’ نگرانی کرنے کا کوئی اختیار نہیں‘

فائل فوٹو

قومی احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کو نیب کے مقدمات میں ہونے والی تفتیش کی نگرانی کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

پراسیکیوٹر جنرل عرفان قادر کا مزید کہنا تھا کہ نیب میں اُن کی تعیناتی اور نیب کے ڈپٹی چیئرمین کو چیئرمین کے اختیارات دینے کے خلاف درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرنے پر عدالت آئین کے آرٹیکل دس اے کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

بدھ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اس درخواست کی سماعت شروع کی تو نیب کے پراسیکیوٹر جنرل عرفان قادر نے اس درخواست کے خلاف دوران دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب میں پراسیکوٹر جنرل کی تعیناتی ایک انتظامی معاملہ ہے اور سپریم کورٹ اس میں مداخلت نہیں کرسکتی اور نہ ہی ایسی کوئی درخواست کی سماعت کا اختیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں کوئی ایسی شق موجود نہیں ہے جس میں یہ کہا گیا ہو کہ عدالت عظمیٰ نیب میں زیر تفتیش مقدمات کی نگرانی کرسکتی ہے۔

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کا کہنا ہے کہ بینچ میں موجود جسٹس خلیل الرحمنٰ رمدے نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کے پاس بینک آف پنجاب قرضہ سکینڈل کا مقدمہ سنہ دوہزار سات کا ہے جب کہ سپریم کورٹ کی مداخلت پر نہ صرف اس میں ملوث افراد کو بیرون ممالک سے واپس لایا گیا بلکہ پانچ ارب روپے کے قریب قرضے کی رقم واپس قومی خزانے میں جمع کروائی جاچکی ہے۔

جسٹس رمدے کا کہنا تھا کہ اگر عدالت یہ معاملہ نیب پر چھوڑتی تو شائد ایک پائی بھی قومی خزانے میں جمع نہ ہوتی۔

نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا تھا کہ اس وقت عدالت میں ایسی درخواست دائر کرنے سے بینک آف پنجاب قرضہ سکینڈل کی تحقیقات میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ اس مقدمے میں سیاسی مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

جسٹس رمدے کا کہنا تھا کہ سنہ دوہزار ایک میں اسفندیار ولی کیس میں سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ نیب کے چیئرمین اور پراسیکیوٹر جنرل کے عہدے پر کسی شخص کی تعیناتی کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کی رائے لی جائے گی لیکن سنہ دوہزار دو میں اس شق کو نیب آرڈیننس سے غائب کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ ایسے افراد کو ان عہدوں پر تعینات کیا جائے جو سپریم کورٹ کا جج بننے کی اہلیت رکھتا ہو لیکن ایسا نہیں ہو رہا۔

پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل اور بینک آف پنجاب کے وکیل خواجہ حارث نے نیب میں پراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ پراسیکیوٹر جنرل اس سے پہلے بھی اس عہدے میں فائض رہ چکے ہیں اور نیب آرڈیننس میں کسی شخص کو دوبارہ اُسی عہدے پر فائض نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ عرفان قادر جو پہلے بینک آف پنجاب سے قرضہ لینے والی حارث سٹیل ملز کے ملزمان کے وکیل بھی رہے ہیں اور اُن پر ملزم افضل سے اس مقدمے میں ریلیف دلوانے کے لیے کروڑوں روپے لینے کا الزام بھی ہے۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ ایسے شخص کو پراسیکیوٹر جنرل نیب تعینات کرنا جن پر ملزمان سے رشوت لینے کا الزام ہو مقدمے کی تفتیش پر اثرانداز ہونے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملزم افضل نے وزیر قانون بابر اعوان پر بھی ساڑھے چار کروڑ روپے فیس اور رشوت لینے کا الزام بھی عائد کیا ہے اور نیب کا ادارہ وِزارت قانون کے ماتحت ہے۔

پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ نیب میں چیئرمین کا عہدہ خالی ہے اس لیے نیب کا ڈپٹی چیئرمین قائمقام چیئرمین کے اختیارات استعمال نہیں کرسکتا۔

اٹارنی جنرل مولوی انوار الحق نے عدالت کو بتایا کہ نیب کے چیئرمین کی تقرری کے لیے مشاورت کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم جو قومی اسمبلی میں قائد ایوان بھی ہیں، قائد حزب اختلاف سے اس ضمن میں مشاورت کریں گے اور جلد ہی نیب کے چیئرمین کی تعیناتی کا عمل مکمل ہوجائے گا۔

سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) میں پراسیکیوٹر جنرل کی تعیناتی اور نیب کے ڈپٹی چیئرمین کو قائمقام چیئرمین کے اختیارات دینے سے متعلق دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

اسی بارے میں