سرِ عام زیادتی کا ایک اور واقعہ

اللہ وسائی
Image caption پاکستان میں خواتین کو برہنہ کر کے ان پر تشدد کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے

پاکستان میں چند برس پہلے اجتماعی جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختار مائی کے علاقے میں دو خواتین پر مبینہ طور پر جنسی زیادتی اور تشدد کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

جنوبی پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل جتوئی کی رہنے والی خاتون اللہ وسائی نے بی بی سی کی نامہ نگار منا رانا کو بتایا کہ دو روز قبل وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ کھیتوں میں گھاس کاٹ رہی تھیں کہ ان کی ہی برادری کے نسبتاً بہتر معاشی حیثیت کے چند افراد نے انہیں برہنہ کرکے مارا پیٹا اور زیادتی کی۔

اللہ وسائی کا الزام ہے کہ ان افراد نے ان کے ’تمام کپڑے اتار دیے، ان کی نو عمر بیٹی کے ساتھ بہت زیادتی کی، اس کے کپڑے پھاڑے اور اسے نوچا کھسوٹا۔۔۔‘

اللہ وسائی کا کہنا ہے کہ پولیس اور ڈاکٹر ان کی بات نہیں سن رہے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کی ’عزت برباد کر دی گئی، انہیں زہر کا ٹیکہ لگا دیا جائے۔‘

جب یہ واقعہ ہوا تو اللہ وسائی کے شوہر غلام مصطفی گاؤں میں موجود نہیں تھے، بلکہ کسی کام سے شہر گئے ہوئے تھے۔

غلام مصطفی کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو ان کے بیٹے پر شک تھا۔ جبکہ انہوں نے کئی بار ان لوگوں کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ ان کا شک درست نہیں ’ انہوں نے ہماری بات نہیں سنی اور ہم پر یہ ظلم کیا۔‘

غلام مصطفی نے جس شک کا ذکر کیا اس کے پیچھے جو کہانی بتائی جا رہی ہے اس کے مطابق جن لوگوں نے اللہ وسائی کے ساتھ مبینہ زیادتی کی ان کی بیٹی کے ساتھ اللہ وسائی کے بیٹے کے مراسم تھے۔ جس کا انہیں قلق تھا اور انہوں نے اس کا بدلہ لینے کے لیے یہ سب کیا۔

اللہ وسائی کے ہمراہ ہسپتال میں اس کی برادری کے کچھ افراد موجود تھے جو یہ گواہی دے رہے تھے کہ اللہ وسائی کے ساتھ یہ واقعہ اسی طرح ہوا جس طرح اللہ وسائی بیان کر رہی ہے۔

پولیس نے اس واقعے میں ملوث تین افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان گرفتار افراد کے ایک رشتے دار ماہی خان کا کہنا ہے کہ اللہ وسائی حقائق کو توڑ مروڑ کر بیان کر رہی ہیں۔ ماہی خان کا کہنا ہے کہ ’اللہ وسائی کو ان کے خاندان کی کچھ عورتوں نے تھپڑ مارے تھے (نہ کہ مردوں نے)۔ ‘

پاکستان میں خواتین کو سر عام برہنہ کر کے ان پر تشدد کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے پہلے بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں