وکلاء نے عدالت کو تالا لگا دیا

وکلاء
Image caption وکلاء کی طرف سے تشدد کے واقعات میڈیا میں آتے رہے ہیں

پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے وکلا نے ضلع کے سشین جج کے مبینہ نامناسب رویہ پر احتجاج کرتے ہوئے انہیں عدالتی کام کرنے سے روک کر ان کی عدالت کو تالا لگا دیا ہے۔

وکلا کے اس طرز عمل پر احتجاج کرتے ہوئے لاہور کی ماتحت عدلیہ کے تمام ججوں نے عدالتی کام بند کر دیا ہے اور انہوں نے اس ضمن میں پندرہ دنوں کی چھٹی کے لیے درخواستیں بھی دے دی ہیں۔

وکلا کا کہنا ہے کہ سشین جج لاہور کا وکیلوں کے ساتھ رویہ نامناسب ہے اور اسی رویہ کے خلاف لاہور بار ایسوسی ایشن نے ایک قرار داد بھی منظور کی ہے اسی لیے انہیں کام کرنے سے روکا گیا ہے۔

ہمارے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ پیر کی صبح وکلا سیشن جج لاہور زوار احمد شیخ کی عدالت میں گئے اور انہیں عدالتی کام کرنے سے روک دیا۔ اسی دوران ماتحت عدلیہ کے دیگر جج بھی وہاں پہنچ گئے جس پر وکلا نے نعرے لگانے شروع کردیئے۔

پولیس نے صورت حال کشیدہ ہونے پر سشین جج اور دیگر ججوں کو سشین کورٹ سے نکلنے کے لیے بڑی گاڑیاں منگوائیں جن میں ماتحت عدالت کے ججوں کو بیٹھا کر وہاں سے نکالا گیا۔ اس موقع پر مشتعل وکلا نے سیشن جج کے خلاف نعرے لگائے اور ان کی گاڑی پر پتھراؤ بھی کیا تاہم تمام ججوں کو سیشن کورٹ سے ہائی کورٹ پہنچا دیا گیا۔

لاہور بار ایسوسی ایشن کا چند روز پہلے ایک اجلاس ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ سیشن جج لاہور کا وکیلوں کے ساتھ رویہ نامناسب ہے۔ اجلاس میں سیشن جج لاہور کے خلاف ایک قرار داد بھی منظور کی گئی تھی اور ان کے رویہ کے خلاف ایوان عدالت سے سیشن کورٹ تک ایک ریلی بھی نکالی گئی تھی۔

بارایسوسی ایشن کے اس اقدام کے خلاف لاہور کی ماتحت عدلیہ کے جج اپنے سیشن جج کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ گئے اور ایک قرارداد رجسٹرار ہائی کورٹ کے آفس میں جمع کرائی۔

خیال رہے کہ کچھ عرصے میں یہ دوسرا موقع ہے جب ماتحت عدلیہ کے ججوں نے وکلا کے رویہ کے خلاف احتجاج کیا ہے اس سے پہلے پنجاب کے شہر فیصل آباد میں بھی ماتحت عدلیہ کے ججوں نے وکلا کے رویہ کے خلاف ہڑتال کرتے ہوئے عدالتی کام چھوڑ دیا تھا اور لاہور کی ماتحت عدلیہ کے ججوں نے بھی ان کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہوئے عدالتی کام نہیں کیا تھا۔تاہم جج کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرنے والے وکیل نے غیر مشروط معافی مانگ لی تھی جس کے بعد ماتحت عدلیہ کے ججوں نے اپنی ہڑتال ختم کرتے ہوئے دوبارہ کام شروع کردیا تھا۔

اسی بارے میں