’میرے داتا کا دربار ہے جہاں مرضی چوم لیا‘

طوفان سے پہلے کے خاموشی کے بارے میں تو سن رکھا تھا لیکن بدترین حالات گزرجانے کے بعد بھی سکون ہوسکتا ہے اس کا اندازہ ان دو گھنٹوں کے دوران ہوا جو میں نے صحافتی خدمات کےدوران حضرت علی ہجویری المروف داتا گنج بخش کے مزار پر گزارے۔

میں ایک ایسے شہر کا خبرنگار ہوں جوحالیہ چندہفتوں میں دنیا کے چند پرتشدد ترین علاقوں میں سے ایک بن چکاہے۔

لیکن گزشتہ ایک ڈیڑھ عشرے کے دوران شائد ہی کوئی ایسا بڑا پرتشدد واقعہ ہو جس کی میں نے رپورٹنگ نہ کی ہو۔

وقوعہ کیسے ہوا تھا؟ کچھ دیر بعد کیا ہوا اور پھراگلے ایک دو دن کے حالات کی فالو اپ سٹوری ۔۔۔۔۔بس یہی کچھ عمومی طور پربم دھماکےیا خودکش حملے کی رپورٹنگ ہوتی ہے۔

جان لیوا، پرظلم، خوں ریز اور بھیانک واقعات کے بہت سے ’دوسرے دن‘ میں نے رپورٹ کیے ہیں۔

عموما دکھ، رنج والم، ناراضگی، احساس ناانصافی، غصہ انتقام یا بےبسی اور مایوسی کے جذبات دیکھنے کو ملتے ہیں۔

انہی کو صحافی حضرات اپنے اپنے الفاظ میں رپورٹ کردیتے ہیں لیکن حضرت علی ہجویری کا مزار تو بہت ہی عجیب نکلا۔

انوکھا منظر تھا وہ۔۔۔

مجھے ریڈیو کی اردو سروس کے پروگرام سیربین میں لائیو جانے کےلیے دوگھنٹے وہیں گزارنے تھے۔ باقی رپورٹس بھجوا چکا تھا۔

عصر کی نماز کے بعد سورج ڈھلنے لگا تھا۔ ڈیڑھ منٹ کی رپورٹ کے لیے اتنا مواد اکٹھا ہوگیا تھا جو دوگھنٹے بولنے کے لیے کافی تھا۔اب کرنے کو انتظار کے سوا کچھ نہیں تھا۔ ٹھنڈے پانی کی چھوٹی بوتل، موبائل فون اور نوٹ بک پہلو میں رکھ کرحضرت علی ہجویری کی قبر کے گنبد کےسامنے سنگ مرمر کےسفید فرش پر بیٹھ گیا۔

کچھ اس طرح کہ وہ مقام جو جہاں خودکش حملہ آور نے خود کو اڑایا تھا میرے اور قبر کےدرمیان تھا۔

تھوڑی تھوڑی دیر بعد لوگ آتے اور اس جگہ کو بغور دیکھتے اور قبر کی جانب منہ کرکے فاتحہ خوانی کرنے لگتے لیکن ایک دس بارہ برس کے لڑکے کی حرکت دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں اس کے پاس جا پہنچا۔

اس نے وہ مقام چوم لیا تھا جہاں بم دھماکے سے نشان پڑے تھے۔

میرے علاوہ کسی کو اس کی حرکت پر تعجب نہیں ہوا تھا۔ میں نے پوچھا یہ کیا کیا ہے؟ اس نے کندھے اچکا کرکہا پتہ نہیں۔۔۔ بس میرے داتا کا دربار ہے جہاں مرضی چوم لیا۔

کہیں کوئی بین کرتا نظر نہیں آرہا تھا۔ لوگ خاموش تھے عبادت کررہے تھے۔ٹولیوں میں ذکر ہورہا تھا۔دو قطاریں لگی تھیں جو قبر کی چوکھٹ چومنے والوں کی تھیں۔

کسی کسی کی آنکھ پرنم نظر آتی لیکن یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کل کے سانحہ پر رو رہا ہے یا اس رقت کے عالم میں ہے جو اکثر اولیاءکرام کے درباروں پر حاضری دینے والوں پر طاری ہو جاتی ہے۔

جیسے جیسےشام ہورہی تھی لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا تھا لیکن خاموشی میں اضافہ ہوتا چلاگیا حتی کہ داتا کے عقیدت مندوں نے فرش کےاس نشان کو بھی نظرانداز کردیا جو دوسوسے زیادہ افراد کو خون میں نہلا گیا تھا جن میں چالیس اپنے خالق حقیقی سے جاملے تھے۔

میں نے قریب ہی بیٹھے پتلون شرٹ میں ملبوس نوجوان سے بات کی وہ باقاعدگی سےجمعرات اور جمعہ کو حاضری دیتا تھا۔اس نے بتایا کہ حاضرین کی تعداد میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے۔

میراسوال تھا کہ لوگوں کا رویہ عجیب ہے کوئی غصہ یا رنج نہیں ہے، جہاں اتنی اموات ہوئی ہوں وہاں ایسا منظر تو کبھی نہیں دیکھا؟ اتنا سکون کیوں ہے؟

اس نوجوان نے کہا کہ یہ زیادہ تر لوگ دھماکے سے پریشان ہوکر آئے ہیں لیکن داتا کے در پر حاضری دیتے ہی پرسکون ہوجاتے ہیں۔ بھئی یہاں لوگ آتے ہی سکون کے لیے ہیں تو پھر پرسکون کیوں نہ ہوں؟

ہماری باتیں سننے والے ایک دوسرے عقیدت مند نے کہا کہ عام دنوں کے لحاظ سے ایک فرق ہے؟ وہ کیا؟ میں نے چونک کرپوچھا۔اس نے کہا لنگر نہیں ہے کوئی شیرینی نہیں بانٹ رہا۔ بس یہی ایک فرق ہے۔

داتا دربار کےباہر احتجاجی مظاہرے جاری تھے کلاشنکوفیں لہرائی جارہی تھیں نعرے لگ رہے تھے لیکن شام ہونے کے بعدچند ٹولیاں ایسی بھی تھیں جو خاموش احتجاج کررہی تھیں۔

درمیان میں ان کا لیڈر یا پیر ومرشد سرجھکائے بیٹھا تھا اور اردگرد باقی مظاہرین افسردہ لیکن خاموش بیٹھے تھے۔

داتا کے عقیدت مندوں کا عزم اور صبر بہت ہی اثرانگیز تھا۔ ریڈیو پر رپورٹ دے چکنے کے بعد اس بات کا مجھے بھی احساس ہوگیا، دو روز کی جسمانی اورذہنی تھکاوٹ غائب ہوچکی تھی۔

یہ ایک ایسا اطمینان بخش اور انوکھا تجربہ ثابت ہواجس میں تاعمر ہر مشکل میں سہارا بننے کی اہلیت ہے۔

پھر بھرے مجمعے میں میرے منہ سےایک ایسا جملہ نکل گیا جس کا کوئی صحافی ایک ایسے مقام پر تصور بھی نہیں کرسکتا جہاں چند گھنٹے پہلے چالیس لاشیں گرائی گئی ہوں۔

میں نے پوچھا تھا کہ کیا حملہ آور بھی جنت میں گیا ہوگا؟چند لوگ میری جانب متوجہ ہوئے۔

مجھ سے سنگین غلطی ہوئی تھی لیکن اب تیر کمان سے نکل چکا تھا۔

جب کوئی انسان ایک ہی جیسے بہت سارے واقعات میں گزررہا ہو تو رفتہ رفتہ ایک بے حسی غیر محسوس انداز میں اپنی گرفت میں لینا شروع کردیتی ہے لیکن اس منفی رویے کابروقت ادراک ہوجانا چاہیے۔

مجھے دیر ہوگئی تھی۔

ایک نے کہا ذرا وضاحت کریں میں نے کہا کہ اگر کوئی خدا کی خاطر اپنی جان دے گا تو اگر کوئی سب کا رب ہے وہ کیا اپنی خاطر جان دینے والے کو صلہ نہیں دے گا؟

کچھ خاموشی سے میرا منہ تکنےلگے بہت سے لوگ ایک ساتھ بولنے لگے وہ مجھ سے بھی بات کررہے تھے اور آپس میں بھی مبحث تھے۔وہ کہہ رہے تھے کہ خودکشی حرام ہے۔ کسی نے کہا اتنے بےگناہوں کو مارنے والا کیسے جنت میں جائےگا؟ ایک بولا خود کش حملہ آور کادماغ سن ہوتا ہے جی اسے کیا پتہ وہ کیا کرنے جارہا ہے؟ کسی نے کہا کہ دماغ الٹ دیتے ہیں ایک بولا اصل قاتل تو وہ ہے جو معصوم لوگوں کو گمراہ کرکے خودکش حملہ آور بناتےہیں۔ ہر کوئی اپنی سوچ کے مطابق بات کررہا تھا لیکن حیرت انگیز طور پر ایک بھی غصے میں نہیں آیا اور نہ ہی کسی نے مجھ سے نفرت کا اظہار کیا۔

میں اچھا جی ۔۔ شکریہ ۔۔۔ اسلام وعلیکم کہہ کر مجمع سے ہٹ گیا ساتھ ہی لوگ بھی منتشر ہوگئے۔

میں نے کسی کے ماتھے پر شکن تک نہیں تھی۔کسی نے مجھے انگلی لگانا تو درکنار ’اوے‘ تک نہیں کہا۔

ایسا صرف علی ہجویری کے در پر ہوسکتاہے۔

اسی بارے میں