زندگی بچانے میں ایمبولینس کا کردار اہم

ایمبولنس ڈرائیور
Image caption صرف کراچی شہر میں کتنی ایمبولنس ہیں اسکا ریکارڈ کسی کے پاس نہیں ہے

پاکستان کے شہر کراچی کی شاہراہ فیصل ہو یا بندر روڈ ہر شاہراہ پر چیختی چلاتی ہوئی ایمبولینس نظر آتی ہیں، جن میں سوار ڈرائیور مریض کو ہپستال پہنچانے کی جستجو میں نظر آتے ہیں۔

انیس سو بانوے کا آپریشن ہو یا سنہ دو ہزار ایک سے پاکستان میں اٹھنے والی دہشت گردی کی لہر، نسلی ہنگامہ آرائی ہو یا فرقہ ورانہ ہلاکتیں ان سب واقعات میں ایمبولینس سروس اداروں کا کردار اہم رہا، ان اداروں نے کبھی کسی زخمی کی جان بچائی تو کبھی کسی کی میت ورثا تک پہنچانے میں مدد کی۔

ملک کے سب سے بڑے شہر میں ایمبولینس کا سب سے بڑا نیٹ ورک نجی ادارے چلاتے ہیں جن کے دفاتر ہر بڑے ہپستال کے علاوہ شہر کے مختلف علاقوں میں موجود ہیں جو ایک دوسرے سے وائرلیس سے منسلک ہیں، شہر میں کتنی ایمبولینس ہیں اس کا کوئی ریکارڈ کسی محکمے کے پاس موجود نہیں۔

اٹھائیس سالہ کاشف حسین گزشتہ چار سالوں سے ایدھی ویلفیئر کی ایمبولینس چلا رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس ملازمت میں آنے کے بعد انہوں نے یہ سیکھا ہے کہ مشکل وقت کا سامنا کیسے کیا جاتا ہے۔

ان کی ملازمت میں ان کے لیے اٹھارہ اکتوبر دو ہزار سات کا بم دھماکہ ناقابل فراموش ہے جب سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کے روز ان کے جلوس میں دھماکہ ہوا تھا۔’ دھماکے کے بعد کسی کی گردن تو کسی کا ہاتھ بکھرا ہوا تھا، یہ منظر میں نہیں بھول سکتا۔‘

ان کے مطابق کبھی کبھار ایسا بھی ہوا ہے کہ وہ کسی زخمی یا لاش اٹھانے پہنچے تو ان پر بھی فائرنگ کی گئی اور جان بچانے کے لیے انہیں چھپنا پڑا ۔ بقول ان کے ادارے کی جانب سے انہیں یہ سمجھایا گیا ہے کہ پہلے اپنی جان کی حفاظت کرو۔’مگر سامنے لاشیں پڑی ہوں تو ظاہر جانا پڑتا ہے۔‘

Image caption کاشف حسین کا کہنا ہے کہ بے نظیر بھٹو کی موت جس میں دھماکے میں ہوئی تھی اس دھماکے کا منظر وہ نہیں بھول سکتے ہیں

کاشف حسین شادی شدہ ہیں اور گارڈن کے علاقے میں رہتے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ خطرے کی وجہ سے گھر والے یہ کام چھوڑنے کے لیے کہتے ہیں مگر انہیں شوق بھی ہے اور انسانیت کی خدمت بھی ہے اس لیے وہ اس کام کو نہیں چھوڑ سکتے ۔

کسی بھی ادارے کی ایمبولینس کا ڈرائیور ہو، اسے ابتدا میں گھر والوں کی مزاحمت کا سامنا ضرور رہا ہے۔

اصغر پرویز کاشف سے عمر اور تجربے دونوں میں بڑے ہیں ان کے مطابق ہر وقت جان ہتھیلی پر ہوتی ہے۔ شہر میں کسی بھی جگہ جاتے ہیں تو جان ہتھیلی پر رکھ کر جاتے ہیں کیونکہ کبھی بھی کوئی بھی سانحہ پیش آسکتا ہے۔

اصغر نے پونے تین سو کے قریب لاشیں اور چھ سو کے قریب زخمی اٹھائے ہیں وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں انہوں نے اپنے لیے یہ ریکارڈ ذہن میں رکھا ہے۔

دہشت گردی کے واقعات میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کی حکومت یا نجی ادارے کچھ قدر مدد کرتے ہیں مگر زندگی داؤ پر لگانے والے ان ایمبولینس ڈرائیوروں کے لواحقین اس سے محروم رہتے ہیں۔

بارہ مئی واقعے سے لیکر مختلف واقعات اور حادثات میں صرف ایدھی ویلفیئر کے سات کے قریب ڈرائیور ہلاک ہوچکے ہیں، اصغر پرویز کا کہنا ہے کہ ایدھی ویلفیئر مالیاتی نہیں خیراتی ادارہ ہے انہیں اس سے زیادہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ کچھ ملے گا۔

ان نجی اداروں کی ایمبولینس پرانی ہوجائے تو تبدیل ہوجاتی ہیں مگر یہ رضاکار وہ ہی رہتے ہیں مگر جذبہ تازہ دم رہتا ہے ۔

قاسم شاہ کا کہنا ہے کہ وہ جذبے کے تحت کام کرتے ہیں اس کام میں خطرہ تو ہے مگر بچانے والی خدا کی ذات ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ پچھلے دنوں شاہ فیصل کالونی میں فائرنگ ہو رہی تھی، انہوں نے جان کی پرواہ کیے بغیر زخمیوں کو ہسپتال تک پہنچایا۔’یہ خدمت خلق کا کام ہے جو ہم شوق سے کرتے ہیں۔‘

اڑتالیس سالہ حبیب الرحمان کا تعلق کوہاٹ سے ہے وہ چھیپا ویلفیئر کی ایمبولینس چلا رہے ہیں، بقول ان کے باہر سے یہ کام آسان نظر آتا ہے مگر درحقیقت بہت مشکل ہے ’ یہ کام کرنے کے لیے قدرتی طور پر ایک جذبہ ہونا چاہیے اگر یہ جذبہ ہو تو کوئی مشکل نہیں الٹا یہ کام مزہ دیتا ہے اور دلی سکون ملتا ہے۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ گولیاں ان کے قریب سے گزر گئیں، ’ ناظم آباد میں کوئی نو ماہ قبل فائرنگ ہو رہی تھی، میں ایک زخمی کو لیکر آرہا تھا کہ گاڑی پر برسٹ چلایا گیا جس میں سے دو گولیاں گاڑی میں بھی لگیں مگر میں محفوظ رہا۔‘

حبیب الرحمان کا کہنا ہے کہ کراچی کے حالات خراب ہو رہے ہیں مگر عام آدمی کو پتہ نہیں چلتا وہ دن رات سڑکوں پر گھومتے ہیں اس لیے وہ دیکھ رہے ہیں کہ حالات بد سے بدتر ہو رہے ہیں ’ بے گناہ آدمی مر رہے ہیں کسی کو اس کے گناہ کا پتہ نہیں چلتا کہ وہ کیوں مر رہا ہے۔‘

ہر ڈرائیور کے پاس دل دہلانے اور پگھلانے والی کہانیاں موجود ہیں، کوئی اٹھارہ اکتوبر تو کوئی بارہ مئی یا عاشورہ بم دھماکے کا چشم دید گواہ ہے، کسی کو بچے کی لاش سے بہتے ہوئے خون نے رلا ڈالا تو کسی کی لاوارث بزرگ کی لاش دیکھ کر آنکھیں نم ہوگئیں۔

حبیب الرحمان بتاتے ہیں ’اجمیر نگری میں ایک چار سال بچہ گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا ، یقین کریں جب اسے غسل کے لیے لے گئے تو غسل والے جو خستہ اور عجیب عجیب سی میتیں دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں مگر اس معصوم بچے کی میت نے سب کو رلا ڈالا۔ وہ سب یہ کہ رہے تھے اس کو بھی گولی ماردی اسے بھی نہیں بخشا۔‘

اسی بارے میں