میڈیا قرار داد پر نئی بحث کا آغاز

Image caption صحافیوں تنظیموں کے احتجاج کے بعد سیاسی جماعتوں نے اس قرارداد سے لاتعلقی کا اظہار شروع کردیا ہے

جہاں پنجاب اسمبلی کی ملکی میڈیا کے خلاف منظور کی جانے والی قرار داد کی مذمت کا سلسلہ جاری ہے وہاں ہی یہ اس قانونی نکتہ پر بحث بھی شروع ہے کہ اگر ملک کی پارلیمان یا کسی صوبے کی اسمبلی کوئی قرارداد منظور کرتی ہے تو اس قرارداد کو واپس لیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

قرار داد کی واپسی کے نکتہ پر ملک کے سابق وزراء کے درمیان بھی اختلاف پایا جاتا ہے اور اس نکتہ پر ان کی اپنی اپنی رائے ہے۔

سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا کا کہنا ہے کہ پارلیمان یا کوئی صوبائی اسمبلی کوئی قرارداد منظور کرتی ہے تو اس قرارداد کو واپس نہیں لیا جاسکتا ہے جبکہ اس کے برعکس ایک دوسرے وزیرقانون سید افتخار گیلانی کے موقف ہے کہ پارلیمان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی قرارداد کو واپس لے سکتی۔

مسلم لیگ نون کے ترجمان صدیق الفاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ اس تنازعے کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے اور بقول ان کے یہ کمیٹی ارکان اسمبلی اور صحافیوں پر مشتمل ہوگی۔

صدیق الفاروق کا کہنا ہے کمیٹی کی تشکیل ایک کامیابی ہے اور اب یہ کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ اس مسئلے کو کس طرح حل کیا جائے۔ ان کے بقول جس طرح ایک آئینی ترمیم کو ختم کرنے کے لیے پارلیمان نئی ترمیم منظور کرتی ہے اسی طرح ایک بہتر قرار داد بھی لاجاسکتی ہے۔

پنجاب اسمبلی نے جعمہ کے روز پاکستانی میڈیا کے خلاف ایک قرار داد متفقہ طور منظور کی گئی اور قرارد اد کی منظور کے وقت اسمبلی میں موجود مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ قاف میں کسی نے اس قرار داد کی مخالفت نہیں اور اسی بنا پر اسے منظور کرلیا۔

قرار داد کی منظور کے بعد صحافیوں تنظیموں کے احتجاج کے بعد ان سیاسی جماعتوں نے بھی اس قرارداد سے لاتعلقی کا اظہار شروع کردیا جن کے ارکان پنجاب اسمبلی کی موجودگی میں یہ قرار داد منظور کی گئی اس طرح اس بحث نے جنم لیا کہ کیا پنجاب اسمبلی نے جو قرارد داد منظور کی ہے اس کو واپس لیا جاسکتا ہے یا نہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھانے بتایا کہ جب قرار داد اسمبلی میں پیش کردی جاتی ہے تو وہ اسمبلی کی پراپرٹی بن جاتی ہے اس لیے بقول ان کے اس قرار داد کو واپس نہیں لیا جاسکتا۔

تاہم ان کی رائے ایک نئی قرار داد کے ذریعے اس قرارداد کی نفی کی جاسکتی ہے جو اسمبلی نے پہلے منظور کی ہو اور ارکان اسمبلی پہلے منظور کی جانے والی قرار داد کے برعکس یا ان کی نفی میں پیش کی جانے والی قرارداد کی حمایت اور تائید میں ووٹ ڈال سکتے ہیں۔

ڈاکٹر خالد رانجھا نے اس موقف کو قطعی طور پر غلط قرار دیا کہ اسمبلی کی قرار داد کو واپس لیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اپنے موقف کی دلیل میں کہا کہ پنجاب اسمبلی کی کارروائی کو چلانے کے لیے قواعد یا رولز ہیں اور انہیں رولز یا قواعد میں کوئی ایسی شق موجود نہیں ہے جس کے تحت اسمبلی میں منظور کی جانے والی قرار داد کو واپس لیا جاسکے۔

دوسری جانب سابق وزیر قانون سید افتخار گیلانی کہتے ہیں کہ پارلیمان یا صوبائی اسمبلیاں خود مختار ادارے ہیں اس لیے منظور کی جانے والی قرارداد واپس لی جاسکتی ہے۔

ان کے بقول اسمبلی اپنی قرارداد کو واپس بھی لے سکتی اور اس میں ترمیم بھی کرسکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قانون کا بینادی اصول ہے کہ جو احکامات صادر کیے جاتے ہیں ان کو واپس بھی لیا جاسکتا ہے۔

سید افتخار گیلانی کا کہنا ہے کہ یہ بات نہیں مانی جاسکتی کہ پارلیمنٹ خود مختار ادارہ بھی ہو اور اس کے پاس اپنی قرارداد واپس لینے کا اختیار حاصل نہ ہو۔ انہوں نے اپنے موقف کے حق میں کہا کہ سپریم کورٹ کوئی حکم دیتی ہے تو وہ اس پر نظر ثانی بھی کرسکتی ہے۔

ادھر مسلم لیگ نون کے قائد نواز شریف نے لندن میں اپنی اخباری کانفرنس میں کہا کہ اس رکن پنجاب اسمبلی ثناء اللہ مستی خیل کو پارٹی سے فارغ کردیا جائے جہنوں نے اس قرارداد کو پیش کیا جبکہ پنجاب کے وزیراعلیْ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ یہ قرار دار ان کی جماعت مسلم لیگ نون کی پالیسی نہیں بلکہ ایک انفرادی عمل تھا۔

مسلم لیگ نون کے قائدین کی موقف پر وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان کڑی نکتہ چینی کی اور کہا کہ نواز شریف قرار داد پیش کرنے والے رکن نثاء اللہ مستی خیل کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتے ہیں حالانکہ اس کو سامنے لایا جائے جس نے یہ شرارت کی ہے۔

ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ قرار داد کو واپس لینے کی رولزمیں کوئی شق نہیں ہے تاہم وہ اس تنازعے کو حل کرنے والے کے لیے ایک پل کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

مسلم لیگ قاف کے رہنما اور سابق وزیر اعلیْ پنجاب چودھری پرویز الہیْ کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے رولز میں کوئی ایسی شق نہیں ہے جس کے تحت منظور کی جانے والی قرار داد واپس لی جاسکتی اس لیے ان کی جماعت نے میڈیا کے حق میں نئی قرار داد اسمبلی میں پیش کی ہے اور امکان ہے اس پر کارروائی بارہ جولائی کو ہو۔

اسی بارے میں