دیر: فوجی کیمپ پر خود کش حملہ

فائل فوٹو
Image caption ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ دو خود کش حملہ آوروں نے گاڑیوں سے اندر داخل ہونے کی کوشش کی اور دو خود کش بمبار پیدل تھے

صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقے تیمر گرہ میں حکام کے مطابق فوجی کیمپ پر بارود سے بھری دو گاڑیوں سے حملے میں چار خودکش حملہ آور اور ایک فوجی اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ پیر کو علی الصبح ضلع دیر کے علاقے تمیرہ گرہ میں فوجی کیمپ کے داخلی راستے پر قائم چوکی کے قریب کیا گیا۔

حکام کے مطابق حملے کے دوران دھماکوں میں سات فوجی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

فوج کے تعلقات عامہ کے محکمہ آئی ایس پر آر کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے بارود سے بھری دو گاڑیوں سے کیمپ میں قائم چوکی پر حملہ کیا ہے جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔

پشاور سے ہمارے نامہ نگار عزیز اللہ خان کا کہنا ہے کہ ایسی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ دو خود کش حملہ آوروں نے گاڑیوں سے اندر داخل ہونے کی کوشش کی ہے اور دو خود کش بمبار پیدل تھے۔

پیدل آنے والے حملہ آوروں کو سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس کارروائی میں ایک فوجی اہلکار ہلاک جبکہ سات زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر سی ایم ایچ پشاور منقتل کر دیا گیا ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علی الصبح دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی۔

انھوں نے بتایا کہ پہلے چوکی پر راکٹ داغے گئے اور اس کے بعد بارود سے بھری ایک گاڑی نے کیمپ کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی لیکن چوکی کے پاس گاڑی کو خود کش بمبار نے دھماکے سے اڑا دیا۔

اس کے بعد اطلاعات کے مطابق دوسری گاڑی نے بھی کیمپ میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہو سکی۔

خیال رہے کہ رواں سال فروری میں بھی دیر کے علاقے میں ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں تین امریکی فوجیوں سمیت آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس کے علاوہ اس سال اپریل میں جشن صوبہ خیبر پختونخواہ کے موقع پر بھی دھماکے سے تینتالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ علاقہ ملاکنڈ ڈویژن کا حصہ ہے اور شدت پسندوں کا ایک نشانہ رہا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخواہ میں ایک ماہ کی خاموشی کے بعد یہ ایک بڑا حملہ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں