پانی تنازعہ: اجلاس طلب

گیلانی
Image caption وزیر اعظم نے سندھ کابینہ کو یقین دلایا ہے کہ مالیاتی ایوارڈ کی طرح پانی کی تسقیم کا تنازعہ بھی اتفاق رائے سے حل کیا جائےگا

پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے پنجاب اور سندھ کے صوبوں کے درمیاں پانی کا تنازعہ حل کرنے کے لیے دونوں صوبوں کے وزراء اعلی کا اجلاس منگل کو اسلام آباد میں طلب کرلیا ہے۔

وزیراعظم نے پیر کے روز کراچی میں سندھ کابینہ کے اجلاس میں شرکت کی جہاں بعض وزراء نے انہیں صوبے میں زرعی پانی کی کمی پر ہونے والے احتجاج سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں پانی اور بجلی کے وفاقی وزیر اور بعض صوبائی وزراء کے درمیاں لفظی جھڑپ بھی ہوئی جس کے بعد پانی پر بریفنگ ملتوی کردی گئی۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کا موقف ہے کہ ملک کے بڑے صوبے پنجاب نے زرعی مقاصد کے لیے پانی کی کمی کے دنوں میں چشلم جہلم لنک کنال بغیر اجازت کھول دیا ہے جو صرف سیلاب کے دنوں میں اضافی پانی میسر ہونے کی صورت میں کھولنا ہوتا ہے۔ پنجاب اس کنال کے ذریعے بیس ہزار کیوسک پانی لے رہا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار نثار کھوکھر نے بتایا ہے کہ سندھ کابینہ کا خصوصی اجلاس پیر کو وزیراعلی ہاؤس کراچی میں ہوا۔ اجلاس میں تھر کول کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی نمائندوں نے بریفنگ دی جبکہ امن و امان کے حوالے سے داخلہ امور کے وفاقی اور صوبائی وزراء نے کابینہ کو آگاہ کیا ہے۔

اجلاس میں شریک صوبائی وزیر سسئی پیلیجو نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پانی اور بجلی کے وفاقی وزیر راجا پرویز اشرف اور ان کے درمیاں پانی کی کمی کے حوالے سے تلخ کلامی ہوئی اور صوبائی محکمہ آبپاشی کے وزیر کو بریفنگ کی اجازت نہیں دی گئی۔

سسئی پلیجو کے مطابق جب صوبائی وزیر آبپاشی کو بریفنگ کا موقع نہیں ملا تو وہ اٹھیں اور انہوں نے وفاقی وزیر سے جواب طلب کیا کہ ان کی وزارت چشما جہلم لنک کنال کھولنے پر خاموش کیوں رہی ہے۔ سندھ کابینہ کے اجلاس میں چشما جہلم لنک کنال کھولنے پر وزیراعظم کے سامنے احتجاج کیا گیا۔ صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ پنجاب نے سندھ حکومت کی رضامندی حاصل کیے بغیر چشما جہلم لنک کینال زرعی مقاصد کے لیے کھول دیا ہے اور اس کینال سے روزانہ بیس ہزار کیسوک پانی لیا جا رہا ہے جبکہ سندھ کے تمام شہروں میں روزانہ پانی کی کمی کے خلاف احتجاج ہو رہے ہیں اور لوگ سڑکوں پر آرہے ہیں۔صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کے خلاف سازش ہورہی ہے تاکہ ’اس صوبے میں ہمیں بدنام کیا جائے جو پیپلزپارٹی کا گڑھ ہے۔‘

دوسری جانب صوبائی مشیر اطلاعت جمیل سومرو کا کہنا ہے کہ اجلاس میں پانی کی کمی پر تفصیلی بات کی گئی اور وزیراعظم نے دونوں صوبوں کے وزراء اعلی کا اجلاس منگل کو اسلام آباد میں طلب کیا ہے۔

خیال رہے کہ دریاء سندھ میں پانی کی تقسیم کے وفاقی ادارے یعنی ’اِرسا‘ میں پنجاب کے نمائندے اور قائم مقام چیئرمین ارسا نے گزشتہ ہفتے چشما جہلم لنک کنال کھولنے کی ہدایت جاری کی تھی۔ ارسا میں سندھ اور وفاق کے نمائندوں نے پنجاب کا چشما جہلم لنک کنال کھولنے کے فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے استعفی دے دیا ہے۔ خیبر پختونخواہ کے نمائندے پہلے ہی مستعفی ہوچکے تھے۔

صوبائی مشیر کے مطابق وزیر اعظم نے سندھ کابینہ کو یقین دلایا ہے کہ مالیاتی ایوارڈ کی طرح پانی کی تسقیم کا تنازعہ بھی اتفاق رائے سے حل کیا جائےگا۔

اسی بارے میں