کالعدم تنظیموں پر کب کب کریک ڈاؤن ہوا

جنرل پرویز مشرف فائل فوٹو
Image caption سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے دو ہزار دو میں پانچ تنظیموں پر پابندی عائد کی تھی

یکم جولائی کو لاہور میں داتا دربار میں ہونے والے دو خودکش حملوں کے بعد پنجاب کے محکمۂ داخلہ نے صوبے میں کالعدم قرار دی جانے والی سترہ تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور پولیس کی ضلعی سطح پر ٹاسک فورس تشکیل دے دی ہے۔

اس ٹاسک فورس میں شامل اہلکارروں کو سترہ کالعدم تنظیموں سے متعلق معلومات کے تبادلے کے لیے اضلاع میں موجود انٹیلیجنس افسران سے قریبی رابطے کرنے سے متعلق بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ صوبہ پنجاب کے محکمۂ داخلہ کے ایک ذمہ دار اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس ٹاسک فورس کو یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ کالعدم قرار دی گئیں تنظیموں کے خفیہ ٹھکانوں پر کریک ڈاؤن کی جائے اور ان تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کو فوری طور پر حراست میں لیا جائے۔

ہمارے نامہ نگار رضا ہمدانی نے تفصیل مرتب کی ہے کہ اس سے قبل بھی حکومت پاکستان نے کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ کالعدم تنظیموں کے خلاف قابل ذکر کارروائیوں کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں۔

بارہ جنوری دو ہزار دو

صدر جنرل پرویز مشرف نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں دہشت گردی، فرقہ وارانہ فسادات کے حوالے سے بات کی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ پانچ تنظیموں پر پابندی عائد کی جاتی ہے اور ان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔ یہ پانچ تنظیمیں جیشِ محمد، لشکر طیبہ، سپاہ صحابہ پاکستان، تحریک جعفریہ پاکستان اور تحریک نفاذِ شریعتِ محمدی تھیں۔ اس کے علاوہ سُنی تحریک کو واچ لسٹ میں شامل کیا گیا۔

پندرہ نومبر دو ہزار تین

حکومت پاکستان نے تین تنظیموں پر پابندی عائد کی اور ان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔ یہ وہ تنظیمیں ہیں جن کو بارہ جنوری دو ہزار دو میں صدر مشرف نے کالعدم قرار دیا تھا اور ان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا۔

ان تنظیموں میں اسلامی تحریک پاکستان جو کہ پہلے تحریک جعفریہ پاکستان کے نام سے کام کر رہی تھی، ملت اسلامیہ پاکستان جس کا پہلا نام سپاہ صحابہ پاکستان تھا اور خدام الاسلام جس کا پہلا نام جیش محمد تھا۔ حکومت نے جماعت الدعوۃ کو واچ لسٹ پر رکھنے کا فیصلہ کیا۔ جماعت الدعوۃ پہلے لشکر طیبہ کے نام سے کام کر رہی تھی۔

انیس جولائی دو ہزار پانچ

سات جولائی کو لندن میں بم دھماکوں کے بعد پاکستان میں حکام نے مختلف کالعدم مذہبی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کو حراست میں لیا ہے اور کئی جریدوں کے دفاتر سیل کر دیے۔ ملک گیر کریک ڈاؤن میں کم از کم سو افراد حراست میں لیے گئے۔

بارہ دسمبر دو ہزار آٹھ

چھبیس نومبر دو ہزار آٹھ کو بھارت کے شہر ممبئی کے مختلف علاقوں پر حملے ہوئے۔ بھارت نے ان حملوں کی ذمہ داری لشکر طیبہ پر ڈالی۔ ان حملوں کے بعد اقوام متحدہ نے دس دسمبر کو کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کے ’رہنما‘ حافظ سعید سمیت چار افراد کے نام دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے تھے اور پاکستان کی فلاحی تنظیم جماعۃ الدعوۃ پر یہ کہہ کر پابندی لگای دی تھی کہ دراصل یہ لشکر طیبہ کا دوسرا نام ہے۔

اقوام متحدہ کے اس اقدام کے بعد پاکستان کے سٹیٹ بینک نے تمام کمرشل بینکوں کو جماعۃ الدعوۃ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے ہدایات جاری کر دی۔ پولیس نے تنظیم کے دفاتر اور دیگر ادارے سربمہر کئے اور گرفتاریاں بھی کیں۔

پانچ اگست دو ہزار نو

قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے ایک سوال کا تحریری جواب دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی پچیس شدت پسند تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے تین تنظیمیں ایسی ہیں جن پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ ان تنظیموں میں جماعت الدعوۃ، الاختر ٹرسٹ اور الرشید ٹرسٹ شامل ہیں۔

وزیر داخلہ کے مطابق جن تنظیموں پر پابندی ہیں وہ یہ ہیں: القاعدہ، سپاہ محمد، تحریک نفاذ فقہ جعفریہ، سپاہ صحابہ، جماعت الدعوۃ، الاختر ٹرسٹ، الرشید ٹرسٹ، تحریک اسلام، جیش محمد، لشکر جھنگوی، تحریک طالبان پاکستان، اسلامک سٹوڈنٹس موومنٹ، خیرالنساء انٹرنیشنل ٹرسٹ، تحریک اسلام پاکستان، تحریک نفاذِ شریعتِ محمدی، لشکر طیبہ، لشکر اسلام، بلوچستان لبریشن آرمی، جمیعت انصار، جمیعت الفرقان، حزب التحریر، خدامِ اسلام اور ملت اسلامیہ پاکستان۔

وزیر داخلہ کے مطابق سُنی تحریک واچ لسٹ پر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پنجاب نے انتہائی مطلوب افراد کی گرفتاری کے لیے ’ریڈ بک‘ جاری کی ہے۔

اسی بارے میں