اعلیٰ عدالتوں کی آسامیاں مشتہر کی جائیں

Image caption پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس افتخار محمد چوہدری اٹھارویں ترمیم کے خلاف درخواستوں کی سماعت کررہے ہیں۔

سپریم کورٹ میں اٹھارویں ترمیم کی سماعت کے دوران پاکستان لائرز فورم کے وکیل اے کے ڈوگر کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں میں بھی خالی آسامیوں کے لیے اشتہار دیا جائے اور ان آسامیوں کے لیے درخواست دینے والے اُمیدواروں سے بھی اُسی طرح تحریری امتحان اور انٹرویو لیے جائیں جس طرح سول ججوں کی تعیناتی کے لیے ہوتے ہیں۔

پیر کے روز چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ نے اٹھارویں ترمیم میں ججوں کی تعیناتی کے حوالے سے بنائے جانے والے پارلیمانی کمیشن سمیت دیگر ترامیم کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اے کے ڈوگر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں ججوں کی تعیناتی کا جو طریقہ کار تھا وہ انتہائی بوگس تھا اور صرف من پسند افراد کو اعلی عدالتوں میں جج تعینات کیا جاتا تھا جس سے دیگر وکلاء کی حق تلفی ہوتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عدلیہ اُس وقت تک آزاد نہیں ہوسکتی جب تک ملک میں ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر کی حد کی شرط ختم نہیں کر دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور برطانیہ میں ججوں کی ریٹائرمنٹ کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ہے۔

اے کے ڈوگر کا کہنا تھا کہ امریکہ میں لوگ اتنا القاعدہ سے نہیں ڈرتے جتنا وہ سپریم کورٹ سے ڈرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی اور اُس کا با اختیار ہونا اُس کے فیصلوں میں نظر آنا چاہیے۔

پاکستان لائرز فورم کے وکیل کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں جج صاحبان کے پاس جھنڈے والی گاڑیاں نہیں ہوتیں اور وہ ریل گاڑیوں پر سفر کرتے ہیں تاہم اُن کے فیصلوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کتنے با اختیار ہے۔

سیاسی جماعتوں میں انتخابات پر پابندی سے متعلق اے کے ڈوگر کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم میں اس شق کو شامل کرکے سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین سے اس شق کو ختم کرکے آئین کی کمانڈ کو ختم کردیا گیا ہے۔

اے کے ڈوگر کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں اب کوئی مارشل لاء آیا تو وکلاء اس کا راستہ روکیں گے کیونکہ ہر بار میں سالانہ انتخابات ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے انتخابات کی نگرانی الیکشن کمیشن کو کرنی چاہیے کیونکہ اس سے ملک میں جمہوریت مضبوط ہوگی۔

درخواستوں کی سماعت جاری ہے۔

اسی بارے میں