دو بھائیوں پر توہین رسالت کا مقدمہ

توہین رسالت کے قانون کے خلاف مظاہرہ

پنجاب کے شہر فیصل آباد میں پولیس نے دوعیسائی بھائیوں کے خلاف توہین رسالت کے الزام میں مقدمہ درج کرنے کے بعد انہیں گرفتار کرلیا ہے۔

حراست میں لیے گئے دونوں بھائیوں پر یہ الزام ہیں انہوں نے ہاتھ سے لکھے ہوئے ایسے پملٹ تقسیم کروائے ہیں جن پر توہین آمیز عبارتیں درج تھیں۔ گرفتار ہونے والوں میں بتیس سالہ راشد ایمونل اور ان کا چوبیس سالہ چھوٹا بھائی ساجد ایمونل شامل ہیں۔

فیصل آباد کے پولیس اسٹیشن سول لائن میں درج کیے گئے مقدمہ کے مدعی خرم کا کہنا ہے کہ فیصل آباد لاری اڈے پر ایسے پمفلٹ تقسیم کیے جارہے تھے جن پر توہین آمیز عبارت لکھی ہوئی اور ہاتھ سے لکھے گئے ان پمفلٹوں پر دو افراد کے نام ان کے موبائیل نمبر بھی درج تھے۔

مدعی کے مطابق پملٹ پر لکھے نمبروں پر اس نے فون کیا اور ان سے یہ کہا کہ وہ ان کو عطیات دینا چاہتا ہے جس پر وہ دونوں بھائی سرکلر روڈ پہنچ گئے جہاں پر سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکاروں نے انہیں حراست میں لیا۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ پولیس دونوں بھائیوں کا عدالت سے جسمانی ریمانڈ لینے کے بعد اب ان سے تفتیش کررہی ہے۔

انسانی حقوق کی ایک غیر سرکاری تنظیم ہارمنی فاؤنڈیشن کے عہدیدار عاطف جمیل کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کے جواب میں مسلمانوں کے ایک ہجوم نے مقامی چرچ کے باہر مظاہرہ کیا اور چرچ کے دروازے پر پتھراؤ بھی کیا ۔ان کےبقول چرچ کے دروازے پر پتھراؤ کرنے پر پولیس کو کارروائی کے لیے درخواست دے دی گئی ہے۔

عاطف جمیل کا کہنا ہے کہ پولیس نے توہین رسالت کے الزام میں دو عیسائی بھائیوں کے خلاف جو مقدمہ درج کیا ہے وہ بے بیناد ہے اور یہ مقدمہ دونوں بھائیوں کے خلاف ایک سازش ہے کیونکہ بقول ان کے کسی نے جان بوجھ کر دونوں بھائیوں کے نام اور موبائل فون نمبر ان توہین آمیز پملٹوں پر لکھے ہیں۔

فیصل آباد کے صحافی محمد سلیم نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے کے اندراج کے بعد وارث پورہ کے علاقے میں مسلم اور عیسائی آباد کی درمیان کشیدگی کا ماحول رہا۔ مسلمانوں نے عیسائی آبادی کے قریب احتجاج کرتے ہوئے ٹائر جلائے اور مظاہرین نے ملزموں کو کڑی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ پولیس کی نفری کی وجہ سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

خیال رہے کہ تعزیرات پاکستان کے تحت دوسو پچانوے سی کی سزا موت ہے۔

پاکستان میں توہین رسالت کا یہ قانون فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کے دور میں بنایا گیا تھا اور تب سے انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے تنقید کا نشانہ بناتی ہیں اور اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال کیا جاتا ہے جس کا نقصان پاکستان کی اقلیتوں کو پہنچتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مقدمات ذاتی انتقام کی بنیاد پر درج کیے جاتے ہیں۔