صحافیوں کا یوم سیاہ اور احتجاجی مظاہرے

صحافیوں کا احتجاج
Image caption صحافیوں کا سب سے بڑا مظاہرہ لاہور میں پنجاب اسمبلی کے باہر ہوا

پاکستان میں صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم پی ایف یو جے نے پنجاب اسمبلی کی جانب سے پاکستانی میڈیا مخالف قرارداد کی منظوری کے خلاف ملک بھر میں یوم سیاہ منایا اور احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔

سنیچر کو پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس یعنی پی ایف یو جے کی اپیل پر ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں صحافیوں نے یوم سیاہ مناتے ہوئے اپنے بازورں پر سیاہ پیٹیاں باندھیں، احتجاجی مظاہرے کیے اور ریلیاں نکالیں۔

صحافیوں کا سب سے بڑے احتجاجی مظاہرہ لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے کیا گیا جس میں مسلم لیگ قاف، ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے علاوہ وکلا تنظیموں کے عہدیداروں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے بھی میں حصہ لیا۔

خیال رہے کہ پنجاب اسمبلی میں منظور ہونے والی قرارداد میں ارکان اسمبلی کی جعلی ڈگریوں کے معاملے پر پاکستانی ذرائع ابلاغ میں ہونے والی خبروں اور تبصروں کی مذمت کی گئی تھی اور اسے غیرذمہ دارانہ قرار دیا گیا تھا۔

لاہور سے ہمارے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ احتجاج میں شامل صحافیوں نے جو پلے کارڈز اٹھا رکھے ان پر آزادی صحافت کے حق میں اور پنجاب اسمبلی کی قرارداد کے خلاف عبارتیں درج تھیں۔

صحافی رہنماؤں نے پنجاب اسمبلی کی قرار داد پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ وہ اس قسم کی قراردادوں سے ڈرنے یا گھبرانے والے نہیں ہیں۔

لاہور کے علاوہ اسلام آباد، کراچی ، پشاور اور کوئٹہ سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں نے احتجاج کیا گیا۔

اخباری مالکان کی تنظیم کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز یا سی پی این ای کا اجلاس میں لاہور میں ہوا جس میں پنجاب اسمبلی کی میڈیا کے خلاف قرار داد کی مذمت کی اور اعلان کیا کہ پنجاب اسمبلی کی قراراداد کی غیر مشروط واپسی تک حکومت سے مذاکرات نہیں ہونگے۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وضاحت کی کہ پنجاب اسمبلی نے میڈیا کے خلاف جو قرار داد منظور کی ہے وہ ان کی جماعت کی پالیسی نہیں بلکہ ایک انفرادی عمل ہے تاہم شہباز شریف نے اس امید کا اظہار کیا صحافی اور سیاست مل بیٹھ کر اس معاملے کو حل کرلیں۔

ُادھر سابق حکمران جماعت مسلم لیگ قاف کے رہنما اور پنجاب اسمبلی قائد حزب مخالف چودھری ظہیر الدین نے صحافیوں کے حق میں ایک قرارداد اسمبلی میں جمع کرائی جس پر بارہ جولائی یعنی پیر کے روز کارروائی کا امکان ہے۔

اسی بارے میں