لال مسجد کے سات ’کیوں‘

لال مسجد
Image caption ’جنہوں نے مشرقی پاکستان آپریشن پر معافی نہ مانگی انکے آگے لال مسجد آپریشن کس کھیت کی مولی تھا‘

کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی ( سی ڈی اے ) اور آئی ایس آئی کے صدر دفتر سے لگ بھگ ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع سرکاری لال مسجد کے دو منتظم بھائی جن کا تعلق دور افتادہ ضلع راجن پور کے بھی دور افتادہ گاؤں سے ہےانہیں اچانک یہ خیال آتا ہے کہ صرف مسجد کی امامت اور ایک چھوٹے سے مکتب سے کام نہیں چلے گا۔لہذا وہ مسجد سے متصل لائبریری کے لئے مختص ایک بڑے سے خالی پلاٹ پر قبضہ کرتے ہیں اور لڑکیوں کے مدرسے جامعہ حفصہ کی بنیاد پڑ جاتی ہے۔وہی کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی جس کی اجازت کے بغیر آپ اپنے مکان کے نقشے میں ایک گز کا اضافہ نہیں کرسکتے۔اتنے بڑے پلاٹ کے قبضے کو درگذر کردیتی ہے ۔کیوں ؟ ( یہ پہلا کیوں ہے)

پھر اطلاع ملتی ہے کہ دونوں بھائیوں میں سے چھوٹے بھائی کے نمازِ جمعہ کے خطبات میں شدت پسندی پر اکسانے کے موضوعات در آئے ہیں اور انکی شدت بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔ نہ تو محکمہ اوقاف اس کا نوٹس لیتا ہے اور نہ ہی کوئی حساس ادارہ ۔کیوں ؟ ( یہ دوسرا کیوں ہے)

پھر اطلاع ملتی ہے کہ ایک بھائی کی کار سے غیرقانونی آٹومیٹک اسلحہ برآمد ہوا ہے۔لیکن ایک وفاقی وزیر کی مداخلت پر معاملہ آگے نہیں بڑھایا جاتا۔ کیوں ؟ ( یہ تیسرا کیوں ہے)

پھر اطلاع ملتی ہے کہ جامعہ حفصہ کی ڈنڈا بردار طالبات کی ایک بریگیڈ نے مدرسے کے قریب ایک لائبریری پر قبضہ کرلیاہے۔ اس بریگیڈ کے زریعے سیکٹر جی سکس میں ’غیر شرعی اورمخربِ اخلاق‘ سرگرمیوں کے خلاف مہم کا آغاز ہوجاتا ہے۔ مشکوک مکانات پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔خواتین کو گھروں سے پکڑ کر مدرسے میں مقدمہ چلانے کے لیے لایا جارہا ہے۔ان سے توبہ کروائی جارہی ہے۔

لال مسجد کے سامنے والی مارکیٹ میں میوزک کی دوکانیں بند کرانے کے لیے جتھہ بردار زبانی و تحریری حکمیہ اپیلیں کررہے ہیں۔یہ سلسلہ لگ بھگ پانچ ماہ کے عرصے پر پھیلا ہوا ہے۔اور اس کا عروج سیکٹر ایف سیون میں چینی خواتین کے ایک مساج پارلر پر ڈنڈا بردار طالبات کا چھاپہ اور مارپیٹ ہے۔لیکن ان پانچ ماہ کے دوران مقامی انتظامیہ سے وزارتِ داخلہ تک اور پولیس کی سپیشل برانچ سے آئی ایس آئی تک کسی کے پاس کوئی مؤثر حکمتِ عملی دکھائی نہیں دیتی کہ کیا کیا جائے۔کیوں ؟ ( یہ چوتھا کیوں ہے )

پھر اطلاع ملتی ہے کہ مسجد میں جدید ترین اسلحہ جمع ہورہا ہے۔تربیت یافتہ عسکری نوجوان ڈیرے ڈال رہے ہیں۔آس پاس کی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔پولیس سے روزانہ آنکھ مچولی جاری ہے۔ میڈیا کے مزے آگئے ہیں۔ٹی وی اینکرز تجزیے کی سرحد سے نکل کر مصالحت کاری کی حدود میں داخل ہوگئے ہیں۔

جو کام پانچ ماہ پہلے کرنے چاہئیں تھے وہ اب ہورہے ہیں۔اس ڈرامے کے مرکزی کردار دونوں بھائیوں کے پاس علما اور حکمران جماعتوں کے مصالحتی وفود بھیجے جارہے ہیں۔مختلف فارمولوں اور حکمتِ عملی پر غور ہورہا ہے۔اور دونوں بھائی نہ سرکاری مصالحت کاروں کی سن رہے ہیں نہ علما کی اپیلوں کو خاطر میں لارہے ہیں۔یہ دونوں بھائی آخر کیوں ڈٹے ہوئے ہیں۔اپنی قوتِ ایمانی کے بل پر یا کسی کے کہنے پر ؟( یہ پانچواں کیوں ہے)

پھر لال مسجد والوں کو آخری الٹی میٹم دیا جاتا ہے۔جو کام پانچ ماہ پہلے پولیس کرسکتی تھی اب فوجی کمانڈوز کے سپرد کردیا گیا ہے۔میڈیا کو ایک سرکس مہیا ہو گیا ہے۔آخری شب بقول چوہدری شجاعت حسین سمجھوتہ ہوچکا ہے۔ بڑے بھائی کی گرفتاری کے بعد چھوٹے بھائی نے بھی محفوظ راستے کی یقین دھانی پر اپنا ٹھکانا چھوڑنے اور راجن پور جانے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔مگر پھر اوپر سے حکم آتا ہے کہ وقت ختم ۔کوئی لچک نہیں۔کوئی مصالحت نہیں۔آپریشن شروع ہے۔سوال یہ ہے کہ پانچ ماہ تک انتہائی لچک دکھانے والی حکومت آخر عین وقت پر بے لچک کیوں ہوگئی ؟ ( یہ چھٹا کیوں ہے)

آپریشن کے نتیجے میں چھوٹے بھائی سمیت سو کے لگ بھگ ہلاکتیں ہوئیں۔ پورے ملک پر سکتہ طاری ہوگیا۔آپریشن کا جواز یہ بتایا گیا کہ لال مسجد کمپلیکس شدت پسندوں کا گڑھ بن چکا تھا اور ریاستی رٹ چیلنج کررہا تھا۔لال مسجد کمپلیکس میں بھاری تعداد میں جدید اسلحہ موجود ہے۔لیکن آپریشن کے نتیجے میں نہ تو خوفناک شدت پسند ہاتھ آئے اور نہ ہی اسلحے کا بھاری ذخیرہ مل سکا۔کیوں ؟ کیا یہ شدت پسند اسلحے سمیت پر لگا کر اڑ گئے تھے یا اندر کی اطلاعات جمع کرنے والے اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکی گئی تھی یا ان اداروں نے فیصلہ سازوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی تھی ؟ ( یہ ساتواں کیوں ہے )

ہوسکتا ہے ایک آزادانہ عدالتی کمیشن جذبات پر کچھ مرہم رکھ دیتا۔(لیکن حمود الرحمان کمیشن کے بعد لگتا ہے کہ اس ملک میں آزادانہ کمیشن کا دروازہ سختی سے بند کردیا گیا) ۔ہوسکتا ہے پرویز مشرف ٹی وی پر مصلحتاً ہی سہی معافی مانگ لیتے تو عام آدمی بھی اس واقعے کا متوازن تجزیہ کرنے کے قابل ہوجاتا اور اسے آپریشن سے پہلے لال مسجد انتظامیہ کی من مانیاں بھی یاد رہتیں۔لیکن جنہوں نے مشرقی پاکستان آپریشن پر معافی نہ مانگی انکے آگے لال مسجد آپریشن کس کھیت کی مولی تھا ؟

چونکہ یہ نہ ہوسکا اس لیے لال مسجد آپریشن کے نتائج دو آتشہ ہوگئے۔شدت پسندوں کو جوشیلے جوانوں کی شکل میں چارے کی پوری فصل دستیاب ہوگئی۔ جن جہادی اور شدت پسند تنظیموں کی قیادت نے اپنے کارکنوں کو سمجھانے کی کوشش کی وہ بھی جوشیلے کارکنوں کو ایک مزید شدت پسند دھڑا بنانے یا دیگر دھڑوں میں شامل ہونے سے نہ روک سکیں۔اس کے نتیجے میں ہر دھڑے نے دشمنوں کی اپنے اپنے حساب سے فہرست ترتیب دے لی۔لیکن ان تمام فہرستوں میں دو دشمن مشترک تھے۔ریاستِ پاکستان اور وہ عام لوگ چاہے انکا تعلق کسی بھی عقیدے اور فرقے سے ہو۔ اگر وہ ہمارے ساتھ نہیں تو ہمارے دشمن ہیں۔جو پہلے سے تکفیری تھے وہ تو تھے ہی۔جو نہیں تھے وہ لال مسجد آپریشن کے طفیل انجانے میں تکفیری ہوگئے۔

یقین نہ آئے تو جولائی دو ہزار سات سے پہلے اور لال مسجد کا تیزابی جار ٹوٹنے کے بعد خودکش حملوں، کار بم دھماکوں، پولیس، پیرا ملٹری ، تحقیقاتی اداروں، انٹیلی جینس ایجنسیوں، فوجی مراکز، مساجد، امام بارگاہوں، غیر مسلم عبادت گاہوں اور مزارات پر حملوں کی تعداد کا موازنہ کرلیجیے۔

اسی بارے میں