’پنجاب میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن نہیں‘

پنجاب پولیس فائل فوٹو

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ صوبہ پنجاب میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہوگا اور صوبے میں شدت پسندوں کے خلاف جو بھی کارروائی ہوگی وہ صوبائی حکومت خود کرے گی جس میں وفاقی حکومت اور اس کے ادارے مکمل تعاون کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی صدارت میں پیر کو اسلام آباد میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور سول اور خفیہ اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔

کالعدم تنظیموں پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ

کالعدم تنظیموں پر کب کب کریک ڈاؤن ہوا

’چینی سکینرز صحت کے لیے نقصان دہ‘

اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر الزماں کائرہ کے ساتھ صحافیوں کو بریفنگ دیتے انہوں نے کہا ’وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ وفاقی وزارت داخلہ اور خفیہ ایجنسیاں صوبائی حکومت کو اس سلسلے میں خفیہ معلومات فراہم کریں گی اور میں جمعہ یا ہفتے کو لاہور میں ایک اجلاس کررہا ہوں جس میں جو بھی لائحہ عمل ہے اس کے بارے میں بیٹھ کر فیصلہ کریں گے۔‘

قمر الزماں کائرہ نے بتایا کہ اجلاس میں دہشتگردی کے خلاف قومی حکمت عملی پر نظر ثانی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے اور اس سلسلے میں تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرنے اور انسداد دہشتگردی کے خلاف بنائے گئے ادارے نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کو فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

قمر الزمان کائرہ نے بتایا ’شدت پسندی کے خلاف لڑائی کسی ادارے یا مرکزی یا صوبائی حکومت کی نہیں بلکہ یہ پوری قوم کی لڑائی ہے اور اسے اتحاد اور اتفاق رائے سے لڑنا ہے۔ اس لیے جلد ہی کُل جماعتی کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا گیا جس میں پارلیمینٹ کے اندر اور باہر موجود تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد اس کی تاریخ رکھی جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’چونکہ یہ لڑائی جاری ہے اس لیے اس کی پالیسی کو وقت کے ساتھ ساتھ نظر ثانی کرنا ہوگی۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کو بھی مؤثر اور فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ وہ ایک تھنک ٹینک کے طور پر کام کرتے ہوئے پچھلے پندرہ بیس سالوں کی پالیسی پر نظر ثانی کرے اور آئندہ کے لیے ایک جامع پالیسی مرتب کرے۔

قمر الزماں کائرہ نے بتایا کہ اجلاس میں انسداد دہشتگردی کے قانون میں فوری طور پر ضروری ترامیم کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس موقع پر وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ حکومت نے صوبوں اور دوسرے تمام فریقین کی مشاورت سے انسداد دہشتگردی کے ایک نئے قانون کا مسودہ تیار کرلیا ہے جسے بجٹ سیشن ہونے کی وجہ سے قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جاسکا تھا۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اس قانون کو اسمبلی کے اگلے اجلاس کے آغاز سے پہلے ہی آرڈیننس کی صورت بھی نافذ کیا جاسکتا ہے۔

دونوں وزراء نے واضح کیا کہ دہشتگردی کے خلاف قومی حکمت عملی کے لیے کسی کالعدم شدت پسند تنظیم سے مشاورت نہیں کی جائے گی۔

رحمان ملک نے بتایا ’وزیر اعظم نے واضح طور پر یہ ہدایت بھی کی ہے کہ جتنی بھی کالعدم تنظیمیں ہیں ان کی سرگرمیوں کو فوری روکا جائے اور وفاقی اور صوبائی حکومتیں ان کی سرگرمیوں پر نظر بھی رکھیں گی اور ان کے خلاف کارروائی بھی کریں گی۔‘

رحمان ملک نے اس موقع پر اپنا یہ مؤقف بھی دہرایا کہ ان کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی اور القاعدہ مل کر کام کررہی ہیں۔

’تینوں کا جو تکون بنا ہوا ہے وہ پاکستان کے لیے مسئلہ ہے کیونکہ ماضی میں ان کے لوگوں سے جتنی بھی تفتیش ہوئی ان کی دہشتگردی کے واقعات میں ان کا ہاتھ ثابت ہوا ہے۔ میں ہمیشہ کھل کر یہ کہتا رہا ہوں کہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی ان واقعات میں ملوث ہیں کیونکہ حملہ آوروں کی بھرتی پنجاب، سندھ، بلوچستان اور ملک کے دوسرے حصوں سے ہوتی ہے اور پھر انہیں فاٹا میں لے جایا جاتا ہے وہاں انہیں تربیت دے کر واپس پنجاب یا دوسرے علاقوں میں بھیجا جاتا ہے۔‘

اسی بارے میں