آخری وقت اشاعت:  پير 5 جولائ 2010 ,‭ 17:35 GMT 22:35 PST

خواتین کو ہراساں کرنے کا قانون

مبصرین کہتے ہیں پاکستان میں خواتین کو ہراساں کرنے کے قانون پر سختی سے عملدآمد کی ضرورت ہے۔

خواتین کے حقوق کے لیےکام کرنے والے قومی کمیشن نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ چھ ماہ کے دوران خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق قانون کا اطلاق ملک کے بیشتر نجی

اور حکومتی اداروں میں کر دیا جائے گا۔

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کمیشن کی ذیلی کمیٹی نے اس امید کا اظہار پیر کو اسلام آباد میں ایک اجلاس کے دوران کیا۔

اجلاس میں شریک ارکان نے کہا کہ اس وقت وفاقی حکومت کے متعدد اداروں میں قانون کی منظوری کے بعد اس پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

جن تقریبا چالیس وفاقی اداروں میں یہ قانون لاگو کیاگیا ہے ان میں کابینہ اور وزارت اطلاعات بھی شامل ہیں۔

اسلام آباد سے ہماری ساتھی انیسہ اجمل کا کہنا ہے کہ اجلاس کے موقع پر اس کمیٹی کی چیئرپرسن ڈاکٹر فوزیہ سعید نے کہا’اس قانون کو ہم مثبت کہہ سکتے ہیں۔‘

اس کمیٹی کے پچیس ممبر ہیں جن میں حکومت کے نمائندے، نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے نمائندے ، میڈیا اور سول سوسائٹی کے ممبرز شامل ہیں۔

کمیٹی کے رکن جمیل یوسف نے کہا کہ جب تک یہ قانون ہر جگہ لاگو نہیں ہوگا تب تک ان واقعات میں کمی نہیں آئے گی۔

خیال رہے کہ یہ خواتین کو ہراساں کرنے کا بل پچیس فروری دو ہزار دس کوقومی اسمبلی میں منطور کر لیا گیا تھا، اور نو مارچ کو صدر آصف علی زرداری کے دستخط کے بعد یہ باقاعدہ قانون بن چکا ہے۔

اس قانون پر عمل درآمد کے لیے یہ کمیٹی بنائی گئی تھی جس کا پیر کو پہلا اجلاس منقعد ہوا۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔