مظفرآباد:روایتی عوامی درعمل نظر نہیں آتا

فائل فوٹو، کشمیر میں احتجاج
Image caption کشمیر میں عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں گزشتہ ایک ماہ سے شدت آئی ہے

ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک ماہ سے احتجاج جاری ہے اور اس دوران سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں بیس کے قریب عام شہری ہلاک ہو چکے لیکن وادی میں ہونے والے واقعات پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کسی عوامی ردعمل کا سامنے نہ آنا حیران کن ہے ۔

وادی کی صورت حال پر لائن آف کنڑول کے اس طرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سیاست دانوں نے روایتی بیانات تو دیئے ہیں لیکن کشمیر کے اس خطے میں وادی کے معاملات پر جو ایک جذباتی اور فکری وابستگی دیکھنے میں آیا کرتی تھی اس بار اس کا فقدان رہا ہے اور کوئی عوامی رد عمل نہیں ہوا۔

وادی میں واقعات کے تسلسل پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کوئی رد عمل سامنے نہ آنے پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے بزرگ سیاست دن اور سابقِ وزیر اعظم سردار عبدالقیوم خان نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ’ ہر شخص کو اپنی فکر ہے اور وہ دوسرے کے بارے میں سوچنے کے لیے تیار ہی نہیں ہے‘۔

ان کا کہنا ہے کہ’ ہماری طرف کے لوگ مفادات میں الجھ چکے ہیں اور اسی لیے وادی میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات پر کوئی خاص عوامی رد عمل نہیں ہو رہا ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ بعض غیر ضروری کام غیر ضروری طریقے سے ہوتے رہے جس کی وجہ سے لوگوں کا جذبہ کم ہوگیا تاہم انہوں نےغیر ضروری اورغیر ضروری طریقوں کی وضاحت کرنے سے گریز کیا۔

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ ایک ماہ سے عوامی احتجاج ہو رہا ہے اور اس دوران پولیس اور نیم فوجی دستوں کی فائرنگ کے نتیجے میں کوئی بیس کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اس عوامی احتجاج کو روکنے کے لیے آئے روز کرفیو نافذ کیا جاتا ہے اور صورت حال پر قابو پانے کے لیے گذشتہ ہفتے سرینگر اور بعض دوسرے حساس علاقوں میں فوج طلب کی گئی اور ذرائع ابلاغ پر پابندیاں بھی لگائی گئی تھیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم چودھری سلطان محمود کا کہنا ہے کہ’ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو متحرک کرے لیکن پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت کی طرف سے وادی میں رونما ہونے والے واقعات پر سرد مہری کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے‘۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مظفرآباد کی حکومت خود غیر یقینی کی سی صورت حال سے دوچار ہے اور معلوم نہیں کب یہ حکومت ختم ہوجائے گی اور موجودہ اسمبلی کو چوتھے وزیر اعظم کا انتخاب کرنا پڑے۔

انہوں نےبتایا کہ اتوار کو میرپور میں وادی کشمیر کی صورت حال پر ہونے والے سیمینار میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین نے یہ طے کیا ہے کہ وہ ہندوستان کی سکیورٹی فورسز کی طرف سے وادی کشمیر میں ڈھائے جانے والے ’ مظالم‘ پر ملک کے اندر اور باہر احتجاج کیا جائے گا۔

چودھری سطان محمود نے مزید کہا کہ انھیں وادی کی صورت حال کے بارے میں دوہفتوں سے خبرین ملنا شروع ہوئی ہیں اور لوگوں کو عوامی احتجاج کے لیے محترک کرنے میں وقت تو لگتا ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں سن انیس سے اٹھاسی میں مسلح تحریک کے آغاز کے بعد ابتدائی سالوں میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنڑول کے دوسری جانب ہونے والے واقعات پر وسیع پیمانے پر عوامی رد عمل دیکھنے میں آیا کرتا تھا لیکن حالیہ برسوں میں صورت حال میں تبدیلی کے اشارے ملتے ہیں ۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے صحافی اور تجزیہ نگار ارشاد محمود کا کہنا ہے کہ وادی کے واقعات پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کوئی خاص رد عمل سامنے نہ آنے کی کئی وجوہات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ’ اس کی ایک وجہ یہ ہےکہ کشمیر کے اس خطے میں بہت زیادہ آزادانہ فکر اور سوچ نہیں ہے اور وہاں کی سیاسی جماعتیں اور حکومت اسلام آباد کی طرف دیکھتی رہتی ہیں کہ وہاں سے کیا اشارہ ملتا ہے اور وہ اسی کے مطابق فیصلہ کرتی ہیں۔‘

ان کا کہنا کہ جب پاکستان یا اس کے کچھ ادارے کشمیر کے معاملے پر متحرک ہوتے ہیں تو آزاد کشمیر کی حکومت اور سیاسی جماعتیں بھی حرکت میں آجاتی ہیں۔

ارشاد محمود ’ حکومت پاکستان نے اس بار بظاہر ہندوستان کے ساتھ سے بات چیت کے پیش نظر وادی میں میں رونما ہونے والے واقعات پراس طرح کا رد عمل ظاہرنہیں کیا جس طرح یہ ماضی میں ظاہر کرتا رہا ہے اور اس کے اثرات اس کے زیر انتظام کشمیر میں بھی نظر آتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی کہ آٹھ اکتوبر سنہ دو ہزار پانچ کے تباہ کن زلزلے کے باعث بہت سارے لوگ سماجی اور معاشی مسائل کا شکار ہیں اور وہ اور کسی مسئلے کی طرف توجہ نہیں دے پاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں نے ذہن میں یہ بات بھی ہے کہ’ بیس سال کی مسلح تحریک کے دوران پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے بہت سارے نوجوانوں نے وادیِ کشمیر میں بھارتی فوج کے ساتھ لڑتے ہوئے جان دی اور جب لوگوں نے یہ دیکھا کہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا تو ان میں مایوسی پھیل گئی۔‘

ارشاد محمود کے مطابق’ جہدوجہد کا طویل ہونا بھی عوامی درعمل کے سامنے نہ آنے کی ایک اہم وجہ ہے کیونکہ جب کوئی جہدوجہد طویل ہوجاتی ہے تو لوگ مایوس ہونے کے ساتھ ساتھ قدرے لاتعلق ہوجاتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان رابط کا فقدان بھی ایک وجہ ہے جس کے باعث پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں وہاں کے واقعات پر رد عمل نہیں ہوا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی واقعہ پر رد عمل اسی وقت سامنے آتا ہے جب مقصد کو آگے بڑھانے والے سیاست دان ان سرگرمیوں میں خلوص اور نیک نیتی سے کام لے رہے ہوں لیکن جب سیاسی رہنماؤں کو ایسی سرگرمیوں سے فرصت نہ ملے جو اقتدار کے گرد گھومتی ہو تو پھر یہ توقع کرنا محال ہے کہ ان کا طرز عمل عوامی جذبوں کا اظہار بن جائے۔

اسی بارے میں