جعلی ڈگریاں: مڈ ٹرم الیکشن کی تیاری؟

فائل فوٹو
Image caption سینکڑوں ڈگریوں کی جانچ ہورہی ہے کہ وہ اصلی ہیں یا نقلی

* جس طرح گدھے پر جتنی بھی کتابیں لاد دی جائیں وہ عالم نہیں بن جاتا۔ اسی طرح اس کے گلے میں گولڈ میڈل ڈال دیاجائے، دونوں کانوں میں ایم اے اور بی اے کی ڈگریاں لٹکا دی جائیں تب بھی اس کی قابلیت یا گدھے پن پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔

ہاں البتہ معاملہ اگر انسانوں کا ہو اور وہ بھی ایسے خاص، جواسلامی جمہوریہ پاکستان کے منتخب اراکین ہوں تو فرق پڑتا ہے۔

ایک بنیادی فرق تو یہ پڑرہا ہے کہ دھڑا دھڑ سیاسی رہنما اپنی پارلیمانی رکنیت سے فارغ ہورہے ہیں اور دوسرا اس خدشہ کا اظہار ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے لیے میدان ہموار کیا جا رہا ہے۔

اب تک پارلیمان کے ٹوکرے سے ایک درجن سے زائد منتخب’گوہر نایاب‘گر چکے ہیں۔ کچھ ٹوٹے کچھ تڑخے لیکن ایک دو کو صدر آصف زرداری نے دوبارہ پارٹی ٹکٹ کاسہارا دے کر بچا لیا۔

انہی میں سے ایک مظفر گڑھ سے دوبارہ کامیاب ہونے والے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی ہیں۔ جمشید دستی کو جعلی ڈگری ہونے کی وجہ سے پاکستان کی اعلی عدلیہ نے نااہل قرار دیا تھا لیکن ضمنی انتخابات میں وہ دوبارہ کامیاب ہوگئے۔

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اپنے حالیہ خطاب میں انہی کی کامیابی کو اپنی دلیل کے طور پر پیش کیا اور کہا کہ انہیں ڈگریوں کی تصدیق سے کوئی خوف نہیں ہے،ان کے لوگ دوبارہ جیت کر آجاتے ہیں۔

Image caption الیکشن کمشنر جاوید لغاری کے مطابق ضمنی انتخاب میں بہت خرچ آرہا ہے

انہوں نے کہا کہ آپ دس بار دستی کو نکال لیں عوام انہیں لانا چاہیں گے تو آپ کیا کرلیں گے؟

ڈگریوں کی تصدیق اور اراکین پارلیمان کی نااہلی کا سلسلہ بظاہر ایک سنگین صورتحال اختیار کرتا چلا جارہا ہے اب تک کی تقریبا تمام نااہلیاں عدلیہ کے ذریعے عمل میں لائی گئی ہیں اور مزید کئی درجن مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

اس کے علاوہ اب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے تمام اراکین اسمبلی کی ڈگریاں تصدیق کے لیے ہائر ایجوکیشن کمشن کو بھجوادی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی کو تین سو تیرہ، پشاور یونیورسٹی کو ایک سو پانچ اور جامعہ کراچی کو ایک سو بیس اراکین اسمبلی کی ڈگریوں کی نقول موصول ہوچکی ہیں اور ان کی تصدیق کا کام جاری ہے۔

صدر آصف زرداری کو شکوہ ہے کہ ڈگریوں کی جانچ کا عمل ایک ایسے وقت میں کیا جارہا ہے جب رکن اسمبلی ہونے کے لیے گریجویٹ ہونے کی شرط لازمی نہیں رہی۔ پیپلز پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب مشرف دور میں یہ شرط نافذ تھی اور متحدہ مجلس عمل کے پچاس سے زائد اراکین دینی مدرسوں کی ڈگریاں دیکر ایوان میں بیٹھے تھے تب تو ان کی تصدیق کروانا کسی کو یاد نہیں آیا۔

الیکشن کمیشن کے حکام کاکہنا ہے کہ ہر ضمنی انتخاب پر کروڑوں روپے کا خرچ آرہا ہے اور اگر یہ تعداد بڑھ گئی تو اخراجات ارب ہا روپوں میں جاسکتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ وسط مدتی انتخابات کا خدشہ اس بنیاد پر کیاجارہا ہے کہ کہیں اتنی بڑی تعداد میں اراکین نااہل نہ ہوجائیں کہ بعض مقتدر حلقے وسط مدتی انتخابات کرانے پر زور دینے لگیں۔

پیپلز پارٹی کےحلقوں کا کہنا ہے کہ جعلی ڈگری مقدمات بھی انہی مبینہ اقدامات کا حصہ ہیں جو حکومت کو کمزور بنانے کے لیے اٹھائے جارہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اس سلسلے میں عدلیہ کے بعض افسران کو بھی ہدف تنقید بناتےہیں۔

ان کے نشانے پر خاص طور پر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف ہیں جنہوں نے اپنے حالیہ بیان میں شریف خاندان سے اپنے کئی عشروں پر محیط تعلقات کا اعتراف کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کو تنقید کانشانہ بنایا۔

بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عدلیہ پاکستان میں طاقت و اقتدار کی تکون کو چوکور بنانا چاہتی ہے اور چوتھا کونا وہ خود بننا چاہتی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ’شریف سیاستدان‘ ایک بار پھر انہی طاقتوں کا آلہ کار بن رہے ہیں جو نوے کی دہائی میں حکومتوں کے آنے جانے میں کردار ادا کیا کرتی تھیں۔

اب تک کے ریکارڈ کے مطابق جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر سب سے زیادہ نااہلیاں مسلم لیگ نون کے حصے میں آئی ہیں لیکن اس کے باوجود اپنی موثر میڈیا پالیسی کی وجہ سے وہ براہ راست ہدف تنقید نہیں ہیں بلکہ پیپلز پارٹی کے بعض حلقوں کو یہ اپنے خلاف سازش دکھائی دیتی ہے۔

ان کے خیال میں ان کے خلاف چلائی جانے والی اس مہم میں ایک اہم کردار خود مسلم لیگ نون کا بھی ہے۔

مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف نے اپنے حالیہ بیان میں اگرچہ براہ راست کوئی تحریک چلانے کی بات تو نہیں کی لیکن صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کا بھر پور تاثر دے گئے ہیں۔

تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کہتے ہیں کہ دراصل نوازشریف اب وسط مدتی انتخابات کی راہ دیکھ رہے ہیں اس لیے اب وہ حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔

خود نواز شریف دوروز پہلے جب میڈیا سے گفتگو کررہے تھےتو انہوں نے وسط مدتی انتخابات کی حمایت کرنے کے حوالے سے کیے گئے دوالگ الگ سوالوں کا جواب دینے سے گریز کیا۔

پیپلز پارٹی کی ترجمان فوزیہ وہاب نے نواز شریف کو بارہ اکتوبر سنہ انیس سوننانوے یاد دلایا ہے جس روز انہیں تخت سے اتار کر پابند سلاسل اور پھر جلاوطن کیا گیا۔ انہوں نے نواز شریف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جس کے نتیجے میں سب کو ہی چلتا کردیا جائے۔

یہ بیان ظاہر ہے کہ پیپلز پارٹی کی ترجمان کا ہے تو ان کی پارٹی کی سوچ کی ہی عکاسی کرتا ہوگا لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ محض اس وجہ سے ان کے اس بیان کو یکسر نظر انداز کرنا مناسب نہ ہوگا۔

اسی بارے میں