لاہور حملے: یومِ سوگ اور جزوی ہڑتال

لاہور میں ہڑتال
Image caption سنیچر کو بھی لاہور شہر تقریباً تمام علاقوں کی مرکزی مارکیٹیں بند رہیں

لاہور میں داتار دربار پر خودکش حملوں کے خلاف سنیچر کو مذہبی جماعتوں کی اپیل پر یومِ سوگ منایا گیا ہے جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں جزوی ہڑتال بھی ہوئی ہے۔

داتا دربار پر جمعرات کی شب ہونے والے دو خودکش حملوں میں بیالیس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔

ان حملوں کے خلاف جمعہ کو اہلِ سنت مسلک سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کی جانب سے ملک کے بڑے شہروں میں مظاہرے کیے گئے تھے جبکہ بیس کے قریب مذہبی جماعتوں پر مشتمل سنی اتحاد کونسل نے خودکش حملوں کے سوگ میں سینچر کو ہڑتال کی اپیل کی تھی جبکہ وکالء تنظیموں اور تاجر برادری نے بھی ان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا۔

لاہور سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار عباد الحق کے مطابق داتا دربار پر حملے کے بعد جمعہ کے بعد سنیچر کو بھی لاہور شہر تقریباً تمام علاقوں کی مرکزی مارکیٹیں بند رہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہڑتال کی اپیل اور ہفتہ وار چھٹی کی وجہ سے شہر میں ٹریفک معمول سے کہیں کم ہے اور سڑکیں سنسان ہیں۔

لاہور کی مال روڈ کے تاجران کی تنظیم کے صدر حامد ریاض نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کے بعد سنیچر کو بھی دینی جماعتوں کی اپیل پر کاروبار بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سنیچر کو ہڑتال کا مقصد ان افراد کے اہلِ خانہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی ہے جن کی زندگی کا چراغ ان دھماکوں نے گل کر دیا ہے۔

لاہور کے علاوہ فیصل آباد،گوجرانوالہ، ملتان اور بہاولپور کے علاوہ پنجاب کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں بھی یومِ سوگ منایا گیا اور ان شہروں کی تمام بڑی مارکیٹیں اور بازار بند رہے۔ ملتان کے کچھ علاقوں میں ہڑتال کے علاوہ اجتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے اور مظاہرین نے ٹائر جلا کر ٹریفک کچھ دیر کے لیے بند کر دیی ۔فیصل آباد میں بھی ایک احتجاجی نکالی گئی جو ضلع کونسل سے شروع ہو کر کچہری پہنچ کر ختم ہوگئی۔

داتا دربار دھماکوں کے خلاف صوبہ سندھ میں کراچی اور حیدرآباد میں جزوی ہڑتال کی گئی جبکہ اندرونِ سندھ میں کاروبار معمول کے مطابق جاری رہا ہے۔

Image caption داتا دربار حملوں کے خلاف مظاہرے بھی کیے گئے ہیں

کراچی کے اہم کارباوری مراکز ایم اے جناح روڈ، بولٹن مارکیٹ، زیب النساء اسٹریٹ اور صدر کے دیگر علاقے ہڑتال کی وجہ سے بند رہے تاہم طارق روڈ، بہادر آباد ،ڈیفنس اور کلفٹن کے علاقوں میں دکانیں کھلی تھیں۔ طارق روڈ کے تاجروں کی تنظیم کے ایک رہنماء الیاس جٹ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہیں کسی نے ہڑتال کی اطلاع نہیں دی تھی اور مارکیٹ میں ملاجلا رجحان ہے۔ کچھ دکانیں بند ہیں اور کچھ دکانیں کھلی ہوئی ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار نثار کھوکر کے مطابق سنی اتحاد کونسل کی جانب سے کراچی کی نمائش چورنگی پر ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرے کے شرکاء سے سنی اتحاد کے رہنماء شاہ تراب الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔

داتا دربار سانحے کے خلاف ایم کیو ایم کی جانب سے بھی یومِ سوگ منایا گیا اور کراچی شہر میں تنظیم کی جانب سے سیاہ جھنڈے لہرا دیے گئے۔ شہر میں ٹریفک معمول سے کم رہی جبکہ سکیورٹی انتظامات میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ ہڑتال کی اپیل کے بعد کراچی یونیورسٹی کے تحت سنیچر کو ہونے والے امتحانات بھی ملتوی کر دیے گئے۔

حیدرآباد میں صبح بارہ بجے تک شہر کے تمام کاروباری مراکز کھلے رہے جبکہ بعد میں ایم کیو ایم کے کارکنان نے دکانیں بند کرا دیں جس کی وجہ سے شہر کے مرکزی کاروباری علاقے ریشم بازار،گول بلڈنگ اور تلک چاڑھی وغیرہ بند ہیں جبکہ لطیف آباد اور قاسم آباد کے علاقوں میں بازار کھلے ہوئے ہیں۔

سندھ کے دیگر شہروں نوابشاہ، سکھر، لاڑکانہ اور دادو وغیرہ میں ہڑتال نہیں کی گئی اور ان شہروں میں کاروباری مراکز معمول کے مطابق کھلے رہے۔

صوبہ خیبر پختونخواہ میں بھی ہڑتال کی اپیل کا اثر دیکھنے کو نہیں ملا ہے اور پشاور سمیت صوبے کے دحگر شہروں میں کاروبارِ زندگی معمول کے مطابق جاری ہے۔ پشاور کے ایک تاجر رہنما حاجی افضل نے بی بی سی اردو کے رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا ہے کہ انہیں ہڑتال کی کوئی کال موصول نہیں ہوئی۔اُن کا کہنا تھا کہ سنیچر کو معمول کے مطابق ہفتہ وار چھٹی ہے جس کے باعث بازاروں میں رش کم ہے۔

اسی بارے میں