بریلوی فرقہ بہت بعد میں سامنے آیا۔ ’احمد رضا خان بریلوی جو رائے بریلی سے تعلق رکھتے تھے انہوں نے انیس سو بیس کے قریب یہ مکتبہ فکر قائم کیا، جن کا یہ موقف تھا کہ ہندوستان میں رہتے ہوئے بہت ساری رسومات چونکہ مسلمانوں نے اختیار کرلی ہیں لہذا اب انہیں نکالنا نہیں چاہیے۔ ان رسومات میں مزاروں کی زیارت، منتیں ماننا، نذرو نیاز، فاتحہ خوانی، اور موسیقی شامل تھیں جنہیں دیوبندی نہیں مانتے تھے۔‘

بقول ڈاکٹر مبارک علی کے اس وقت دیوبند مسلک کے لوگوں کا تعلق دیہات اور نچلے طبقے سے تھا جبکہ بریلوی مسلک کے لوگ شہروں اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔

برصغیر کی تاریخ اور مذہبی علما کے سیاسی کردار کے بارے میں کئی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر مبارک علی کا کہنا ہے کہ دیوبندی اور بریلوی ایک دوسرے سے ضرور شدید اختلافات رکھتے تھے مگر انگریزوں کے دور حکومت میں قتل و غارت یا اس بنیاد پر ایک دوسرے کو جان سے مارنے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ ’یہ شدت پسندی پاکستان بننے کے کئی سال بعد آئی ہے جس میں اب اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ ورنہ انگریزوں کے دور میں یہ ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے بھی دیتے تھے، ایک دوسری مساجد میں نہیں جاتے یا ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے تھے۔‘

ڈاکٹر مبارک علی کا خیال ہے کہ علاقائی پس منظر بھی اس بارے میں اہمیت رکھتا ہے، ان کے مطابق پاکستان میں خیبر پختون خواہ میں کافی لوگ دیوبند مسلک سے تعلق رکھتے ہیں یہاں کے لوگ مدرسوں میں پڑھنے جایا کرتے تھے اس کے بعد انہوں نے اسی طرز کے مدرسے یہاں بھی تعمیر کیے۔

’یہ پہاڑی اور خشک علاقہ ہے ان کی زندگی میں رنگینی زیادہ نہیں اس لیے انہیں دیوبند نظریہ فکر زیادہ پسند آیا۔ اس کے برعکس بریلوی مسلک میں زندگی کے آثار ہیں۔ وہ نعت خوانی بھی کرتے ہیں ہر تہوار پر خصوصی کھانا پکاتے ہیں اور عرس منایا جاتا ہے۔ دیوبندیوں میں کلچرل پہلو بلکل بھی نہیں اور نہ کوئی رنگینی ہے۔ اس وجہ سے بریلویوں میں ذہنی لحاظ سے زیادہ وسعت ہے جبکہ دیوبند زیادہ تنگ نظر ہیں۔‘

ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق تحریک جہاد جو تحریک محمدیہ بھی کہلاتی ہے کے بانی سید احمد شہید جب حج کرنے سعودی عرب گئے تھے تو وہاں وہ بھی وہابی تحریک سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے سرحد میں اسلامی حکومت قائم کرنے بھی کوشش کی تھی وہ بھی وھابی نقطہ نظر کے حامی تھی اور کسی بھی رسم کو نہیں مانتے تھے ان کا علاقے میں کافی اثر رسوخ تھا اور لوگ ان سے متاثر تھے۔

دیگر کئی دانشوروں اور مصنفوں کی طرح ڈاکٹر مبارک علی کی بھی رائے ہے کہ سعودی عرب کا دیوبند مسلک کے فروغ میں اہم کردار رہا ہے۔ بقول ان کے انیس سو ستر کی دہائی میں جب سعودی عرب میں تیل کی پیداوار کے بعد دولت کی ریل پیل ہوئی تو وھابی اسلام پاکستان میں شدت کے ساتھ آیا ہے۔

’بریلیوں کو باہر سے کوئی سرپرستی نہیں ملی۔ اس کے برعکس دیوبندیوں اور وھابیوں کو سعودی سرپرستی ملی۔ ان کے مدرسوں اور علما کے پاس پیسہ اور اس کے ساتھ ان کی اہلحدیث تحریک کی بہت زیادہ سرپرستی ہوئی، جس سے دیوبندی مالی اور سیاسی لحاظ سے زیادہ طاقتور بن کر ابھرے اس مقابلے میں بریلوی تحریک سرپرستی نے ملنے کی وجہ سے طاقتور نہیں ہوسکی۔‘

ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق افغان جہاد کی بھی دیوبندیوں نے حمایت کی اور حصہ لیا مگر بریلویوں نے اس کی حمایت نہیں کی۔

جب متحدہ ہندوستان میں یہ مسئلہ اٹھا تھا کہ ہندوستان کو دارالحرب کہنا چاہیے یا دارالاسلام تو بریلوی اس بات کے حامی تھے کہ چونکہ یہاں انہیں مذہبی آزادی ہے لہذا ہندوستان دارالحرب نہیں ہیں۔ اس لیے نہ تو یہاں سے ہجرت کرنا چاہیے اور نہ ہی انگریزوں کے خلاف جہاد کرنا چاہیے۔ موجودہ وقت بھی بریلوی کسی جہادی تحریک میں شامل نہیں۔

اسی بارے میں