داتا دربار حملے کے ایک ہفتے کے بعد

فائل فوٹو
Image caption زائرین کی سکیورٹی کے لیے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے گئے ہیں

لاہور میں حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے مزار پر ہونے والے خود کش حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سینتالیس ہوچکی ہے۔

آج جمعرات ہے ایک بار پھر داتا دربار پر رش ہوگا اور اب تک کے حکومتی اقدامات سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ خود کو یقین دلایا جاسکے کہ اب اس مزار پر حملے کے خدشہ میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔

اس ایک ہفتے کے دوران حکومت نے داتا دربار کے سانحہ کے بعد جو جو اقدامات کیے ہیں ان میں سب سے نمایاں اور عملی قدم پولیس کے پانچ ماتحت سطح کے افسروں کی معطلیاں اور اعلیٰ سطح کے ایک افسر کی تبدیلی ہے۔

تبدیلی کا مطلب صرف موجودہ عہدے سے ہٹایا جانا ہے اور اس افسر کو کسی بھی دوسرے عہدے پر خواہ وہ موجودہ عہدے سے زیادہ اہم اور ذمہ داری والا ہی کیوں نہ ہو تعینات کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح معطلی کا مطلب کوئی سزا نہیں ہے بلکہ اس بات کا تعین کرنا ہے کہ کیا واقعی ان سے کوئی نااہلی سرزد ہوئی ہے یا نہیں اور اگر یہ ثابت نہ ہوسکی تو وہ واپس بحال ہوجائیں گے۔

Image caption حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد سینتالیس ہوگئي ہے

اس کے علاوہ یہ کہ حکومت جن سترہ یا تیئس یا تریسٹھ تنظیموں کو پہلے بھی کئی بار کالعدم قرار دے چکی ہے انہیں ایک بار پھر کالعدم قرار دیدیا گیاہے۔

ان تنظیموں کے جن ڈیڑھ ہزار سے زائد عہدیداروں اور کارکنوں کے نام انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت فورتھ شیڈول میں ڈال کر ان کی نقل وحرکت پر پابندی لگائی تھی ایک بار پھر ان کے ناموں کو فورتھ شیڈول میں ڈالنے کا اعلان کردیا گیاہے۔

داتا دربار کی سکیورٹی کے لیے جو بیئریر اورآہنی پائپوں کی رکاوٹیں ایک برس پہلے لگائی گئی تھیں انہیں ایک بار پھر سیدھا کرکے اچھی طرح ان کے جوڑ کس دیئے گئے ہیں۔

ایک برس سے تلاشی لے لے کر بور اور سست ہوجانے والے چوکیداروں کو ہٹا کر نئے نسبتا چست جامہ تلاشی والے تعینات کردیئے گئے ہیں۔

نسبتا چوکس انتظامات کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ سیکیورٹی کی صورتحال پہلے سے بہتر ہوئی ہے لیکن داتا دربار کی سکیورٹی کے یہ انتظامات ان حفاظتی اقدامات کا عشر عشیر بھی نہیں ہیں جو سیاسی حکمرانوں اور سول و فوجی افسروں نے اپنے لیے کررکھی ہیں۔

جو اسلام آباد کے ریڈ زون میں پھر آیا اسے تواندازہ ہوگیا کہ حکمرانوں کے محلات کتنے اہم ہیں اور ان کی سیکیورٹی کے لیے کیا کچھ نہیں کیا گیا۔ اسلام آباد کو چھوڑیں لاہورمیں گورنر و وزیر اعلی کی شاندار سیکیورٹی کا اس سے کوئی موازانہ ہی نہیں ہے۔

Image caption حکومت نے بریلوی سنّی رہنماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں

موجودہ حکمران تو ایک طرف، سابق وزیر اعظم نواز شریف و شجاعت حسین اور سابق وزیر اعلی پرویز الہی کی سکیورٹی بھی علی ہجویری کے مزار اور اس کے زائرین کی سیکیورٹی کے مقابلے میں کئی گنا ہے۔

اسی طرح جو کنکریٹ کی دیوار آئی ایس آئی کے دفتر کے باہر بنائی گئی ہے اور جس قسم کے مورچے لاہور کے کیپٹل سٹی پولیس چیف نے اپنے دفتر کے سامنے کھود رکھے ہیں اس کا علی ہجویری کے زائرین سوچ بھی نہیں سکتے۔

مبصرین کہہ رہے تھے کہ علی ہجویری المروف داتا گنج بخش کے حملے نے حکومتوں کوہلاکر رکھ دیا ہے اور اب شدت پسندوں کے خلاف کچھ نہ کچھ کارروائی ضرور ہوگی لیکن ہوا کیا؟

اعلی حکمرانوں کے اجلاس در اجلاس، کبھی اسلام آباد میں وزیر اعظم اور وزیراعلی کی ملاقات تو کبھی وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کی سنی اتحاد کونسل کے رہنماؤں سے چھ گھنٹے کی ملاقات اور اس کے بعد افسروں کو ڈانٹ ڈپٹ اور زبانی سرزنش کے سوا کچھ نہیں ہوا۔

صوبائی حکمرانوں نے یہ اعلان ایک بار پھر کیا کہ شدت پسندوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹا جائےگا۔ لیکن نہ تو کوئی نیاکریک ڈاؤن ہوا اور نہ ہی کوئی نیا قانون متعارف کرایا گیا۔

حکومت پنجاب نے اس موقف کو دہرادیا کہ جنوبی پنجاب میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہوگا اور حسب سابق وفاقی حکومت نے اس موقف کی تائید کردی۔

وفاق کے نمائندے گورنر پنجاب سلمان تاثیر اسی طرح صوبائی حکمران مسلم لیگ نون کے رہنماؤں کی کالعدم تنظیم کے عہدیداروں سے تعلقات پر گلہ کررہے ہیں اور پنجاب کے صوبائی وزیر قانون دوسال گذر جانے کے بعد بھی بس یہ پوچھتے نظر آتے ہیں کہ اگر شدت پسندوں کے پنجاب میں ٹھکانے ہیں تو بتایا جائے۔

ہاں ایک بات عملی شکل اختیار کرتی دکھائی دیتی ہے۔ وزیر اعلی پنجاب نے جو بارہ رکنی کمیٹی بنائی ہے اس میں سنی اتحاد کونسل کے چھ اراکین کو ممبر بنایا گیا۔

یہ ممبران پنجاب کے حکمرانوں کے ساتھ ٹھنڈے عالی شان دفاتر میں بیٹھ کر میٹنگ کرتے ہیں۔ ان اجلاسوں میں وہ اپنا یہ مطالبہ منوانے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ محکمہ اوقاف کے زیر انتظام تمام مزارات پر سنی اتحاد کونسل کے سفارش کردہ افراد کو تعینات کیے جائیں۔

اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ بریلیوں سنیوں کی تنظیموں کے اراکین کو مزاروں پر کروڑوں کے نذرانوں پر اختیارات مل جائیں گے۔

اب تک کے احتجاج اور حکومتی نام نہاد اقدامات کا یہ واحد عملی نتیجہ نکلتا دکھائی دے رہا ہے لیکن کسی نے سوچا کہ بظاہر عملی شکل اختیار کرتا دکھائی دینے والا یہ واحد اقدام لاکھوں کروڑوں عام زائرین کے لیے کس قدر بےمعنی ہے۔

اسی بارے میں