مہمند: شدت پسندوں کا نیا گڑھ

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی کو جغرافیائی طور پر اگر کسی بھی نقشے پر آپ دیکھیں تو اس کا شدت پسندی کی لہر سے بچنا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ شمال میں باجوڑ واقع ہے جہاں وزیرستان کے بعد شدت پسندی نے سر اٹھایا۔ مشرق میں ملاکنڈ، جنوب میں خیبر اور مغرب میں افغانستان واقع ہے۔

وزیرستان اور باجوڑ کے بعد مہمند ایجنسی میں بھی شدت پسندوں نے معمول کےمطابق پہلے پہل حجاموں کو داڑھیاں منڈہوانے سے روکنے، پولیو مہم کی مخالفت، موسیقی پر پابندی اور لڑکیوں کی تعلیم بند کروانے کے اقدامات سے دو ہزار سات میں آغاز ہوا۔ سونے پر سہاگہ انہوں نے انصاف کی جلد فراہمی کے لیے اپنی عدالتیں بھی لگانا شروع کر دیا۔

اسی سال شدت پسندوں نے سکیورٹی فورسز کو بھی چیلنج کرنا شروع کر دیا۔ سکیورٹی فورسز پر گھات لگا کر حملے، ریموٹ کنٹرول بم دھماکے اور میزائل حملے تقریباً روزانہ کا معمول بن گئے۔ اس وقت واضح ہوگیا کہ تقریباً تئیس سو مربع کلومیٹر پر مشتمل مہمند ایجنسی بھی شدت پسندوں کا نیا گڑھ بن گیا ہے۔

چودہ جنوری دو ہزار آٹھ کو نیم فوجی ملیشیاء فرنٹئر کور کے ایک قافلے پر غلنئی میں حملے میں سات فوجی شدت پسندوں کے اس خطے میں بڑھتے اعتماد کا عکاس تھا۔ اس جھڑپ میں چھ شدت پسند جن میں ان کا کمانڈر فقیر حسین بھی شامل تھا مارے گئے۔ یہ حملہ ایف سی کی جانب سے چار روز قبل شدت پسندوں کے خلاف باضابطہ کارروائی کے آغاز کے بعد ہوا۔ اس کارروائی سے ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے۔

شدت پسندی کی آمد سے قبل مہمند ایجنسی عمومی طور پر پرامن علاقوں میں سے ایک تھا۔ مہمند قبائل کا مسکن یہ علاقہ بھی باقی ایجنسیوں کی طرح روزگار کے مواقعوں سے عاری خطہ ہے۔ بعض علاقوں میں تھوڑی بہت کھیتی باڑی یا سنگ مرمر کا کاروبار ہی قابل ذکر روزگار کے دو ذرائع قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ تاہم یہاں چوری کی گاڑیوں کا کاروبار اس کی قدرے بدنامی کا سبب بنا کرتا تھا۔

تقریبا چار لاکھ آبادی پر مشتمل مہمند ایجنسی بھی دیگر قبائلی ایجنسیوں کی طرح شدت پسندی کے مسئلے سے دوچار ہوچکا ہے۔ یہاں پاکستانی فوج پہلی مرتبہ دو ہزار تین میں تعینات کی گئی۔ بعض لوگوں کے مطابق اس خطے کا بھی مسئلہ یہی تھا کہ حکومت نے یہاں شدی پسندی کو جڑیں پکڑنے سے قبل نکال پھیکنے میں تاخیر کی۔ بےبس قبائلی سرداروں کو بھی جرگوں پر خودکش حملوں اور دپمکیوں کے ذریعے حکومتی حمایت سے باز رکھنے پر مجبور کیا گیا۔

یہ مہمند ایجنسی ہی تھی جہاں جولائی دو ہزار سات میں اسلام آباد میں لال مسجد محاصرے کے جان لیوا انداز میں اختتام پر ردعمل دکھائی دیا۔ تقریباً دو سو شدت پسندوں نے حاجی صاحت تورنگزئی کے مزار پر قبضہ کرکے قریبی مسجد کو لال مسجد کا نام دے دیا۔

اس قبضے سے وہاں شدت پسندوں کے رہنما عبدالولی عرف عمر خالد کا نام پہلی مرتبہ سامنے آیا۔ صافی قبیلے سے تعلق رکھنے والے اس تیس سالہ نوجوان کا تعلق کنڈاؤ سے تھا۔ ان کو کشمیر میں شدت پسند کارروائیوں میں شرکت کا موقع حرکت الماہدین تنظیم نے دیا تھا۔ وہ بعد میں افغانستان میں بھی لڑا لیکن لال مسجد نے اسے بھرپور انداز میں واپس لوٹنے کا موقع فراہم کیا۔

میڈیا کی اہمیت سے آگاہ یہ کمانڈر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا مہمند ایجنسی میں نمائندہ مقرر ہوا تھا۔ اس کی ہلاکت کی اطلاعات بھی ماضی میں سامنے آتی رہی ہیں تاہم انہوں نے ایک ویڈیو کے ذریعے ان کی تردید کی تھی۔ وہ آج کل کہاں ہیں اس بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے شدت پسندوں کے خلاف یکے بعد دیگرے کارروائی کی وجہ سے طالبان کے پاس اس وقت کوئی علاقہ نہیں ہے۔ وہ تتربتر ہیں تاہم ایک آدھ حملہ وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں