لاہور: وکلا کی ہڑتال کا فیصلہ واپس

 فائل فوٹو
Image caption وکلاء کی طرف سے تشدد کے واقعات میڈیا میں آتے رہے ہیں

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قاضی محمد انور نے لاہور میں وکلا کی طرف سے ضلع کےسیشن جج کو کام سے روکنے اور ان کی عدالت کو تالا لگانے کے واقعہ پر سیشن جج لاہور سے معافی مانگ لی ہے۔

مقامی ٹی وی چینلز سے بات کرتے ہوئے قاضی انورنے کہا کہ سیشن جج کو کام سے روکنے کے واقعہ پر انہیں بہت دکھ ہوا ہے کیونکہ یہ واقعہ جس جج کے ساتھ پیش آیا ہے وہ ایک نیک اور دیانت دار جج ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے سیشن جج لاہور سے معافی مانگتے ہیں۔ ان کے بقول انہوں نے معافی سپریم کورٹ کے صدر کی حیثیت سے مانگی ہے اور کسی وکیل کا دفاع نہیں کیا۔

ہمارے نامہ نگار عبادالحق کا کہنا ہے کہ پیر کے روز لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے وکلا نے ضلع کے سشین جج کے مبینہ نامناسب رویہ پر احتجاج کرتے ہوئے انہیں عدالتی کام کرنے سے روک دیا اور ان کی عدالت کو تالا لگادیا ہے جبکہ ماتحت عدلیہ کے ججوں نے سیشن جج لاہور کے ساتھ اظہار کرتے ہوئے تمام ججوں نے عدالتی کام بند کردیا ہے اور انہوں نے اس ضمن میں پندرہ دنوں کی چھٹی کے لیے درخواستیں بھی دے دی ہیں۔

وکلا کا کہنا ہے کہ سشین جج لاہور کا وکیلوں کے ساتھ رویہ نامناسب ہے اور اسی رویہ کے خلاف لاہور بار ایسوسی ایشن نے ایک قرار داد بھی منظور کی ہے اسی لیے انہیں کام کرنے سے روکا گیا ہے ۔

لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر ساجد بشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی لاہور ہائی کورٹ کے سینئرترین جج جسٹس اعجاز احمد چودھری سے ملاقات ہوئی ہے جس کے بعد وکلا نے ہڑتال کا فیصلہ واپس کرلیا ہے اور اب تیرہ جولائی کو لاہور کے وکیل ہڑتال نہیں کریں گے جبکہ ماتحت عدلیہ کے جج بھی رخصت پر نہیں جائیں گے اور عدالتوں میں اپنے فرائض انجام دیں گے۔ان کے بقول سیشن جج لاہور زوار احمد شیخ عدالتی امور انجام نہیں دیں گے اور ان کی جگہ سینئر ترین ایڈیشنل سیشن کام کریں گے۔ صدر لاہور بار کا کہنا ہے کہ دو زور کے بعد دوبارہ اس معاملے پر بات ہوگی۔

پیر کی صبح وکلا سیشن جج لاہور زوار احمد شیخ کی عدالت میں گئے اور انہیں عدالتی کام کرنے سے روک دیا اسی دوران ماتحت عدلیہ کے دیگر جج بھی وہاں پہنچ گئے جس پر وکلا نے نعرہ لگانے شروع کردیئے ۔

پولیس نے صورت حال کشیدہ ہونے پر سشین جج اور دیگر ججوں کو سشین کورٹ سے نکلنے کے لیےبڑی گاڑیاں منگوائیں جن میں ماتحت عدالت کے ججوں کو بیٹھا کر وہاں نکالا جائے۔اس موقع پر مشتعل وکلا نے سیشن جج کے خلاف نعرے لگائے اور ان کی گاڑی پر پتھراؤ بھی کیا اور پانی کی خالی بوتلیں پھینکیں ۔تاہم تمام ججوں کو سیشن کورٹ سے ہائی کورٹ سے پہنچادیا گیا۔

لاہور بار ایسوسی ایشن کا چند روز پہلے ایک اجلاس ہوا جس میں کہا گیا کہ سیشن جج لاہور کا وکیلوں کے ساتھ رویہ نامناسب ہے اور سیشن جج لاہور کے خلاف ایک قرار داد بھی منظور کی اور ان کے رویہ کے خلاف ایوان عدالت سے سیشن کورٹ تک ایک ریلی بھی نکالی۔

بارایسوسی ایشن کے اس اقدام کے خلاف لاہور کی ماتحت عدلیہ کے ججوں نے اپنے سیشن جج کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ گئے اور ایک قرارداد رجسٹرار ہائی کورٹ کے آفس میں جمع کرائی۔

خیال رہے کہ کچھ عرصے میں یہ دوسرا موقع ہے جب ماتحت عدلیہ کے ججوں نے وکلا کے رویہ کے خلاف احتجاج کیا ہے اس سے پہلے پنجاب کے شہر فیصل آباد میں بھی ماتحت عدلیہ کے ججوں نے وکلا کے رویہ کے خلاف ہڑتال کرتے ہوئے عدالتی کام چھوڑ دیا اور لاہور کی ماتحت عدلیہ کے ججوں نے بھی ان کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہوئے عدالتی کام نہیں کیا تھا۔تاہم جج کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرنے والے وکیل نے غیر مشروط معافی مانگ لی تھی جس کے بعد ماتحت عدلیہ کے ججوں نے اپنی ہڑتال ختم کرتے ہوئے دوبارہ کام شروع کردیا تھا۔

اسی بارے میں