آخری وقت اشاعت:  جمعـء 2 جولائ 2010 ,‭ 16:37 GMT 21:37 PST

ہلاکتیں بیالیس: ’گرفتاری اولین ذمہ داری ہے‘

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں واقع داتا دربار میں ہونے والے دو خود کش بم دھماکوں میں بیالیس افراد ہلاک اور دو سو زخمی ہوئے ہیں۔

جمعرات کی شام کو ہزاروں کی تعداد میں زائرین ملک کے مختلف علاقوں سے داتا دربار پر حاضری کے لیے لاہور آتے ہیں اور جس وقت یہ خودکش حملے ہوئے اس وقت بھی زائرین کی ایک بڑی تعداد دربار کے اندر اور اس کے اطراف میں موجود تھی۔

لاہور میں داتا صاحب کے مزار پر بم دھماکے کی سی سی فیٹیج

کلِک

کلِک داتا دربار دھماکوں کی تصاویر

کلِک مزاروں، گدی نشینوں پر حملے

لاہور سے بی بی سی کی نامہ نگار نے بتایا کہ ایس ایس پی آپریشنز کے دفتر نے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بیالیس سے زیادہ بتائی ہے۔

داتا دربار پر خود کش دھماکوں کے بعد سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے بے گناہ انسانوں کی ہلاکت پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔ کچھ تنظیموں نے جمعہ کو سوگ منانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ تحفظِ ناموسِ رسالت نامی تنظیم نے لاہور میں خود کش دھماکوں کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ داتا دربار عوام کے لیے بند کیا گیا ہے۔

تاہم پنجاب حکومت نے داتا دربار میں فجر کی نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی جس کے بعد نمازیوں کو دربار سے نکالنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔

حکومت پنجاب نے داتا دربار میں فجر کی نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی جس کے بعد نمازیوں کو دربار سے نکالنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا۔

حکومت کی جانب سے جمعہ کی نماز کی بھی اجازت دی گئی تھی۔ لاہور اور پنجاب کے دیگر شہروں سے بڑی تعداد نے داتا دربار میں نماز ادا کی۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

داتا دربار کو جانے والے تمام راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی اور سخت چیکنگ کے بعد لوگوں کو جانے کی اجازت دی جا رہی تھی۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے داتا دربار میں ہونے والے بم دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تحقیقاتی اداروں پر واضح کردیا ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرنا ان کی اولین ذمہ داری ہے جس میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

’میں نے تحقیقاتی اداروں پر واضح کردیا ہے کہ اِس واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرنا اُن کی اولین ذمہ داری ہے جس میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔‘

داتا دربار میں ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد مردوں کی ہے۔

جمعہ کی نماز کے بعد مذہبی جماعت سنی تحریک نے داتا دربار کے سامنے احجاجی مظاہرہ کیا۔ سینکڑوں مظاہرین نے بینر اٹھا رکھے تھے۔ مظاہرین اور رہنماؤں نے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

داتا دربار میپ

پولیس نے بتایا ہے کہ داتا دربار سے ایک دھڑ ملا ہے جس کے بارے میں شبہہ ہے کہ یہ خودکش حملہ اور کا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دھڑ سے معلوم ہوتا ہے کہ حملہ آور کم عمر کا تھا۔

لاہور کے سی سی پی او اسلم ترین نے بتایا کہ ایک خودکش حملہ آور بھاگتا ہوا داتا دربار میں داخل ہوا ہے جس کو روکنے کی کوشش کی گئی اور اس کے پیچھے لوگ بھاگے۔ اس کے چند ہی لمحوں بعد دوسرا خودکش حملہ آور اسی گیٹ سے داخل ہو کر احاطے میں گیا ہے جہاں اس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔

’پہلے حملہ آور کو تلاشی کے لیے روکا بھی گیا لیکن وہ بھاگتا ہوا داخل ہوا۔ اس کو روکنے کے لیے رضا کار جو تلاشی لے رہے تھے وہ بھی اس کے پیچھے بھاگے جس کے بعد خودکش حملہ آور نے دھماکہ کر دیا۔‘

سکیورٹی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان خودکش حملہ آوروں کی نشاندہی مشکل تھی۔ ’جمعرات کا دن تھا اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ حاضری کے لیے آئے ہوئے تھے۔ حملہ آوروں نے سفید شلوار قمیض اور ہری پگڑی باندھ رکھی تھی جس کی وجہ سے ان کی نشاندہی مشکل تھی۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ ایک دھماکہ دربار کے تہہ خانے میں واقع لنگر خانے میں ہوا جبکہ دوسرے خود کش بمبار نے خود کو مزار سے تیس فٹ کے فاصلے پر اڑایا۔

داتا دربار پر ایک رضا کار محمد ناصر نے بتایا ’دھماکوں کے بعد ایک اندوہناک منظر دیکھنے کو ملا۔ ہر جگہ لاشیں پھیلی پڑی تھیں اور لوگ رو رہے تھے۔‘

گزشتہ ماہ پاکستانی پولیس اس بات پر اطمینان کا اظہار کر رہی تھی کہ پورے مہینے کے دوران ملک کے کسی علاقے میں کوئی خود کش حملہ نہیں ہوا تھا اور گزشتہ دو سالوں کے دوران یہ پہلا موقع تھا کہ ایسا ہوا ہو۔

یاد رہے کہ لاہور میں گزشتہ چند مہینوں کے دوران کئی شدت پسند حملے ہوئے ہیں جن میں متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

گزشتہ ماہ پاکستانی پولیس اس بات پر اطمینان کا اظہار کر رہی تھی کہ پورے مہینے کے دوران ملک کے کسی علاقے میں کوئی خود کش حملہ نہیں ہوا تھا اور گزشتہ دو سالوں کے دوران یہ پہلا موقع تھا کہ ایسا ہوا ہو۔

گزشتہ سنیچر کو لاہور کے ہال روڈ کے علاقے میں کم شدت کے دو دھماکے ہوئے تھے جن کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔

مئی کے اواخر میں لاہور کے علاقے گڑھی شاہو اور ماڈل ٹاؤن میں احمدیوں کی دو عبادت گاہوں پر ہونے والے حملوں میں بیاسی سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی سال تیرہ مارچ کو لاہور کے آر اے بازار علاقے میں ہونے والے دو خود کش حملوں میں چون افراد ہلاک ہوئے تھے۔

گزشتہ سال دسمبر میں مون مارکیٹ میں ہونے والے دو بم دھماکوں میں پینتالیس افراد ہلاک اور ایک سو چالیس سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔