زرداری تشدد: رانا مقبول کی درخواست مسترد

فائل فوٹو، سپریم کورٹ
Image caption مقدمے کی منتقلی سے متعلق ایسی کوئی درخواست بینچ کے سامنے موجود نہیں ہے: بینچ کے سربراہ

سپریم کورٹ نے صدر آصف علی زرداری پر دورانِ حراست تشدد سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سندھ پولیس کے سابقِ سربراہ اور پنجاب کے پراسیکیوٹر جنرل رانا مقبول کی درخواست مسترد کردی ہے۔

رانا مقبول سابقِ وزیر اعظم میاں نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں سندھ پولیس کے سربراہ بھی رہے ہیں جس دوران کراچی میں پولیس کے تفتیشی سیل میں منتقل کر کے آصف علی زرداری پر جسمانی تشدد کا واقعہ رونما ہوا تھا۔

جسٹس تصدیق حسین جیلانی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پنجاب کے محکمہ پراسیکیوشن کے سربراہ رانا مقبول کی سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی تو درخواست گُزار کے وکیل اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ کے سابق جج پیر علی شاہ کا اُن کے موکل کے خلاف مقدمے کی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ بدنیتی پر مبنی تھا۔

انہوں نے کہا کہ مزکورہ جج اُن ججوں میں شامل تھے جنہوں نے عبوری آئینی حکمنامے کے تحت حلف اُٹھایا تھا بعدازاں اُنہیں اکتیس جولائی سنہ دوہزار نو کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اُن کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ کراچی کی ایڈیشنل شیشن جج نے اُن کے موکل کو اس مقدمے سے بری کر دیا تھا جبکہ اڑھائی سال کے بعد آصف علی زرداری نے اس فیصلے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جو منظور کر لی گئی۔

ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک کا کہنا ہے کہ بینچ میں شامل جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ سے متعلق عدالتی تحقیقات بھی ہوئیں تھیں جس میں اکتیس گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے تھے جن میں اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والے پولیس افسران نے کسی گواہ کو طلب نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ضابطہ فوجداری میں یہ کہیں نہیں لکھا ہوا کہ کسی ماتحت عدالت میں مقدمہ زیر سماعت ہو اور عدالت عالیہ یا عدالت عظمیٰ اُس ایف آئی آر کو ختم کردے۔

اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ اگر آصف علی زرداری کی درخواست ڈھائی سال کے بعد منظور ہو سکتی ہے تو پھر سندھ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف اُن کے موکل کی درخواست منظور کیوں نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری اور رانا مقبول کے درمیان کوئی مقابلہ نہیں ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ عدالت کی شخص کے عہدے کو مدنظر نہیں رکھے ہوئے بلکہ اُس کے سامنے قانون ہےاور عدالت قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے گی۔

انہوں نے اکرم شیخ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آیا اُن کے موکل نے اپنے آپ کو کسی عدالت کے سامنے پیش کیا ہے جب کہ کراچی کی ایک عدالت نے اُنہیں اشتہاری بھی قرار دیا ہے۔

رانا مقبول کے وکیل کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ کراچی آئے تو یا اُنہیں جھوٹے مقدمے میں پھنسا دیا جائے گا یا پھر ٹارگٹ کلنگ میں مار دیا جائے گا لہذا اگر یہ مقدمہ وفاق، خیبر پختونخوا صوبہ بلوچستان میں منتقل کردیا جائے تو اُن کا موکل اس مقدمے کا سامنا کرنے کو تیار ہے۔

بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مقدمے کی منتقلی سے متعلق ایسی کوئی درخواست بینچ کے سامنے موجود نہیں ہے۔

اس مقدمے میں پانچ افراد کو نامزد کیا گیا ہے جس میں سے سابق جیل سپرنٹینڈنٹ کراچی نجف علی مرزا عدالت میں پیش ہو رہے ہیں جبکہ باقی چار ملزمان کو اشتہاری قرار دیا ہوا ہے اس میں سابق آئی جی سندھ رانا مقبول، احتساب بیورو کے سابق سربراہ سیف الرحمٰن، اُن کے بھائی مجیب الرحمٰن اور سابق ڈئی آئی جی فاروق امین قریشی شامل ہیں۔

یاد رہے کہ ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے مئی انیس سو ننانوے میں آصف علی زرداری کو سینٹرل جیل سے سی آئی اے سینٹر سول لائن منتقل کر کے تشدد کا نشانہ بنایا۔ جس میں آصف علی زرداری کی زبان بھی زخمی ہوئی تھی لیکن پولیس کا موقف تھا کہ آصف علی زرداری نے اپنی زبان کو خود ہی زخمی کیا ہے۔

ٹربیونل کی رپورٹ کی روشنی میں آصف علی زرداری پر تشدد کے الزام میں سیف الرحمان، مجیب الرحمان، رانا مقبول اور دیگر کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا مگر پولیس نے عدالت میں رپورٹ پیش کی تھی کہ ملزمان کے خلاف شواہد نہیں مل سکے جس پر عدالت نے انہیں بری کر دیا۔

رانا مقبول کو پنجاب کے پراسیکیوشن محکمے کا سربراہ مقرر کرنے پر مرکز اور پنجاب میں اختلافات نظر آرہے ہیں۔حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ مزکورہ سابق پولیس افسر ایک مقدمے میں اشہتاری ہے اس لیے اُسے سندھ پولیس کے حوالے کیا جائے جبکہ اس ضمن میں پنجاب حکومت کی طرف سے کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے رانا مقبول کو قبل از گرفتاری کی ضمانت دی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں