آخری وقت اشاعت:  پير 12 جولائ 2010 ,‭ 15:21 GMT 20:21 PST

سرحد پار سے حملے، ’ نیٹو کو مزید اقدامات کرنا ہونگے‘

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نےگذشتہ جمعہ کو پاکستان کے قبائلی علاقے میں ہونے والے خود کش حملے کی ذمہ داری افغانستان سے آنے والے طالبان پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی حکومت اور نیٹو کو طالبان کو پاکستان میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ’خفیہ معلومات کے مطابق طالبان سرحد کی دوسری جانب سے افغانستان کے علاقے کنہڑ سے آ رہے ہیں اور وہ اپنے ساتھ بارود بھی لارہے ہیں۔‘

وزیر داخلہ نے کہا کہ’ ہم نے افغانستان کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحد کو بند کرے ، خاص طور پر کنہڑ کو کیوں کہ یہ طالبان وہیں سے آرہے ہیں۔‘

فائل فوٹو، رحمان ملک

لاہور میں داتا دربار پر خودکش حملہ آوروں کی شناخت ہو گئی ہے: رحمان ملک

وزیر داخلہ رحمان ملک نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ شدت پسند پاکستان سے افغانستان میں آزادانہ طور پر داخل ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت نے شدت پسندوں کی افغانستان میں دراندازی کو روک دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت نے شدت پسندی کے خلاف کئی اقدامات کیے ہیں اور اس ضمن میں بین الاقوامی برادری کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے شدت پسندوں کو روکنے کے لیے بین الااقوامی برادری پاکستان کی مدد کرے کیوں کہ پاکستان ان کا اتحادی ہے۔

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار ذولفقار علی کا کہنا ہے کہ ایک سوال کہ شدت پسندی کے واقعات صرف مہمند ایجنسی میں نہیں ہو رہے بلکہ پنچاب میں بھی ہوئے اور شدت پسندی کا مسئلہ صرف یہی نہیں کہ شدت پسند صرف سرحد کی دوسری جانب سے آ رہے ہیں تو وزیر داخلہ نے کہا کہ آج تک ہم لاہور کراچی اور حیدر آباد اور دیگر علاقوں سے جہاں سے بھی ہمیں فوری خفیہ معلومات ملتی ہیں شدت پسندوں کوگرفتار کر رہے ہیں۔

افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے شدت پسندوں کو روکنے کے لیے بین الااقوامی برادری پاکستان کی مدد کرے کیوں کہ پاکستان ان کا اتحادی ہے

رحمان ملک

انہوں نے کہا کہ’ ہمیں شدت پسندی کے خلاف جنگ کو جیتنا ہے اور ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ ہمیں یہ جنگ جیتنی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ شدت پسندی کے خلاف تمام ذرائع استعمال کرنے ہیں اور یہ حکومت کا عزم ہے کہ اور طالبان کے مکمل خاتمے تک سخت کارروائی کرنا ہوگی

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر پر دوہرے خودکش حملے میں ایک سو دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ خودکش حملے کے بارے میں پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ مہمند ایجنسی جیسے حملوں کے لیے طالبان سرحد پار سے آ رہے ہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’انسان بہت بے یار و مددگار محسوس کرتا ہے جب شدت پسند سرحد پار سے حملے کر رہے ہوں۔ گزشتہ ہفتے بھی انہوں نے دو سرحدی چوکیوں پر حملے کیے اور واپس وادیِ کنہڑ میں چلے گئے جہاں وہ محفوظ ہیں۔ ان کا پیچھا کرنے کے لیے سرحد پار نہیں کی جا سکتی اور بڑی بے بسی محسوس ہوتی ہے۔‘

انسان بہت بے یار و مددگار محسوس کرتا ہے جب شدت پسند سرحد پار سے حملے کر رہے ہوں۔ گزشتہ ہفتے بھی انہوں نے دو سرحدی چوکیوں پر حملے کیے اور واپس وادیِ کنہڑ میں چلے گئے جہاں وہ محفوظ ہیں۔ ان کا پیچھا کرنے کے لیے سرحد پار نہیں کی جا سکتی اور بڑی بے بسی محسوس ہوتی ہے

اطہر عباس

اس سوال کہ ابھی تک کسی کے خلاف کیوں مقدمہ نہیں چلایا گیا نہ ہی سزا دی گئی ہے، اس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کے پاس شدت پسندی کے خلاف لڑنے کے لیے حکمت عملی ہے اور اس کے لیے وہ فوری خفیہ معلومات کا استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ’ وہ تنظیمیں جو مختلف ناموں سے متحرک تھیں ہم ان کے خلاف سخت کارروائی کررہے ہیں بلکہ یہ کارروائی پہلے ہی شروع ہوچکی ہے۔‘

پاکستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیموں لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کسی مذہب کی پیروی نہیں کرتے ہیں اور صرف اپنے رہنماوں کے احکامات کی تکمیل کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ لاہور میں داتا دربار پر خودکش حملہ آوروں کی شناخت ہو گئی ہے۔ انھوں نے عندیہ دیا کہ پاکستان میں شدت پسندی کے واقعات میں کوئی تیسری طاقت ملوث ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔